03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کا آڑھتی کے کمیشن میں سے حصہ لینا
88461اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

1۔آج کل منڈی میں یہ طریقہ رائج ہے زمیندار خود مال برائے فروخت منڈی نہیں بھیجتے،بلکہ ایک آدمی جس پر تمام زمینداروں کا اعتماد ہے سب کا مال جمع کر کے کسی منڈی میں فروخت کیلئے لاتا ہے،منڈی کی اصطلاح میں اس آدمی کو کمپنی کہا جاتا ہے ۔ یہ کمپنی اس خدمت کے عوض مال کے فروخت ہونے کے بعد متعین یا کمیشن کی صورت میں زمینداروں سے اجرت لیتا ہے۔

مذکورہ کمپنی جب منڈی میں کسی غیر متعین آڑھتی کے پاس مال برائے فروخت لاتا ہے توآڑھتی سے کہتا ہے کہ آپ کو جو مروجہ کمیشن مال فروخت کرنے کے بدلے میں ملے گا مجھے بھی اپنے ساتھ اس کمیشن میں کچھ حصہ دو گے " آڑھتی اس شرط کو قبول کر کے مال کے فروخت ہونے کے بعدمنڈی کے مروجہ کمیشن میں اس کو اپنے ساتھ شریک کر کے حصہ دیتا ہے، کیا یہ صورت جائز ہے ؟

2۔ کبھی کمپنی زمینداروں سے کسی قسم کی اجرت یا کمیشن نہیں لیتا بلکہ صرف آڑھتی کے ساتھ کمیشن میں شریک ہو جاتا ہے ، کیا یہ صورت جائز ہے ؟

3۔ کبھی کمپنی دیگر زمینداروں کے ساتھ اپنا مال بھی برائے فروخت آڑھتی کے پاس لاتا ہے جو کہ دیگر اموال کے ساتھ آڑھتی کے سپردکرتا ہے اور کمیشن میں آڑھتی کے ساتھ شریک ہوتا ہے، کیا یہ صورت جائز ہے؟

تنقیح:

کمپنی کی ذمہ داری یہ ہے کہ زمینداروں کے اموال کیلئے گاڑیوں کا انتظام کرنا، مال منڈی تک پہنچانا، یہاں ان اموال کیلئے آڑھتی ( دکاندار جو اپنی دکان میں مال اتار کر بولی لگا کر مروجہ کمیشن پر فروخت کرتا ہے) کے ساتھ عقد کرنا، ان آڑھتیوں سے پیسہ وصول کر کے ، بقیہ اخراجات نکال کر صافی منافع زمیندار تک پہنچانا، یہ سب کمپنی کی ذمہ داری ہے اور اس کو اس کے بدلے میں زمیندار الگ اجرت اور کمیشن دیتا ہے.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔اگر سوال میں موجود امورکمپنی کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں،اور وہ زمیندار سے ان تمام کی پوری اجرت طے کرکے لیتا ہےتو پھر الگ سے زمیندار سے کمیشن کے نام پر ان چیزوں کے لیے رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

اوراگر اس کے ذمہ فقط سامان پہنچانا ہے ،اس کی وہ اجرت لیتا ہے،دیگر امور اس کی طے شدہ ذمہ داریوں میں نہیں آتے ہیں،پھروہ زمیندار کی سہولت کےلیے متعین إٓڑھتی کو تلاش کرکے اس کے ساتھ کمیشن پر مال بکوانے کا معاملہ طے کرکے مال اس کے حوالے کردیتا ہے،تو اس کو دونوں جانب سے  کمیشن لینے کی گنجائش ہے۔

پھر اگرآڑھتی خود وکیل بالاجر ہو یعنی وہ زمیندار کا مال آگے کسی اور کو بیچ کر کمیشن لیتاہو تو  اس صورت میں اس کے   لیے اپنےکمیشن میں کمپنی کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی  گنجائش ہے۔

اوراگر آڑھتی  اپنے لیے مال خریدتاہوتوایسی صورت میں چونکہ إٓڑھتی کےلیے زمیندار سے کمیشن لینادرست نہیں ہے ،اس لیے کمپنی آڑھتی سے اپنے لیے الگ سے (خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے)کمیشن کی ادائیگی کا مطالبہ کرے،آڑھتی کو زمیندار سے ملنے والے کمیشن میں شریک نہ ہو۔

2۔اوپر ذکرکردہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اگر کمپنی کی حیثیت کمیشن ایجنٹ کی ہے ،نیز آڑھتی اپنے لیے سامان نہیں خرید رہا، بلکہ زمیندار کی جانب سےوکیل اور عاقد ہے تو کمپنی کےلیے آڑھتی سے کمیشن لینا یا اس کو زمیندار کی جانب سے ملنے والے کمیشن میں شریک ہونا درست ہے،البتہ اگر إٓڑھتی اپنے لیے خرید رہا ہے تو پھر کمپنی کو آڑھتی سے الگ کمیشن لینے کی گنجائش ہوگی،اس کمیشن میں آڑھتی کے ساتھ شریک نہ ہو جوإٓڑھتی کو زمیندار کی طرف سے ملتا ہے،اس لیے کہ اس صورت میں آڑھتی کےلیے زمیندار سے کمیشن لینا درست نہیں ہے۔

