| 88413 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
سوال یہ ہے کہ میں کینسر کا مریض ہوں اور میرے پاس مالی وسعت نہیں ہے کہ میں اس کا علاج کروا سکوں، کیونکہ کینسر کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، کیا میں زکوة کی رقم لے کر اس سے علاج کروا سکتا ہوں؟ جبکہ میری ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد گھریلو سامان بھی نہیں ہے، اب ایک صاحب زکوة کی مد سے انجیکشن خرید کر دینا چاہتے ہیں، از راہ کرم تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر آپ کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد گھریلو سامان نہیں ہے اور آپ ہاشمی سید بھی نہیں ہیں تو اس صورت میں آپ زکوة کی رقم لے کر اپنا علاج کروا سکتے ہیں، بشرطیکہ زکوة دینے والا شخص آپ یا آپ کے وکیل کو یہ رقم مالک بنا کر دے، یا یہ کہ اس رقم سے دوائی یعنی انجیکشن وغیرہ خرید کر آپ یا آپ کے نمائندےکے حوالے کر دے تو بھی زکوة ادا ہو جائے گی۔
حوالہ جات
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي. والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء؛ إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. ....... ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
یکم ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


