| 88511 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں ............. زوجہ .......... کی شادی تقریبا دو سال پہلے قرار پائی اور ان دو سالوں میں گاہے بگا ہے مختلف وجوہات اور معمولی رنجشوں پر جھگڑا اور مار پیٹ کرتا۔ میں اپنی عزت اور گھر والوں کی عزت کی وجہ کےصرفِ نظر کرتی رہی، مگراس دوران وہ الفاظ جس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے وہ بھی کہتا رہا،جو کہ مندرجہ ذیل ہے: اور ان کا (پیغام کی صورت میں میرے موبائل میں موجود ہے)
1۔ پہلی مرتبہ جنوری 2024ء کو میرے شوہر نے جھگڑے کے دوران کہا: میری طرف سے تم آزاد ہو۔
2۔ او کے سب ختم بہن کی گندی گالی دی اور کہا میں تجھے آج ہی اور ابھی طلاق دیتا ہوں (تاریخ:24/11/22)
3۔ تیری ماں کو آخری وائس میسج کر کے کہوں گا کہ سب رابطہ ختم اور تیری ماں کو بول دوں گا کہ جب دل کرے سامان اٹھا لو،میری طرف سے آزاد ہے،سب ختم۔ پھر(تاریخ:25/7/5) کوبولا میری طرف سے تمہیں طلاق ہے اور یہ الفاظ دو بار دوسرائے۔
4۔ (تاریخ:25/8/24) کو پھر بولا کہ میری طرف سے تمہیں طلاق ہے، یہ الفاظ دو مرتبہ دہرائے۔
اس کے علاوہ میری طرف سے آزاد ہے تو بہت بار کہا یہ تمام باتیں میں اپنے ہوش و حواس میں کہہ رہی ہوں، اگر میں جھوٹ بولوں تواللہ کی مجھے پر لعنت ہو کہہ رہی ہوں اور شریعت کی روشنی میں مجھے اس کا جواب عنایت کریں (جزاک اللہ ) اسکے علاوہ ہم ساتھ بھی رہے ہیں معلوم نہیں ہم اکٹھے شرعی طور پر ٹھیک رہے یا غلط؟
وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جنوری 2024ء میں تم آزاد ہو کے الفاظ کہنے کے بعد ہمارے درمیان کوئی خاص لڑائی جھگڑا نہیں ہوا، نیز دوبارہ نکاح بھی نہیں کیا گیا، پھر جب نومبر2024ء کو دوبارہ طلاق کے الفاظ کہے تو اس سے پہلے تین ماہواری عدت گزر چکی تھی۔نیزسائلہ کے شوہر سے بات ہوئی تو پہلے اس نے تین طلاقیں دینے کا اقرار کیا، پھر دوسری مرتبہ کال آئی تو کہنے لگا کہ میں نے ایک طلاق دی ہے، یہ بھی کہا کہ میں نے غصے میں آزاد کے الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق جب شوہر نے پہلی مرتبہ جنوری 2024ء میں جھگڑے کے دوران آپ سےیہ الفاظ کہے کہ "تم میری طرف سے آزاد ہو" تو اسی وقت آپ پر ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو چکی تھی، کیونکہ جھگڑے کے دوران "آزاد ہو" کے الفاظ ہمارے عرف میں طلاق کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں، لہذا ان میں نیتِ طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وقوعِ طلاق کے لیے قرینہ بھی کافی ہے اور جھگڑے کی حالت اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ اس جملے کا مقصد نکاح کو ختم کرنا ہے، نیز جب شوہر نے دس مہینے بعد بائیس نومبر2024ء کودوبارہ آزاد کے الفاظ کہے توساتھ یہ بھی کہا کہ سب ختم۔ اس سے معلوم ہوا کہ شوہر بار بار یہ الفاظ رشتہ ختم کرنے کے لیے ہی کہتا رہا ہے، لہذا اب حکم یہ ہے کہ ان الفاظ کی وجہ سے فریقین کے درمیان جنوری 2024ء میں نکاح ختم ہو چکا تھا اور عورت کی عدت شروع ہو چکی تھی، اس کے بعد فریقین کا اکٹھا رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، لہذا اب ان کے ذمہ فوری طور پر علیحدگی اختیار کرنا،فریقین بغیر نکاحِ جدید کے جتنا عرصہ اکٹھے رہے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے اس طرح کے فعل سے اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔
جہاں تک اس کے بعد کہے گئے باقی الفاظِ طلاق کا تعلق ہے تو ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ سائلہ کے بقول جنوری 2024ء سے لے کر نومبر2024ء تک اس کی عدت( تین ماہواریاں) گزر چکی تھی اور عدت گزرنے کے بعد عورت چونکہ اجنبیہ بن جاتی ہے اس لیے اس کےبعد کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا اگر فریقین گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا۔
نیز اگر عورت اس شخص کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہے تو اس پر عدتِ وطی (غلط فہمی کی بناء پرہمبستری کرنے سے واجب شدہ عدت) گزارنا بھی ضروری ہے اور یہ عدت فریقین کے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد شروع ہو گی اور چونکہ عدتِ طلاق پہلے گزر چکی ہے، اس لیے اب یہ عدت بھی علیحدگی کے بعد مکمل تین حیض گزارنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 518) ایچ ایم سعید:
في البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اه ۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 276) دار احياء التراث العربي – بيروت:
وإذا وطئت المعتدة بشبهة فعليها عدة أخرى وتداخلت العدتان ويكون ما تراه المرأة من الحيض محتسبا منهما جميعا وإذا انقضت العدة الأولى ولم تكمل الثانية فعليها تمام العدة الثانية " وهذا عندنا وقال الشافعي رحمه الله لا تتداخلان لأن المقصود هو العبادة فإنها عبادة كف عن التزوج والخروج فلا تتداخلان كالصومين في يوم واحد ولنا أن المقصود التعرف عن فراغ الرحم وقد حصل بالواحدة فتتداخلان ومعنى العبادة تابع ألا ترى أنها تنقضي بدون علمها ومع تركها الكف.
اللباب في شرح الكتاب (3/ 83) الناشر: المكتبة العلمية، بيروت:
(وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (فعليها عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلت العدتان فيكون ما تراه من الحيض) في تلك المدة (محتسباً به منهما جميعاً) ، لأن المقصود هو التعرف عنفراغ الرحم، وقد حصل (وإذا انقضت العدة الأولى ولم تكمل) العدة (الثانية فإن عليها تمام العدة الثانية) فإذا كان الوطء الثاني بعدما رأت حيضة كانت الأولى من العدة الأولى والثنتان بعدها من العدتين، وتجب رابعة لتتم الثانية، وإن كان الوطء قبل رؤية الحيض فلا شيء عليها إلا ثلاث حيض، وهي تنوب عن ست حيض، كما في الدرر.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
7/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


