| 88459 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے اپنی وائف کو کسی سے میسج پر بات کرتے ہوئے پکڑا تو میں نے گھر جاکر اپنے والدین کو بتایا،جس پر میرے والد نے کہا کہ اسے چھوڑد،میں نے والد سے کہا کہ میں اسے ایک موقع دینا چاہتا ہوں،لیکن میرے والد نے میری نہیں سنی اور میرے چچا کو بلایا،چچا نے اسٹامپ پیپر لکھ دیا جو ساتھ لف ہے،مجھ سے کہاکہ اسے پڑھو،میں نے پڑھنے سےانکار کیاتو انہوں نے کہا :دستخط کردو،میں دباؤ تھا،سو دستخط کردیا،لیکن میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں،نہ میں نے اسٹامپ پیپر پڑھا اور نہ میں بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھااور نہ میں نے زبان سے طلاق کے الفاظ بولے،میری نو ماہ کی بیٹی بھی ہے۔
واضح رہے کہ والد صاحب میرے چچا کو خود لے کر آئےاور ان سے طلاق نامہ لکھنے کا کہا،چچانے بھی کہا: اسے ایک موقع دے دیں،لیکن والد نے زور دیا کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو،چنانچہ چچا نے طلاق نامہ لکھا اور میں نے دستخط کردیئے،کیونکہ دستخط نہ کرنے کی صورت میں والد نے مجھے دھمکی دی تھی کہ تم اس بیوی کو میرے گھر میں نہیں رکھ سکتے،میں اپنے گھر میں تمہاری بیوی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا،اب اس بارے میں کیا حکم ہے،میری تعلیم میٹرک ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جبراً دلوائی گئی تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی اور طلاق واقع نہ ہونے کے لیے قتل ،یا ایسی مارپیٹ کی دھمکی ضروری نہیں جس سے کسی عضو کے تلف ہونے یا معذور ہونے کا اندیشہ ہو،جسے فقہ کی اصطلاح میں اکراہِ تام یا ملجئ کہا جاتا ہے،بلکہ اس حوالے سے اکراہِ ناقص بھی کافی ہے،جیسا کہ درج ذیل جزئیہ سے معلوم ہوتا ہے جس میں اس کی تصریح ہے کہ اگر کسی کو ضرب و حبس کے ذریعے کتابتِ طلاق پر مجبور کیا گیا تو طلاق واقع نہ ہوگی،کیونکہ ضرب وحبس سے فقہاءکرام اکراہ ناقص مراد لیتے ہیں،اکراہ تام کے لیے قتل یا قطع کے الفاظ استعمال کرتے ہیں:
"الفتاوى الهندية" (1/ 379):
"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):
"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
"رد المحتار" (6/ 128):
"(قوله: وهو نوعان) أي الإكراه، وكل منهما معدم للرضا لكن الملجئ، وهو الكامل يوجب الإلجاء، ويفسد الاختيار فنفي الرضا أعم من إفساد الاختيار والرضا بإزاء الكراهة، والاختيار بإزاء الجبر ففي الإكراه بحبس أو ضرب لا شك في وجود الكراهة وعدم الرضا وإن تحقق الاختيار الصحيح إذ فساده إنما هو بالتخويف بإتلاف النفس، أو العضو ".
اور اکراہِ ناقص کے تحقق کے لیے ضرب و حبس یعنی مارپیٹ اور قید کی دھمکی ضروری نہیں،بلکہ اس کے علاوہ بھی کسی پر ایسے طریقے سے دباؤ ڈالنے سے اکراہِ ناقص کا تحقق ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شخص بادلِ ناخواستہ اس کام پر مجبور ہوجائے،جیسا کہ درج ذیل عبارات سے معلوم ہوتا ہے:
"الدر المختار " (6/ 129):
"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال".
"الدر المختار " (6/ 141):
"(خوفها الزوج بالضرب حتى وهبته مهرها لم تصح) الهبة (إن قدر الزوج على الضرب) وإن هددها بطلاق أو تزوج عليها أو تسر فليس بإكراه خانية وفي مجمع الفتاوى: منع امرأته المريضة عن المسير إلى أبويها إلا أن تهبه مهرها فوهبته بعض المهر فالهبة باطلة، لأنها كالمكره.
قلت: ويؤخذ منه جواب حادثة الفتوى: وهي زوج بنته البكر من رجل فلما أرادت الزفاف منعها الأب إلا أن يشهد عليها أنها استوفت منه ميراث أمها فأقرت ثم أذن لها بالزفاف فلا يصح إقرارها لكونها في معنى المكرهة وبه أفتى أبو السعود مفتي الروم قاله المصنف في شرح منظومته تحفة الأقران في بحث الهبة".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله: فليس بإكراه) لأن كل فعل من هذه الأفعال جائز شرعا والأفعال الشرعية لا توصف بالإكراه ط. قلت: نعم ولكن يدخل عليها غما يفسد صبرها، ويظهر عذرها وقد مر أن البيع ونحوه يفسد بما يوجب غما بعدم هذه الرضا، ويدل عليه ما يذكره بعده، فإن منع المريضة عن أبويها ومنع البكر عن الزفاف لا يغمها أكثر من الأفعال ولكن لا مدخل للعقل مع النقل. هذا وقدمنا أن ظاهر قولهم " الزوج سلطان زوجته " أنه يكفي فيه مجرد الأمر حيث كانت تخشى منه الأذى والله تعالى أعلم. (قوله: وبه أفتى أبو السعود) وكذلك الرملي وغيره ونظمه في فتاواه بقوله: ومانع زوجته عن أهلها ... لتهب المهر يكون مكرها
كذاك منع والد لبنته ... خروجها لبعلها من بيته
ثم قال: وأنت تعلم أن البيع والشراء والإجارة كالإقرار والهبة وأن كل من يقدر على المنع من الأولياء كالأب للعلة الشاملة فليس قيدا، وكذلك البكارة ليست قيدا كما هو مشاهد في ديارنا من أخذ مهورهن كرها عليهن حتى من ابن ابن العم وإن بعد وإن منعت أضر بها أو قتلها اهـ".
مذکورہ صورت میں طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں والد نےآپ کو گھر سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ کو یقین یا غالب گمان تھا کہ اگر آپ طلاق نامے پر دستخط نہیں کرتے تو والد آپ کو گھر سے نکال دیتےاور والد کے گھر سے نکالنے کی صورت میں آپ کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام ممکن نہیں تھا یا بہت مشکل تھاتو پھر مذکورہ صورت میں زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبوراً محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
بصورت دیگر یعنی آپ کو یقین یا غالب گمان تھا کہ طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں وہ آپ کو گھر سے نہیں نکالتے،صرف زبانی کلامی دھمکی دے رہے ہیں،یاوالد کے گھر سے نکالنے کی صورت میں آپ کے لیےعلیحدہ رہائش کا بندوبست زیادہ مشکل نہ تھا تو پھر مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ۔
"البحر الرائق " (3/ 264):
"وقيدنا بكونه على النطق ؛لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب ،لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية :أكره على طلاقها فكتب :فلانة بنت فلان طالق ،لم يقع اهـ".
حوالہ جات
......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
01/ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


