| 88456 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہماری مسجد میں ایک عدد ڈیجیٹل گھڑی لگی ہوئی تھی، جبکہ آج کل تقریباً تمام مساجد میں لگی ہوتی ہیں جن پر نماز باجماعت کا وقت، نمازوں کے ابتدائی اور اختتامی اوقات واضح ہوتے ہیں۔ نیچے والے حصے میں ایک پٹی چلتی ہے جس میں نمازوں کے اوقات کے علاوہ طلوع آفتاب، اشراق اور چاشت وغیرہ کا وقت بھی معلوم ہوتا رہتا ہے۔ مسجد میں کچھ نمازی حضرات نمازِ فجر کے بعد اشراق کے نوافل تک ذکر و اذکار میں مصروف رہتے ہیں تاکہ اشراق کے نوافل ادا کر کے جائیں۔ تقریباً ہر گھڑی میں طلوع آفتاب کے بعد کچھ وقت ممنوع وقتِ صلوٰة کا آتا ہے۔ ممنوع وقت ختم ہونے پر اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ ممنوع وقتِ صلوٰة کے دوران علماء کرام کے بتانے کے مطابق نماز پڑھنا ناجائز ہے، اسی اصول کی بنا پر ہماری مسجد میں بھی نمازی اسی پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن اس ممنوع وقت کے دوران اگر کوئی شخص انجانے میں نماز فجر یا نوافل ادا کرتا ہو تو نمازی حضرات اس کو بتاتے ہیں کہ سامنے گھڑی پر ممنوع وقت چل رہا ہے، لہٰذا فی الحال نماز نہ پڑھیں بلکہ ممنوع وقت ختم ہونے پر نماز پڑھ لینا۔
لیکن مسجد کے متولی کو یہ بات بری لگتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ممنوع وقت کے دوران بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بلکہ ایک دفعہ ایک نمازی کو اس نے سختی کے ساتھ منع کیا کہ تم لوگوں کو ممنوع وقت میں نماز پڑھنے سے مت روکو۔ اس پر نمازی نے کہا کہ میں تو مسجد میں لگی گھڑی کے مطابق ہی بتاتا ہوں۔ متولی نے کہا یہ انتظامی مسئلہ ہے، اس میں دخل اندازی نہ کریں۔ نمازی نے کہا کہ یہ انتظامی نہیں بلکہ دینی مسئلہ ہے۔ اگر کسی کو معلوم نہیں تو جن کو معلوم ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائیں۔
اس نمازی کے علاوہ بھی دیگر نمازی ممنوع وقت میں نماز پڑھنے والوں کو مسئلہ بتا دیتے ہیں، جو کہ متولی کو اچھا نہیں لگتا۔ جس نمازی سے نزاع شروع ہوا تھا، اس نے انٹرنیٹ سے بنوری ٹاؤن کا فتویٰ اور احادیث نکالکر امام صاحب کو بذریعہ واٹس ایپ بھیجیں۔ اس کے باوجود بھی امام مسجد نے کبھی کسی ممنوع وقت میں نماز پڑھنے والے کو نہیں روکا اور نہ ہی مسئلہ بتایا،جبکہ کئی دفعہ امام صاحب کے بالکل قریب ممنوع وقت میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ بعد ڈیجیٹل گھڑی سے ممنوع وقت نکال دیا گیا، وہ یوں کہ جو وقت طلوع آفتاب کا تھا وہی وقت اشراق کے آگے لکھ دیا گیا،اس طرح طلوع آفتاب کے وقت کے ساتھ ہی اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اب آنے والا سمجھتا ہے ممنوع وقت ختم ہو گیا ہے، جبکہ ابھی ممنوع وقت چل رہا ہوتا ہے۔ چونکہ طلوع کا وقت سامنے آتا تھا تو ممنوع وقت میں نماز پڑھنے والے کو نمازی بتاتے کہ طلوع کے بعد اتنا وقت نماز کے لیے صحیح نہیں، لہٰذا صحیح وقت آنے کا انتظار کریں۔
ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک نمازی نے ایک شخص کو جو ممنوع وقت میں نماز پڑھنے لگا کہا کہ ابھی ممنوع وقت ہے، تھوڑی دیر ٹھہر کر نماز ادا کر لینا۔ لیکن متولی، جو کہ کچھ فاصلے پر تلاوت قرآن کر رہا تھا، وہاں سے اٹھ کر آیا اور اس شخص کو بار بار کہا کہ نماز ہو جاتی ہے، آپ نماز پڑھیں۔ متولی کے تین چار دفعہ کہنے پر اس شخص نے ممنوع وقت میں ہی نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ نمازی حضرات ممنوع وقت میں نماز سے منع کرتے ہیں اور متولی ممنوع وقت پر نماز پڑھنے پر زور ڈالتا ہے۔ اس صورت حال سے کئی نمازی مسجد میں آنے سے رک گئے۔ ایک دن امام صاحب ایک نمازی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ حضرات اپنے فعل سے باز آ جائیں، یہ کشمکش کب تک چلتی رہے گی؟ نمازی نے امام صاحب سے کہا کہ آپ کو فتویٰ اور احادیث صحیحہ دی گئی تھیں، پھر بھی آپ ہمیں منع کرتے جو غلط ہے، آپ اس کو منع کریں۔ یا کوئی فتویٰ لا دیں کہ ممنوع وقت میں نماز پڑھنا جائز ہے تو ہم کسی کو نہیں روکیں گے۔ اور رات کو دوبارہ فتویٰ اور احادیث امام صاحب کو بھیج دی گئیں، مگر جب صبح نماز فجر کے لیے مسجد میں گیا تو ڈیجیٹل گھڑی بند تھی۔ سوچا کہ شاید کوئی خرابی ہوگئی ہوگی، مگر شام کو گھڑی ہی اتار دی گئی اور سوئی والی گھڑی کا وقت صحیح کرکے چلا دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ طلوع آفتاب کا وقت معلوم ہی نہ ہو اور جس وقت بھی کوئی آئے نماز پڑھ لے خواہ ممنوع وقت ہی ہو۔
مسجد میں لڑائی اور شور و غل کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ ایک دن ایک نمازی نے ممنوع وقت میں نماز پڑھنے والوں کو مسجد سے باہر جا کر بتایا کہ نماز کا صحیح وقت کیا ہے،مگر اس پر بھی متولی مسجد چیں بہ چیں ہے۔ اسی دوران ایک دن ایک نمازی نے امام صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ممنوع وقت میں نماز کو جائز سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، جائز نہیں سمجھتا۔ پھر ان سے پوچھا کہ آپ پھر متولی کا تعاون کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ گھڑی میں وقت تبدیل کرنا، گھڑی اتار دینا وغیرہ میں امام صاحب کا پورا عمل دخل تھا۔ کیا یہ تعاون عَلَی الإثم نہیں ہے؟ امام صاحب نے کہا آپ جو مرضی سمجھتے رہیں۔ نمازی نے کہا کہ حضرت آپ ہمارے امام ہیں اور ہم مقتدی، ہمارے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے؟ آپ ہمیں صحیح بات بتا دیں۔ امام صاحب نے کہا کہ نماز پڑھنا نہ پڑھنا آپ کی مرضی، مگر میں بحث نہیں کرنا چاہتا۔ نمازی نے پھر گزارش کی کہ حضرت مقصد بحث کرنا نہیں، میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا ہے، آپ مجھے ہاں یا ناں میں جواب دے دیں۔ امام صاحب نے کہا کہ میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔
خلاصہ یہ ہےکہ مسجد میں لگی ڈیجیٹل گھڑی پر طلوع آفتاب اور ممنوع وقت درج ہوتا تھا جس کے مطابق نمازی حضرات لوگوں کو ممنوع وقت میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے، لیکن متولی اس کو ناپسند کرتا اور کہتا کہ اس وقت بھی نماز ہو جاتی ہے۔ بعد میں متولی نے امام کے تعاون سے گھڑی سے ممنوع وقت ختم کر دیا اور پھر گھڑی ہی ہٹا دی تاکہ لوگ کسی بھی وقت نماز پڑھ سکیں۔ امام صاحب زبانی طور پر تو ممنوع وقت میں نماز کو ناجائز کہتے ہیں لیکن عملاً متولی کا ساتھ دیتے اور کسی کو نہیں روکتے۔ اس رویے سے نمازیوں میں اختلاف پیدا ہو گیا اور بعض لوگ مسجد چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اب میرےسوالا یہ ہیں کہ
١۔ امام صاحب جو کہ زبانی طور پر ممنوع وقت میں نماز کو ناجائز کہتے ہیں، مگر عملی طور پر متولی کے ساتھ مکمل طور پر معاون ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو کر جب کوئی ممنوع وقت میں نماز پڑھتا ہے تو اس کو منع تک نہیں کرتے، جبکہ فتویٰ اور احادیث ان کے سامنے ہیں۔ کیا ایسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا صحیح ہوگا یا نہیں؟
۲۔دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ممنوع وقت میں نماز پڑھنے والے کو وقت کے بارے میں بتانا، حتیٰ کہ مسجد کے باہر بھی بتانے سے فساد کا خطرہ ہو تو کیا کسی دوسری مسجد میں جا کر نماز پڑھنا صحیح اور جائز ہے، جبکہ محلے کی قریب ترین مسجد یہی ہو؟
۳۔تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا متولی کا یہ عمل اور امام کا تعاون انکارِ حدیث سمجھا جا سکتا ہے؟
۴۔چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر اسی مسجد میں نماز پڑھی جائے تو کیا فساد کے ڈر سے خاموشی اختیار کرنا اور کسی کو ممنوع وقت کا نہ بتانا صحیح ہوگا؟ اگر نہیں تو مناسب صورت کیا ہو سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نماز کے تین مکروہ اور ممنوع اوقات (طلوعِ آفتاب، عین زوال اور غروبِ آفتاب) میں نماز پڑھنا ناجائز ہے، اور یہ حکم صحیح احادیث سے ثابت ہے۔لہٰذا مسجد کے متولی کا یہ کہنا کہ ان اوقات میں بھی نماز ادا ہو جاتی ہے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دینا بالکل غلط اور گمراہی کی بات ہے۔ اسی طرح گھڑی سے اوقات کو ہٹانا ، ڈیجیٹل گھڑی اتار دینا بھی درست طرزِ عمل نہیں ہے۔
مذکورامام صاحب کا اس معاملے میں متولی کے ساتھ تعاون کرنا قابلِ مذمت ہے،اگرچہ اس بنا پر انہیں منکرِ حدیث کہنا درست نہیں ہے۔ ایسے امام کی اقتدا میں نماز درست ہو جاتی ہے، مقتدی حضرات کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔ تاہم امام صاحب کا یہ رویہ دینی غیرت اور دیانت کے خلاف ہے، ان کوچاہیے کہ حکمت کےساتھ صحیح مسئلہ واضح کریں۔
نمازی حضرات کو چاہیے کہ متولی اور امام کو نرمی کے ساتھ فتویٰ دکھا کر سمجھائیں، اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو مزید جھگڑے اور فساد سے بچنے کے لیےخاموشی اختیار کریں۔
اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں:
1. مذکورہ امام کی اقتدا میں نماز جائز ہے، اگرچہ ان کا طرزِ عمل درست نہیں۔
2. نہیں، اس بنا پر قریب کی مسجد چھوڑنا مناسب نہیں، بلکہ خاموش رہ کر اسی مسجد میں نماز ادا کی جائے۔
3. نہیں، اسے انکارِ حدیث نہیں جاسکتا،اس لیے کہ اعتقادی طور پر وہ انکار نہیں کر رہے ہیں، بلکہ عمل میں سستی کر رہے ہیں، جو گناہ کی بات ضرور ہے،لیکن انکارِ حدیث نہیں۔
4. جی، ایسے موقع پر جہاں فساد کا خطرہ ہو زبان سے نہی عن المنکر ترک کرنے کی گنجائش ہے۔لہذا فسادکے خطرہ کے وقت مکروہ وقت میں نماز پڑھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اوراپنی عبادات پر توجہ دی جائے اورصرف دل سے اس فعل کو برا جاناجائے۔
حوالہ جات
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 75)
ثلاثة أوقات لا يصح فهيا شيء من الفرائض والواجبات التي لزمت في الذمة قبل دخولها عند طلوع الشمس الى أن ترتفع وعند استوائها الى ان تزول وعند اصفرارها الى ان تغرب ويصح أداء ما وجب فيها مع الكراهة كجنازة حضرت وسجدة آية تليت كما ح عصر اليوم عند الغروب مع الكراهة.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 76)
لقول عقبة بن عامر رضي الله عنه: "ثلاثة أوقات نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي فيها وأن نقبر موتانا: عند طلوع الشمس حتى ترتفع وعند زوالها حتى تزول1 وحين تضيف إلى الغروب حتى تغرب" رواه مسلم. والمراد بقوله أن نقبر: صلاة الجنازة. إذ الدفن غير مكروه فكنى به عنها للملازمة بينهما وقد فسر بالسنة: "نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي على موتانا عند ثلاث عند طلوع الشمس الخ " وإذا أشرقت الشمس وهو في صلاة الفجر بطلت. فلا ينتقض وضوءه بالقهقهة بعده وعلى أنها تنقلب نفلا يبطل بالقهقهة ولا ننهى كسالى العوام عن صلاة الفجر وقت الطلوع لأنهم قد يتركونها بالمرة والصحة على قول مجتهد أولى من الترك "ويصح أداء ما وجب فيها" أي الأوقات الثلاثة لكن "مع الكراهة" في ظاهر الرواية "كجنازة حضرت وسجدة آية تليت فيها"
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 264)
وفي القنية كسالى العوام إذا صلوا الفجر وقت الطلوع لا ينكر عليهم؛ لأنهم لو منعوا يتركونها أصلا ظاهرا ولو صلوها تجوز عند أصحاب الحديث والأداء الجائز عند البعض أولى من الترك أصلا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 173)
وأما العوام فلا يمنعون من تكبير قبلها قال أبو جعفر لا ينبغي أن يمنع العامة من ذلك لقلة رغبتهم في الخيرات اهـ.
