| 88509 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج ہم نےایک کاروبارشروع کیاہےجس کا خاکہ یہ ہے کہ اس میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے شیئر بیسڈ انویسٹمنٹ پلان پیش کیاگیا ہے۔ اس پلان میں سرمایہ کار ایک مخصوص اپارٹمنٹ میں شیئر خریدتا ہے؛ ہر شیئر 131 اسکوائر فٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔
ادائیگی کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ سرمایہ کار چاہے تو 100٪ نقد ادائیگی کرکے شیئر خریدے، جس میں فی اسکوائر فٹ ریٹ 10,000 روپے ہوگا۔ اورچاہے تو قسطوں میں خریدے ،اگر قسطوں میں خریدنا ہو تو 50% ایڈوانس دینا ہوگا اور باقی رقم 2 سالوں میں آسان ماہانہ اقساط میں اداکرےگا ۔ قسطوں والے پلان میں فی اسکوائر فٹ ریٹ 11,000 روپے مقررکیاجاتا ہے۔
اس پلان میں دورانِ مدت کوئی کرایہ یا سودی آمدنی نہیں ملتی؛ سرمایہ کار کا فائدہ صرف سرمایہ کی قدر میں اضافے پر مبنی ہے۔ یعنی 2 سال بعد کمپنی یہ شیئر دوبارہ کم از کم 13,000 روپے فی اسکوائر فٹ میں خرید لے گی۔ اگر مارکیٹ اچھی رہی تو کمپنی کی مرضی سے یہی ریٹ 12,300 سے 13,100 روپے فی اسکوائر فٹ تک بھی ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار کا منافع صرف اسی خرید و فروخت کی بنیاد پر ہوگا۔
اگر کوئی سرمایہ کار کسی بھی وجہ سے 2 سال سے پہلے پیسے واپس لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔ کمپنی اصل سرمایہ مکمل واپس کرے گی، کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔ کمپنی کو درخواست ملنے کے 25 دن میں رقم واپس کرنی ہوگی۔
اس پلان میں سود کی کوئی صورت شامل نہیں۔ سرمایہ کار کا پیسہ حقیقی اثاثے (ریئل اسٹیٹ شیئر) میں لگا ہوتا ہے۔ ادائیگی صرف خرید و فروخت کی بنیاد پر ہے۔ کوئی رینٹل انکم، بینک سود یا سودی منافع شامل نہیں۔ قسطوں میں اضافی سود نہیں ہے، بلکہ شروع سے فی اسکوائر فٹ کا ریٹ طے ہے جو مکمل شفاف ہے۔
شرعی سوالات برائے فتویٰ:
1. کیا یہ پلان شرعی لحاظ سے جائز ہے؟ اگر نہیں تو جائز صورت کیا ہوگی؟
2. کیا اس میں واپس خریدنے کی گارنٹی جائز ہے؟
4. کیا یہ پلان مشارکہ یا مضاربہ کے اصولوں کے مطابق ہے یا سادہ خرید و فروخت ہے؟
5. کیا اس میں کسی بھی طرح سود یا ناجائز منافع کی صورت بنتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ موجودہ دونوں صورتیں (نقد اور قسطوں والی، مع کمپنی کی "واپس خریدنے کی گارنٹی") شرعاً جائز نہیں ہیں۔ کیونکہ یہاں اپارٹمنٹ کے مخصوص حصے کی خرید و فروخت حقیقتاً مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصد سرمایہ (قرض) لینا اور اس پر اضافہ وصول کرنا ہے۔ اس اضافی رقم کے لیے خرید و فروخت کو بطور حیلہ بنایا گیا ہے، اور یہی دراصل سود (ربا) کی صورت ہے۔ فقہاء احناف نے اس طرح کی صورت کو "شراء ما باع بأقل/بأکثر مما باع" کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور اسے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں بیع حقیقتاً مقصود نہیں ہوتی بلکہ قرض کے بدلے میں اضافہ وصول کرنا اصل مقصود ہوتا ہے۔
لہٰذا سوال میں بیان کردہ صورت سودی معاملہ بننے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے، اور اس طرح کے معاملات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ (ماخوذ از تبویب دارالافتاء دارالعلوم کراچی: 1918/790730/14)
متبادل جائز صورتیں:
پہلی جائز صورت (شرکتِ متناقصہ):
