| 88449 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک خاتون جو تین بچوں کی ماں ہے، اس کے شوہر نے غصے میں کہا: "اگر تم اپنی بڑی بہن کے گھر گئی تو تمہیں ایک طلاق" اس کے بعد وہ اپنی بہن کے گھر ایک دفعہ چلی گئی۔ خاتون اپنی بہن کے گھر سے واپس آنے کے بعد کچھ عرصہ تک حالات نارمل چلتے رہے، لیکن ایک دن پھر شوہر نے غصے میں آکر کہا: "اگر تم اپنی بڑی بہن کے گھر گئی تو تمہیں تین طلاق ہو جائیں گی"۔
اب جبکہ حالات میاں بیوی کے درمیان سازگار ہیں تو شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے: "تم اپنی بڑی بہن کے گھر جاؤ، کوئی مسئلہ نہیں، اس وقت میں نے غصے میں کہا تھا"۔
اس مسئلہ کے بارے میں شرع شریف کی روشنی میں رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔ واضح رہے کہ اس مسئلہ کے حوالے سے 25/7/28 کو بھی دارالافتاء جامعہ ہذا سے فتویٰ حاصل کیا گیا تھا، لیکن سوال میں کمی رہ گئی تھی، اس لیے دوبارہ پوچھ رہا ہوں۔ اس تحریر کے ساتھ سابقہ فتویٰ بھی موجود ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کا نیا اور سابقہ بیان بغور پڑھا گیا۔ اس نئے بیان سے سابقہ فتویٰ کے حکم پر کوئی خاص فرق یا اثر نہیں پڑتا۔ اس نئے بیان میں بس یہ نئی بات ہے کہ تعلیق ایک نہیں بلکہ دو ہوئی ہیں۔ پہلے ایک طلاق کی تعلیق ہے جس کی شرط بہن کے گھر جانا پائی گئی، جس سے ایک طلاق واقع ہوئی، پھر اکٹھے رہنے سے رجوع ہوگیا۔ اس کے بعد دوبارہ تعلیق تین طلاق کے ساتھ ہوئی ہے جس کی شرط ابھی نہیں پائی گئی، لہٰذا اس دوسری شرط کے ساتھ معلق طلاقیں ابھی واقع نہیں ہوئیں۔
لیکن شوہر حالات نارمل ہونے پر بیوی کو بہن کے گھر جانے کی اجازت دینا چاہتا ہے اور اس تعلیق سے رجوع کرنا چاہتا ہے، مگر شرعاً طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کے بعد اس تعلیق سے رجوع کرنا درست نہیں ہوتا۔ لہٰذا اجازت کے باوجود بھی اگر مذکورہ شخص کی بیوی بہن کے گھر جائے گی تو دو مزید طلاقیں واقع ہو کر کل تین ہوجائیں گی اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی۔ پھر حلالہ کے بغیر نہ رجوع ہوسکے گا اور نہ نیا نکاح۔
اگر مذکورہ شخص حرمتِ مغلظہ سے بچنا چاہتا ہے تو اس کا حل اب بھی وہی ہے جو سابقہ فتویٰ میں درج کیا گیا تھا: کہ شوہر پہلے مذکورہ بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے، پھر بیوی عدّت مکمل کرے۔ عدّت کے بعد، چونکہ وہ شوہر کے نکاح میں نہیں ہوگی، اس لیے وہ اپنی بڑی بہن کے گھر چلی جائے، جس سے شرط پوری ہوجائے گی اور بیوی نہ ہونے کی وجہ سے مزید طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اس کے بعد دونوں شرعی طریقے سے نیا نکاح کرکے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کریں۔
البتہ اس صورت میں شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط ضروری ہوگی۔
حوالہ جات
الهداية (ص: 243) :
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا .
في الدر المحار ( ۳۷۲/۳):
فحيلته من علق الطلاق الثلاث بدخول الدار ان يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخل تنحل اليمين فينكحها.
فی الھندیۃ :
و لو قال لھا اذا دخلت الدار أو کلمت فلانا أو صلیت الظھر اذا جاء رأس الشھر فانت طالق ثنتین ( الی قولہ ٰ) لان الرجوع عن التعلیق لا یصح فلا یمکنہ التدارک الخ ( باب فی الاقرار بالنکاح ، ج 4 ، ص 209 .
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا تم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ) .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/2/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