وكذا في التنفل قبلها قال في التجنيس سئل شمس الأئمة الحلواني أن كسالى العوام يصلون الفجر عند طلوع الشمس أفنزجرهم عن ذلك قال لا؛ لأنهم إذا منعوا عن ذلك تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا اهـ.
الدر المختار (2/ 170)
(وكذا) لا يتنفل (بعدها في مصلاها) فإنه مكروه عند العامة (وإن) تنفل بعدها (في البيت جاز) بل يندب تنفل بأربع وهذا للخواص أما العوام فلا يمنعون من تكبير ولا تنفل أصلا لقلة رغبتهم في الخيرات بحر. وفي هامشه بخط ثقة وكذا صلاة رغائب وبراءة وقدر لأن عليا - رضي الله عنه - رأى رجلا يصلي بعد العيد فقيل أما تمنعه يا أمير المؤمنين؟ فقال أخاف أن أدخل تحت الوعيد قال الله تعالى {أرأيت الذي ينهى} [العلق: 9] {عبدا إذا صلى} [العلق: 10]
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 171)
(قوله وهذا) أي ما مر من المنع عن التكبير والتنفل (قوله للخواص) الظاهر أن المراد بهم الذين لا يؤثر عندهم الزجر غلاء ولا كسلا حتى يفضي بهم إلى الترك أصلا ط (قوله أصلا) أي لا سرا ولا جهرا في التكبير ولا قبل الصلاة بمسجد أو بيت أو بعدها بمسجد في التنفل ط.
أقول: وظاهر كلام البحر أنه زاد التنفل بحثا منه واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا، وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 183)
وإن لم يحضر الإمام) للجمعة (صلى الناس فرادى) في منازلهم تحرزا عن الفتنة (كالخسوف) للقمر
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 183)
(قوله تحرزا عن الفتنة) أي فتنة التقديم والتقدم والمنازعة فيهما كما في النهاية.
فيض القدير (1/ 353)
قوله (ودع عنك أمر العامة) أي كافة الناس فليس المراد العوام فقط فإذا غلب على ظنك أن المنكر لا يزول بإنكارك لغلبة الابتلاء لعمومه أو تسلط فاعله وتحيره أو خفت على نفسك أو محترم غيرك محذورا بسبب الإنكار فأنت في سعة من تركه والإنكار بالقلب مع الانجماع وهذا رخصة في ترك الأمر بالمعروف إذا كثر الأشرار وضعف الأخيار.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3209)
م اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه، وإذا كان مكروها ندب، والأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به، فإن وجب فواجب، وإن ندب فمندوب، ولم يتعرض له في الحديث لأن النهي عن المنكر شامل له، إذ النهي عن الشيء أمر بضده، وضد المنهي إما واجب أو مندوب أو مباح والكل معروف، وشرطهما أن لا يؤدي إلى الفتنة، كما علم من الحديث، وأن يظن قبوله..... وإن كان من دقائق الأفعال والأقوال، وما يتعلق بالاجتهاد لم يكن للعوام مدخل فيه، لأن إنكاره على ذلك للعلماء، ثم العلماء إنما ينكرون ما أجمع عليه الأئمة، وأما المختلف فيه فلا إنكار فيه، لأن على أحد المذهبين كل مجتهد نصيب، وينبغي للآمر والناهي أن يرفق ليكون أقرب إلى تحصيل المطلوب، فقد قال الإمام الشافعي: من وعظ أخاه سرا فقد نصحه وزانه، ومن وعظه علانية فقد فضحه وشانه. قال القاضي عياض رحمه الله: إن هذا الباب باب عظيم في الدين به قوام الأمر وملاكه، فإذا فسد عم العقاب الصالح والظالم.
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 509)
{وما آتاكم الرسول فخذوه} [59: 60] مع قوله - صلى الله عليه وسلم -: صلوا كما رأيتموني أصلي-انتهى. قلت: استدل الشافعية بهذا الحديث على اشتراط القيام في الخطبة وفيه أن إنكار كعب على عبد الرحمن إنما هو لتركه السنة، ولو كان شرطاً لما صلوا معه مع تركه له. قال ابن الهمام: لم يحكم هو أي كعب ولا غيره بفساد تلك الصلاة، فعلم أنه ليس بشرط عندهم، فيكون كالإجماع وأجيب بأنه إنما صلى خلفه مع تركه القيام الذي هو شرط خوف الفتنة، أو أن الذي قعد إن لم يكن معذوراً فقد يكون قعوده نشأ عن اجتهاد منه، كما قالوه في إتمام عثمان الصلاة في السفر، وقد أنكر ذلك ابن مسعود، ثم أنه صلى خلفه فأتم معه واعتذر بأن الخلاف شر.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
3/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