3۔ اگر کمپنی دوسرے زمینداروں کے اموال کے ساتھ اپنا مال بھی آڑھتی کے پاس فروخت کے لیے پیش کرتاہے تو اپنے سامان کی حد تک وہ کمیشن نہیں لے سکتا،البتہ آڑھتی کے ساتھ یہ طے کرسکتا ہے کہ کمپنی سے اس کے مال پر کم کمیشن وصول کرے،جبکہ دوسروں کے مال  سے متعلق  کمیشن کی  تفصیل اوپر ذکر ہوچکی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (6/ 63):

مطلب في أجرة الدلال: ( تتمة) قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

 جامع الفصولين (2/ 114):

الدلال إذا باع العين بنفسه بإذن مالكه ليس له أخذ الدلالية من المشتري إذ هو العاقد حقيقةً، وتجب الدلالية على البائع إذ قبل بأمر البائع، ولو سعى الدلال بينهما فباع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالية على البائع أو على المشتري أو عليهما بحسب العرف

درر الحکام شرح مجلة الاحکام( 3/26۔524):

مادة (1449)ـــ: (الوکالة هی تفویض أحد فی شغل لآخر وإقامته مقامه فی ذلك الشغل، ویقال لذلك الشخص موکِّل، ولمن أقامه وکیل، ولذلك الأمر موکَّل به………الخ

 مادة (1450) ـــ: (الرسالة هی تبلیغ أحد کلام الآخر لغیره من دون أن یکون له دخل فی التصرف، ویقال للمبلِّغ رسول، ولصاحب الکلام مرسِل، وللآخر مرسَل إلیه)….. والحاصل أن الوکیل هو من باشر العقد، والرسول هو مبلغ مباشرة العقد، وشرط الرسالة أن یضاف العقد إلی المرسل، یعنی أن یقول الرسول: إنی مرسَل وإنی بعتك هذا المال بکذا (تکملة رد المحتار)….. والوکیل لایجبر علی إضافة العقد، فإن شاء أضاف العقد إلی نفسه ویجری حکم الوکالة فی هذا الحال، وإن شاء أضافه إلی موکله، وعلی هذه الصورة یراعی حکم الرسالة، أما الرسول فیجبر علی إضافة العقد إلی مرسله. الفرق بین الرسالة والوکالةـــ:یوجد بین الوکالة (والرسالة) فرق علی خمسة وجوه:

 1 - الفرق من حيث الماهية قد ذكر في المادتين السالفتي البيان.

 2 -تعود حقوق العقد في الوكالة للوكيل , أما في الرسالة فلا تعود للرسول حقوق العقد بل تعود جميعها للمرسل ,انظر المادتين ( 1461 و 1462 ) .

 3 ــ قد يتم عزل الوكيل , على ما هو مبين في المادة ( 1523 ) بلحوق علم الوكيل بعزله,ولا يشترط في عزل الرسول لحوق علمه , كما سيوضح في شرح المادة المذكورة.

 4 - يلزم في الرسالة أن يضيف الرسول العقد إلى موكله الذي هو مرسله . أما في الوكالة فالوكيل مخير إن شاء أضافه إلى نفسه وإن شاء أضافه إلى موكله( تكملة رد المحتار في الوديعة بزيادة ).

 5 - تنعقد الوكالة على الأكثر بألفاظ الوكالة , أما الرسالة فتنعقد على الأكثر بألفاظ الرسالة ۔

( رد المحتار ).

فقہ البیوع (1/135.36) :

حکم أخذ عوض علی دفتر الشروط فی المناقصة: والمعمول بہ فی المناقصات عموماً، وفی المزایدات فی بعض الأحوال ، أن الجھة الإداریة التی ترید أن تجری المناقصة تسجل تفاصیل العقد ومواصفاتہ فی دفتر. فالسؤال الفقہی: ھل یجوز للجھة الإداریة أخذ عوض مقابل دفتر الشروط؟ فإذا نظرنا إلی أن ھذا الدفتر إنما یرجع نفعہ إلی الجھة الإداریة، حیث إنھا ھی التی ترید أن تجری المناقصة لصالحھا، لم یکن ھناك مبرر لھا فی أخذ عوض مقابل ھذا الدفتر. ولکن ھناك ناحیةً أخری لایمکن غض النظر عنھا، وھی أن إعداد دفتر الشروط ربما یحتاج إلی دراسات فنیة، ورسم خرائط دقیقة، مما یتطلب جھداً ومالاً . ومن ناحیة أخری: إن ھذا الدفتر یخفف مؤونة المقاولین أوالتجار؛ لانہ لولا ھذا الدفتر لاحتاج کل عارض إلی أن یجری ھذہ الدراسات الفنیة بنفسہ، ویتکبد فی ذلك جھداً، ویبذل لأجلہ مالاً. ومن ھذہ الجھة یبدو أن الجھة الإداریة تستحق أن تطالب عوضاً مقابل ھذا الدفتر. والذی یظھر لھذا الضعیف –عفا اللہ عنہ – أنہ لو کان دفتر الشروط لا یتضمن دراساتٍ فنیةً، وکان مشتملاً علی مجرد شرط العقد، فلا یجوز للجھة الإداریة أن تتقاضی علیہ ثمناً؛ لأنہ بمنزلة شروط العقد من أحد العاقدین، ولا یجوز أخذ العوض علی ذلك. أما إذا کان ھذا الدفتر مشتملاً علی دراساتٍ فنیةٍ یحتاج إلیھا المشارکون فی المناقصة لإعداد عروضھم، فیجوز للجھة الإداریة أن تأخذ علی دفعہ عوضاً یغطِّی تکالیف الجھة الإداریة فی إعدادہ.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

02/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب