03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادا نماز کے ساتھ قضاء نماز کی ادائیگی
88463نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

اگر کوئی نماز قضاء ہوجاے تو کیا وہ اگلی نماز کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قضاء نمازوں کی ادائیگی کے لیے شرعاً کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے۔ ممنوع اوقات (سورج طلوع ہونے کے وقت، زوال کے وقت اور غروب کے وقت) کے علاوہ کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہیں،البتہ عصر اور فجر کی نماز کے بعد اور صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے لوگوں کے سامنے قضا نماز نہیں پڑھنی چاہیے، اگر ان اوقات میں قضا نماز پڑھنی ہو تو ایسی جگہ پڑھے جہاں لوگ نہ دیکھیں،ہر نماز کے ساتھ ایک  قضاء نماز پڑھ سکتے ہیں، بلکہ جب بھی موقع ملے اور جتنی ہو سکیں ادا کرنا جائز ہے۔

صاحب ترتیب کے لیے نمازوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا یعنی آئندہ نماز پڑھنے سے پہلے قضا نماز پڑھنا ضروری ہے اور جو شخص صاحب ترتیب نہ ہو اس کے لیے ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری نہیں ہے۔

صاحب ترتیب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے ذمہ نماز فرض ہونے کے بعد سے لے کر ابھی تک چھ نمازیں قضا نہ ہوں اور وہ شخص جس کے ذمہ چھ نمازیں ہوں خواہ وہ پرانی ہوں یا نئی ہوں ،مسلسل چھوڑی ہوں یا متفرق چھوڑی ہوں ،صاحب ترتیب نہیں ہے۔

عشاء کی قضا نماز کے ساتھ وتر پڑھنا بھی واجب ہے۔

حوالہ جات

وفی الھندیة(1/52):

"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع، وعند الانتصاف إلى أن تزول، وعند احمرارها إلى أن يغيب، إلا عصر يومه ذلك؛ فإنه يجوز أداؤه عند الغروب.... هكذا في التبيين. ولايجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها، كالوتر، هكذا في المستصفى والكافي."

وفیہ أیضا(1/134):

والقضاء فرض فی الفرض و واجب فی الواجب۔ ثم لیس للقضاء وقت متعین الخ۔
وفیہ أیضاً(1/136):

الترتیب بین الفائتۃ والوقتیۃ وبین الفوائت مستحق الخ۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

02/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب