| 88471 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا نام ......... زوجہ ............ ہے، میں بلدیہ ٹاؤن کی رہائشی ہوں،میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے سسر نے میرے شوہر سے زبردستی طلاق کے کاغذات پر دستخط کروائے ہیں۔
میرے شوہر کے والد نے مجھے طلاق کے قانونی کاغذات بھجوائےہیں ،جس پر انہو ں نے میرے شوہر سے زبردستی دستخط کروائےہیں، نہ ان کی مجھے چھوڑنے کی نیت تھی ، نہ وہ چھوڑنا چاہتے تھے، انہو ں نے زبانی الفاظ نہیں بولے،صرف دستخط کئے ہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ان کاغذات میں لکھا کیا ہے، نہ انہوں نےکاغذات بنوائے، جو کیا ان کے والد نے کیا ،انہوں نے بہت کوشش کی دستخط نہ کرنےکی،لیکن ان کی والدہ انہیں دهمكیاں دے رہی تھی، انہیں معلوم تھا کہ اگر انہوں نے دستخط نہیں کئے تو ان کی والدہ اپنے ساتھ کچھ کر لے گی ۔
ہماری شادی وٹہ سٹہ پر ہوئی تھی، میرے بھائی نے کسی وجہ سے میری بھابھی کو زبانی تین طلاقیں دے دی تھیں،اس کے بعد سے ہی میرے سسرال والوں نے مجھے طلاق دلوانی چاہی، لیکن میرے شوہر راضی نہیں تھے، ہم دونو ں نے اپنا رشتہ بچانے کی بہت کوشش کی، بھائی کی طلاق کے دو ماہ بعد میرے سسر نے کاغذات بنوائے اور میرے شوہر سے جبراً دستخط کروائے، ہم میاں بیوی ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، ہماری راہنمائی فرمائیں کہ کیا ہماری طلاق واقع ہو گئی ہے؟
کیونکہ اگر میرے شوہردستخط نہ کرتے تو انہیں یقین تھا کہ ان کی والدہ خود کو نقصان پہنچادیتی اور اس کی فیملی اسےجائیدادسے بے دخل کرکے اس سے ہر قسم کا تعلق ختم کردیتی،طلاق کے کاغذات پر دستخط کرنے کے بعد ان کی کوشش تھی کہ کاغذات مجھ تک نہ پہنچ پائے ،لیکن ان کے والد نے زبردستی بھجوائے،میں نے بھی ابھی تک ان کاغذات کو کھول کر نہیں دیکھا ،نہ میرے شوہر نے انہیں پڑھا تھا کہ ان میں کیا لکھا ہے،میرے گھر والوں کو بھی معلوم ہے کہ میرے شوہر نے مجبوری میں دستخط کئے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ لوگ مجھے عدت کے لئے مجبور کررہےہیں،اس تفصیل کے روشنی میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دباؤ اور جبر میں دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا ہم میاں بیوی پہلے کی طرح رہ سکتے ہیں؟اگر رجوع کرنا ضروری ہو تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟
تنقیح :طلاق نامے میں تین بار درج ذیل جملہ لکھا گیا ہے:
میں .........شاہ ولد .........شاہ اپنی زوجہ ..........بنت ......... کو طلاق دیتا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کے شوہر کو اس بات کا یقین یا غالب گمان تھا کہ اگر وہ طلاق نامے پر دستخط نہ کرتا تواس کی والدہ خود کشی کا اقدام کرلیتی یا خود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچادیتی ،پھر تومذکورہ صورت میں زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبوراً محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ جبراً دلوائی گئی تحریری طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی۔
لیکن اگراس کی والدہ نے محض اس پر دباؤ ڈالنے کے لئے خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی اور اس کو اس بات کا یقین یا ظن غالب تھا کہ اگر وہ طلاق نامے پر دستخط نہ کرتا تو اس کی والدہ عملی طور پر خود کشی کا اقدام نہیں کرتیں تو پھرمذکورہ صورت کاحکم درج ذیل ہوگا:
اگر آپ کے شوہرکو اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ جس طلاق نامے پر وہ دستخط کررہا ہے،اس میں تین طلاقیں درج ہیں،بلکہ اس نے ایک طلاق کی نیت سے دستخط کئےتھے تو قضاءً پھر بھی تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،البتہ دیانةً ایک رجعی طلاق واقع ہوئی ہے۔
قضاء واقع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی اس طلاق نامے کو دلیل بنا کے کہہ دے یا کورٹ میں پیش کرے کہ اس کو تین طلاقیں ہوئی ہیں ، تو اس کی بات معتبر ہوگی، البتہ اگرشوہر اس بات پر حلف اٹھائے کہ اسے طلاق نامہ میں درج طلاقوں کی تعداد کا علم نہیں تھا ،تو ایسی صورت میں دیانۃً صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگی ، دیانۃ ًکا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کو شوہر کے حلفیہ بیان پر اطمئنان ہوتو بیوی اس کے مطابق عمل کرسکتی ہے، اس صورت میں عدت کے اندر شوہر زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے، نئے نکاح کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر شوہر نے عدت کے اند رجوع نہیں کیا، تو عدت گزرتے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، اور مطلقہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،لیکن اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہیں، توکم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔
لیکن اگر انہوں نے طلاق نامہ پڑھ کراس پر دستخط کئے ،یا انہیں اس بات کا علم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں توپھر اس طلاق نامے پر دستخط کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جن کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ،فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (1/ 379):
"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
"الدر المختار " (6/ 129):
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".
"البحر الرائق " (3/ 264):
"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".
"الفتاوى الهندية "(1/ 379):
"في المنتقى لو كتب كتابا في قرطاس وكان فيه إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق ثم نسخه في كتاب آخر أو أمر غيره أن يكتب نسخة ولم يملل هو فأتاها الكتابان طلقت تطليقتين في القضاء إذا أقر أنهما كتاباه أو قامت به بينة وأما فيما بينه وبين الله تعالى فيقع عليها تطليقة واحدة بأيهما أتاها ويبطل الآخر لأنهما نسخة واحدة .
وفيه أيضا :رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له :اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم تقم عليه البينة ولم يقر أنه كتابه لكنه وصف الأمر على وجهه فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبينﷲ تعالى وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه ،كذا في المحيط وﷲ أعلم بالصواب".
"رد المحتار" (3/ 250):
"لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
01/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


