03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دعا سے تقدیر کی تبدیلی
88462ایمان وعقائدتقدیر کا یبان

سوال

میرانام تابش تعظیم ہے اور میں احسن آباد کا رہائشی ہوں،میرے چند سوالات ہیں جن کاجواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیا جائے۔کیا انسان کے نصیب میں سب کچھ پہلے سے لکھ دیاگیا ہے؟اگر ایساہے تو ہم دعا کیوں کرتے ہیں؟اور قرآن پاک میں پہلے پارے میں کہا گیاہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی،اس کی وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس سوال کا تعلق بنیادی طور پر تقدیر کے مسئلہ کےساتھ ہے،واضح رہے کہ تقدیر کی دوقسمیں ہیں:

تقدیر مبرم:تقدیرِ مبرم قطعی اور حتمی ہوتی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ،اس میں آخری نتیجہ لکھا ہوا ہوتا ہے،مثلا :کسی شخص کی تقدیر مبرم میں لکھا ہوا ہوتا ہے اسے فلاں دواء سے  شفاء نہیں ہوگی۔

تقدیرِ معلق:وہ تقدیر جس میں تبدیلی کا امکان ہوتا ہے،اس میں بسا اوقات کو ئی نتیجہ کسی شرط پر معلق ہوتا ہے ،اگر شرط پائی گئی تو نتیجہ پایا جائے گا،اور وہ شرط  نہ پائی جائے تو وہ نتیجہ بھی نہ پایا جائے گا،مثال کے طور پر لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے کہ اگر فلاں شخص نے فلاں وقت میں اتنی مقدار میں فلاں دواء استعمال کی  تو شفاء ہوگی،ورنہ نہیں ہوگی۔اگر کسی شخص نے دعا کی تو اس بیماری سے نجات ملے گی ،ورنہ نہیں۔اس کو تقدیرِ معلق کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے  یہ وعدہ ہے کہ اگر کوئی بندہ چاہے تو ہم اس کےنیک عمل  اور دعا کے ساتھ ہی اس کی تقدیر بھی بدل دیں گے۔ سورۃ الرعد میں ارشاد فرمایا :

}يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ{ ]الرعد : 13، 39[

ترجمہ: ’’اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام میں طاعون کی وبا پھیلی اور اس زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی

شام کے سفر پر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وبا زدہ علاقوں کی طرف نہیں بڑھے، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کرنے اور اس بارے میں احادیثِ مبارکہ کا مذاکرہ کرنے کے بعد جلدی واپسی کا فیصلہ فرمایا، تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : "أتَفِرُّ مِنْ قَدْرِ ﷲِ" ، یعنی: ’’کیا آپ تقدیر سے بھاگتے ہیں؟‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس  کے جواب میں ارشاد فرمایا:"أفِرُّ مِنْ قَضَاء ﷲ اِلٰی قَدْرِ ﷲِ". (ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 283)  یعنی ’’میں  اللہ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگتا ہوں‘‘،  بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : "نفر من قدر الله إلی قدر الله". 

دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے  وہ اللہ تعالی کے علم اور اس کے نوشتہ کے مطابق ہورہا ہے،جو چیز بھی وجود میں آنے والی تھی، اللہ تعالی کو ازل یعنی ابتداء ہی سے اس کا علم تھا  کہ فلاں بندہ محنت اور کوشش کرے گا یا نہیں؟ فلاں شخص یہ شرائط پوری کرے گایا نہیں؟لہذا  اس علم اورنتیجہ کو اللہ تعالی نے لوحِ محفوظ پر لکھ رکھا ہے،محنت  اور کوشش اسباب میں سے ہیں اور تمام اسباب بھی تقدیر میں تحریر شدہ ہیں،یعنی تقدیر میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں بندہ محنت اور کوشش کرے گا،تو اس کا فلاں کام ہوجائے گا۔

اس اجمالی وضاحت کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عقیدہ تقدیر میں زیادہ غور وخوض کرنا ،اس میں بحث ومباحثہ کرنا ممنوع ہے،کیونکہ تقدیر کا مسئلہ بہت نازک اور باریک ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم تقدیر کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے کہ اتنے میں رسول

اللہ ﷺ تشریف لائے ،ہمیں بحث میں الجھے ہوئے دیکھ کر آپ ﷺ کو بہت غصہ آیا ،یہاں تک کہ چہرہ انور ایسا سرخ ہو گیا گویا رخسار مبارک میں انار نچوڑ دیا گیا ہو ،آپﷺ نے فرمایا:

"کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے؟کیا میں یہی چیز دے کر بھیجا گیا ہوں؟تم سے پہلے لوگ اس وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے اس مسئلہ میں جھگڑا کیا ،میں تمہیں قسم دیتا ہوں ،میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس میں ہرگز نہ جھگڑنا"

اس  حدیث مبارکہ اور اسی طرح دیگر احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے  کہ تقدیر پر اجمالا ایمان لانا فرض ہے،اس کی تفصیلات میں پڑنااور اس میں بحث و مباحثۃ کرنا ممنوع ہے،اس لیے کہ بسااوقات شیطان انسان کو اس طریقہ سے گمراہ کر دیتا ہے۔

حوالہ جات

وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 174):

وعن أبي خزامة عن أبيه قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله أرأيت

رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال: «هي من قدر الله» . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

 (هل ترد) أي: هذه الأسباب (من قدر الله شيئا؟ قال: (هي) ؛ أي المذكورات الثلاث (من قدر الله) أيضا؛ يعني: كما أن الله قدر الداء قدر زواله بالدواء، ومن استعمله، ولم ينفعه فليعلم أن الله تعالى ما قدره.

وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 175):

وعن أبي هريرة رضي الله عنه: قال: «خرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ونحن نتنازع في القدر، فغضب حتى احمر وجهه، حتى كأنما فقئ في وجنتيه حب الرمان، فقال: (أبهذا أمرتم؟ أم بهذا أرسلت إليكم؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر، عزمت عليكم، عزمت عليكم ألا تنازعوا فيه» ) . رواه الترمذي

وإنما غضب؛ لأن القدر سر من أسرار الله تعالى، وطلب سر الله منهي؛ ولأن من يبحث فيه لا يأمن من أن يصير قدريا، أو جبريا، والعباد مأمورون بقبول ما أمرهم الشرع من غير أن يطلبوا سر ما لا يجوز طلب سره۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

02/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب