| 88458 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے تین پلاٹ قسطوں پرلیے ،ایک سال تک برابر قسطیں ادا کی گئیں،بعد ازاں گنجائش نہ بنی تو پچھلے پورے ایک سال اور ایک مہینے سے کوئی قسط ادا نہیں کرپایا ،ایڈوانس اور قسطوں کی مد میں تقریبا 19 لاکھ روپے جمع کیے جاچکے ہیں،مذکورہ بالا صورت میں زکوة کا کیا حکم ہے؟
نوٹ:پلاٹ اس نیت سے خریدے گئے ہیں کہ مستقبل میں بیچ کر رقم سے بچیوں کی شادی کریں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔پراپرٹی اگر مال تجارت کے طور پر ہو تو اس کی کل مالیت پر زکوة لازم ہوتی ہے۔مال تجارت سے مراد وہ سامان ہے، جسے تجارت یعنی بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو، اور تا حال یہ نیت بر قرار ہو۔
2۔جوپراپرٹی تجارت کےلیے ہو،اور قسطوں پر لی گئی ہو،تواس کی کل قیمت فروخت پر زکوة لازم ہوتی ہے،البتہ اس کی جتنی قسطیں ابھی ادا نہیں ہوئی ہیں،باقی ہیں،وہ سب زکوة کے حساب سے منہاہوں گی، اس کی زکوة لازم نہیں ہوگی۔ یعنی ان قسطوں کے بقدر رقم زکوة کے حساب میں شامل نہیں ہوگی،بقیہ تمام قیمت پر زکوة ہوگی۔
3۔زکوة کی مقدار ڈھائی فیصد ہے،لہذا جو بھی رقم قیمت کے طور پرطے ہو،اس کا چالیسواں حصہ یا ڈھائی فیصد نکال لیں تو زکوة کی مقدار سامنے آجائے گی۔
ان اصولوں کی بنیاد پر اب زکوة کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں بھی پراپرٹی کو خریدتے وقت بیچنے کی حتمی نیت تھی تو یہ مالِ تجارت ہےاوراس کی موجودہ کل مالیت پر زکوة لازم ہوگی،البتہ جتنی قسطیں ابھی تک ادا نہیں ہوئی ہیں، ان کی بقدر رقم زکوة کے حساب میں شامل نہیں ہوگی،وہ منہا کرکے بقیہ رقم کی زکوة ادا کی جائے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع: (220/2):
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء، وقال أصحاب الظواهر: ولا زكاة فيها أصلا، وقال مالك: إذا نضت زكاها لحول واحد.
وجه قول أصحاب الظواهر أن وجوب الزكاة إنما عرف بالنص والنص ورد بوجوبها في الدراهم والدنانير والسوائم فلو وجبت في غيرها لوجبت بالقياس عليها والقياس ليس بحجة خصوصا في باب المقادير.(ولنا) ما روي عن سمرة بن جندب أنه قال: «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يأمرنا بإخراج الزكاة من الرقيق الذي كنا نعده للبيع» .
وروي عن أبي ذر - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «في البر صدقة» ، وقال - صلى الله عليه وسلم -: «هاتوا ربع عشر أموالكم» فإن قيل: الحديث ورد في نصاب الدراهم؛ لأنه قال في آخره: " من كل أربعين درهما درهم".
فالجواب أن أول الحديث عام وخصوص آخره يوجب سلب عموم أوله أو نحمل قوله من كل أربعين درهم على القيمة أي: من كل أربعين درهما من قيمتها درهم.
الدر المختار: (272/2):
"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل"
الفتاوى الهندية (1/ 175):
' ومن کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه'. الخ
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
03/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


