03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی پانچ بیٹوں اورچاربیٹیوں میں میراث کی تقسیم
88503میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اخترخان باباجی فوت ہو گئے ہیں۔ ان کی دو بیویاں تھیں: ایک ان کے حیات ہی میں فوت ہو چکی تھی، اور اس سے باباجی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، جبکہ دوسری بیوی جو بعد میں زندہ رہی اس سے باباجی کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ مجموعی طور پر باباجی کے وفات کے وقت زوجہ ثانیہ، کل پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ تھیں۔

صورتِ مذکورہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:

1. کیا اختر خان باباجی کی میراث میں پہلی بیوی کا بھی کچھ حصہ ہوگا یا وہ محروم رہے گی؟

2. باباجی کی میراث میں زوجہ ثانیہ اور بیٹے بیٹیوں کے حصے متعین فرمائیں۔

3. اب باباجی کی زوجہ ثانیہ بھی فوت ہو چکی ہے، تو میراث میں اس کا حصہ اب کہاں جائے گا؟ کیا یہ صرف اس کی اولاد میں تقسیم ہوگا جو اس وقت سب زندہ تھے اور اس کے ورثا میں اور کوئی بھی نہ تھا؟ کیا باباجی کی زوجہ اولیٰ کی اولاد کا کچھ حصہ زوجہ ثانیہ کی میراث میں ہوگا؟ بینوا توجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ سازوسامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم  کاوہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادائیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو (اور اسی کے حکم میں نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے لیے کی جانے والی وصیت بھی ہوگی، اگر وصیت کی ہو) تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے۔ اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس کو شرعی ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

مذکورہ بالا حقوق (کفن دفن، قرض اور وصیت اگر کی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر سوال مذکورمرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ میں سے مرحوم کی بیوہ ثانیہ کو %12.5،ہر بیٹے کوچاہے پہلی بیوی سے ہویا دوسری سے %12.5اور ہر بیٹی کوچاہے پہلے بیوی سے ہویادوسری سے %6.25حصہ دیا جائے۔ جبکہ پہلی بیوی چونکہ شوہر کی حیات میں ہی فوت ہوگئی تھی تو اس کو باباجی کی میراث سے حصہ نہیں ملے گا۔

دوسری بیوی جب فوت ہوئی تو اس کی میراث صرف اس کی اپنی اولاد (بیٹوں اوربیٹیوں) کی طرف جائے گی،لڑکوں کولڑکیوں کے مقابلے دگناملےگا،جبکہ پہلی بیوی کے بیٹے اوربیٹی کی طرف نہیں جائے گی۔

اب آپ کے سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں

١١۔ پہلی بیوی باباجی کی میراث سے محروم رہے گی،کیونکہ وہ باباجی کی حیات ہی فوت ہوگئی تھی۔

۲۔ سب کے حصے اوپر متعین کردیئے گئے ہیں ۔

۳۔اس کا یعنی زوجہ ثانیہ کا حصہ صرف اس کی اپنی اولاد تین بیٹوں اور تین بیٹیوں  کی طرف جائے گا پہلی بیوی کی اولاد کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللہ تعالی :

یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.......وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

7/3/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب