03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیرثبوتِ ملکیت کے غیرمملوکہ زمین کسی کے سپرد کرنے کا حکم
88484جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

میرا نام ...... ہے، مجھے ایک دنیاوی مسئلے میں شرعی رہنمائی چاہیے، تاکہ ہم سب کا بھلا ہو، مسئلہ کچھ اس طرح سے ہے کہ میرا ایک عزیز محمد ..........  مجھے کہتا ہے کہ جو زمین مجھے وراثت میں ملی ہے اس میں تھوڑی سی زمین فالتو ہے، اس کا یہ کہنا ہے کہ میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ یہ جو تھوڑی سی فالتو زمین ہے یہ میں تمہیں دوں گا۔ اور کہتا ہے کہ میں اس پر قرآن اٹھانے کو تیار ہوں، کیونکہ یہ بات صرف میرے اور راؤ محمد ....... جو میرے والد ہیں، ان کے بیچ میں ہوئی تھی اور اس کا کوئی اور گواہ نہیں ہے تو میں نے باقی سب ورثا سے پوچھا،مگرکسی کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ،جب کہ گھر میں میرے والد صاحب ساری باتیں ہمیں بتا دیتے تھے۔ یہ تو بہت اہم بات ہے اور ڈائری  میں بھی لکھتے تھے ، میں  اس سلسلے میں کیا کروں  کیونکہ میرے پاس شرعی وراثت آئی ہے اور میں چاہ رہا ہوں کہ جو بھی شریعت اس معاملے میں کہتی ہے میں اس پر عمل کروں ، اس لیے میرے تین سوالات ہیں:

  1. پہلا سوال یہ ہے کہ عارف کا جو کہنا ہے کہ میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ میں تمہیں زمین دوں گا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
  2. دوسرا سوال ہے کہ جیسے ہمارے ہاں پنچائت میں لوگ  قرآن  اٹھاتے ہیں تو اب وہ مجھے کہتا ہے میں قرآن اٹھاتا ہوں کیونکہ گواہ تو کوئی نہیں تھا تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
  3. تیسرا   سوال  زمین سے متعلق ہے اس کے حوالے سے میں زمین کی تفصیل بتانا چاہوں گا کہ یہ زمین تین ایکڑ اور اٹھارہ مرلے،یعنی 24 کنال اور 18 مرلے ہے جو کہ گاؤں کے بیچ میں واقع ہے اور میرے خاندان کے پاس پاکستان بننے کے بعد سے ہے،میرے دادا سے میرے والد کو ملی اور میرے والد سے مجھے۔ یہ زمین کاغذوں میں بھی اتنی ہی  میرے پاس ہے اور موقع پر بھی اتنی ہی میرے پاس موجود ہے۔اس زمین کے دو اطراف میں آمنے سامنے سڑک ہے اور دوسرے دو اطراف پرآمنے سامنے گھر بنے ہیں، اس میں کسی کی زمین ساتھ نہیں ملتی کہ کوئی دعویٰ کرے کہ اس کی زمین میری طرف نکلتی ہے ،میری زمین کی شروع سے جو قدرتی حد بندی ہے جو میں تقریبا 50 سال سے  اپنے بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں اس کے دو سائیڈ پر سڑک ہے۔ایک سائیڈ پر جو گھر بنائے ہیں وہاں پچھلی زمینوں کی   آبپاشی کے لئے نالہ گزرتا ہے جو کہ قدرتی حد بندی کا کام کرتا ہے اور جو گھر بنے ہیں وہ اس نالے کے دوسری سائیڈ پر ہیں،  جو چوتھی طرف ہے وہاں پر تقریباً 50 سال سے کچی دیوار تھی جو کہ  حدبندی کا کام کرتی تھی اور اس دیوار کے دوسری سائیڈ پر خالی زمین تھی جو کہ گاؤں کی مشترکہ ملکیت تھی،  جس پر بعد میں لوگوں نے غیر قانونی گھر بنا لیے۔اب بعد میں سن 2000ء تا2001ء میں میرے والد صاحب نے بذریعہ عدالت اس کی دوبارہ سے حدبندی اور  پیمائش کروائی،  تاکہ کوئی غلط فہمی نہ رہے ـ

اس میں محمد........ کا کہنا یہ ہے کہ جب آپ کےوالد صاحب نے حد بندی کروائی تو اس وقت  کچھ زمین فالتو تھی۔ کچی دیوار کی جو لمبائی ہے وہ قریب 400 فٹ ہے تو چار سو فٹ لمبی اور 3 یا 4 گز چوڑی جتنا بھی ہے وہ زمین فالتو ہے، وہ کسی کی نکلتی بھی نہیں تھی تو وہ یوں ہی چھوڑ دی تھی، مزید اس کا یہ کہنا ہے کیونکہ یہ تو لمبی پٹی ہے،  آپ پیمائش کریں اور ٹوٹل جتنی زمین اس کی بنتی ہے اس کے حساب سے مجھے ایک پلاٹ جو ایک کنال اور 12 مرلے یا چودہ مرلے جتنے کا بھی بنتا ہے وہ مجھے دے دیں۔میرا سوال یہی ہے کہ اگر وہ پیمائش کے بعد زمین فالتو نکلتی ہے تو وہ میں کس کو دوں؟

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ محمد ........کا میرے والد صاحب کے ساتھ کوئی مالی معاملہ نہیں ہوا تھا، محمد ........ صرف اس بنیاد پر کہتا ہے کہ آپ کے والد صاحب نے یہ بات کہی تھی، اس لیے یہ زمین مجھے دی جائے، حالانکہ یہ زمین بظاہر حکومت کی معلوم ہوتی ہے، جو کہ گاؤں کی ضروریات کے لیے مشترکہ ملکیت کے طور پر چھوڑ دی گئی ہے، ذاتی طور پر کسی بھی شخص کا اس پر ملکیت کا دعوی نہیں ہے اور یہ شخص بھی اپنی ملکیت کا دعوی نہیں کر رہا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1،2۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ یہ زمین آپ کے والد صاحب کی ملکیت نہیں ہے اور شخصِ مذکور محمد عارف بھی اس پر ملکیت کا دعوی نہیں کر رہا، اس لیے اس کا صرف آپ کے والد کے کہنے کی وجہ سے ملکیت کا دعوی کرنا درست نہیں، لہذا اگر بالفرض یہ شخص پنچائت میں قسم بھی اٹھا دے کہ آپ کے والد صاحب نے زمین دینے کا وعدہ کیا تھا تو بھی یہ شخص زمین کے مطالبے کا حق دار نہیں، کیونکہ جب آپ کے والد کے لیے شرعاً یہ زمین اس کے حوالے کرنا جائز نہیں تھا تو اب ان کی وفات کے بعد آپ کے لیے بھی یہ جگہ اس کو دینا جائز نہیں، اس لیے مذکورہ صورت میں پنچائت میں قسم اٹھانے سے بھی شرعاً اس زمین کا حق دار نہیں ہو گا۔   

3۔ اگر پیمائش کے بعد کچھ زمین باقی بچ جاتی ہے اور اس پر انفرادی طور پر کسی بھی شخص کا دعوی نہیں ہے تو بھی آپ کا بغیر ثبوتِ ملکیت کے اس شخص کو زمین دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے حکومت کی طرف سے یہ زمین گاؤں کی مشترکہ ملکیت کے طور پر دی گئی ہو، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے،  لہذا آپ اپنی زمین کی پیمائش کرنے کے بعد یہ زمین خالی چھوڑ دیں، تاکہ گاؤں کے لوگ اس سے استفادہ کر سکیں، البتہ اگر کوئی شخص حکومتی رجسٹریشن کے کاغذات وغیرہ کے ذریعہ سے اس زمین پر  اپنی ملکیت کا ثبوت پیش کر دے اور اس میں کسی دھوکہ اور جعل سازی کا عنصر نہ پایا جائے تو پھر یہ زمین اس کے سپرد کر دی جائے۔  

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 240) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1248) أسباب التملك ثلاثة:

الأول :  الناقل للملك من مالك إلى مالك آخر كالبيع والهبة.

الثاني: أن يخلف أحد آخر كالإرث.

الثالث: إحراز شيء مباح لا مالك له، وهذا إما حقيقي وهو وضع اليد حقيقة على ذلك الشيء وإما حكمي وذلك بتهيئة سببه كوضع إناء لجمع المطر ونصب شبكة لأجل الصيد.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

3/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب