| 88472 | نماز کا بیان | اذان و اقامت کے مسائل |
سوال
بہشتی زیور کے باب" جماعت کی نماز کی اہمیت" میں یہ بات لکھی ہے کہ جو شخص جماعت کی نماز میں مسجد میں اقامت سے پہلے نہ جائے تو وہ شخص گناہ گار ہوگا۔ کیا یہ بات درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہشتی زیور میں مذکورہ عبارت یہ ہے:"اگر مسجد جانے کے لیے اقامت سننے کا انتظار کرے تو گناہ گار ہوگا۔"ظاہر ہے جو شخص بلا کسی عذر کے عادتا اقامت کے وقت نماز کی تیاری شروع کرے گا، پھر وضوء وغیرہ میں مشغول ہوگا پھر مسجد پہنچےگا تو وہ اپنی جماعت یا کم ازکم اس کی کچھ رکعات میں بلا عذرتاخیر کررہا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے اس کی سنت مؤکدہ تسلسل کے ساتھ چھوٹیں گی جو مستقل گناہ ہے۔لہذا اسے عادت بنانا گناہوں کا باعث ہے۔البتہ اگر عادت نہ ہو یا کسی عذر کی وجہ سے اقامت سے پہلے نہ جاپائے تو گناہ کا مرتکب نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري في "صحيحه"(135/1)(الحديث رقم : 673) من حديث ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدؤا بالعشاء ولا يعجل حتى يفرغ منه. وكان ابن عمر يوضع له الطعام وتقام الصلاة فلا يأتيها حتى يفرغ وإنه يسمع قراءة الإمام.
أخرج الإمام أبوداود في "سننه"(413/1)(الحديث رقم : 551) من حديث ابن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه عذر -قالوا: وما العذر؟ قال: خوف أو مرض- لم تقبل منه الصلاة التي صلى.
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