شرکتِ متناقصہ کا حاصل یہ ہے کہ ابتداء میں مذکور کمپنی کے پلاٹ پر کلائنٹ اپارٹمنٹ کی تعمیر کرے، اس طرح کمپنی اور کلائنٹ دونوں شرکتِ ملک کے ساتھ شریک ہو جائیں گے۔ پھر تعمیر کرایہ پر دے کر دونوں اپنی اپنی ملکیتوں کا کرایہ لیتے رہیں، اور ساتھ ساتھ کمپنی کا کلائنٹ اپنی تعمیر کے یونٹس بنا کر کمپنی کو بیچتا رہے۔ کمپنی آہستہ آہستہ خریداری کرتی رہے۔ قسط وار یونٹس خریدنے کی وجہ سے کلائنٹ کا حصہ گھٹتا رہے گا اور اسی تناسب سے کرایہ کی رقم بھی کم کی جاسکتی ہے، جبکہ کمپنی کا حصہ (ملکیت) بڑھتا رہے گا اور اسی تناسب سے کرایہ بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ پھر ایک متعین مدت، مثلاً پانچ سال کے بعد کمپنی مکمل طور پر گھر کی مالک بن جائے گی اور کلائنٹ درمیان سے نکل جائے گا۔ اس طرح اس کو اپنی رقم بھی واپس مل جائے گی اور نفع بھی حاصل ہوجائے گا، اور عقد بھی شرعی طور پر درست ہو جائے گا۔ اس میں کلائنٹ ایک بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی۔
دوسری جائز صورت:
کمپنی اپنی تیار اپارٹمنٹ کا ایک متعین حصہ متعین قیمت پر کلائنٹ کو فروخت کر دے اور اس وقت واپسی یا دوبارہ خریدنے کی کوئی شرط نہ لگائے۔ اس کے بعد کلائنٹ اس حصے کا مالک بن جائے گا اور وہ اس میں مکمل خود مختار ہوگا؛ چاہے تو اپنے پاس رکھے، اور چاہے تو کمپنی کو یا کسی کو مارکیٹ ریٹ پر یا اس سے کم و بیش پر فروخت کر دے۔ اس طرح کھلی اجازت دینے کے بعد اگر کمپنی چاہے تو وہی حصہ کلائنٹ سے اس کی رضامندی سے کرایہ پر لے لے، یا اگر وہ مفت میں استعمال کی اجازت دے دے تو بھی درست ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب کمپنی کے پاس رقم آ جائے تو کلائنٹ کی رضامندی سے اس وقت کی مارکیٹ پر دوبارہ خرید لے۔
خلاصہ:
سوال میں ذکر کردہ صورت میں "واپس خریدنے کی گارنٹی" اور "اصل سرمایہ ہر حال میں واپس کرنے کی شرط" سودی معاملہ بناتی ہے، لہٰذا یہ پلان شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ شرکتِ متناقصہ یا بغیر شرطِ ری پرچیز سادہ بیع اس کا متبادل ہوسکتی ہے، بشرطیکہ بیع کرتے وقت مبیع یعنی اپارٹمنٹ تعمیر ہو چکا ہو۔
آخر میں ذکر کردہ آپ کے سوالات کے مختصر شرعی جوابات درج ذیل ہیں:
1. موجودہ پلان (نقد و قسط اور واپسی کی گارنٹی کے ساتھ) شرعاً جائز نہیں، جائز متبادل اوپر ذکر کردیا گیا ہے۔
2. واپس خریدنے کی گارنٹی عقد میں دینا جائز نہیں ہے۔
3. یہ پلان نہ مشارکہ ہے اور نہ ہی مضاربہ، بلکہ بیع (خرید و فروخت) ہے، لیکن واپسی کی شرط کی وجہ سے ناجائز صورت بن رہی ہے، نیز بعض اپارٹمنٹ ابھی بنے بھی نہیں ہیں جیسے کہ سائل نے زبانی بتایا ہے اور ان کی بیع ہو رہی ہے تو اس صورت میں تو یہ معدوم کی بھی بیع ہے جو جائز نہیں ہے۔
4. اس پلان کے موجودہ صورت میں سود اور ناجائز منافع کی شکل پائی جاتی ہے، نیز اس کے بعض صورتوں میں معدوم بھی بیع ہو رہی ہے، لہٰذا سوال میں مذکورہ پلان شرعاً جائز نہیں ہے۔ بیع اس میں صرف حیلہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اس کی بھی شرائط پوری نہیں ہیں۔
حوالہ جات
في الشرح الكبير لابن قدامة (فصل: باع سلعة بنقد ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة):
من باع سلعةً بنقد، ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة، فقال أحمد في رواية: حرام لا يجوز إلا أن تتغير السلعة ، لأن ذلك يُتَّخَذ وسيلةً إلى الربا، فهي
كمسألة العِينة. فإن اشتراها بسلعةٍ أخرى، أو بأقلّ من ثمنها، أو بمثله نسيئةً جاز، لما ذكرنا في مسألة العِينة. وإن اشتراها بعد ذلك بأكثر من ثمنها، فهو كمسألة العِينة على ما ذكرنا من الخلاف. قال أصحابنا: ويحتمل أن يكون له شراؤها بأكثر من الثمن إذا لم يكن ذلك عن مواطأةٍ ولا حيلةٍ، بل وقع اتفاقًا من غير قصد، لأن الأصل جواز البيع، وإنما حُرِّمَت العِينة للأثر الوارد فيها، وليس هذا في معناها، لأن التوسل بذلك أكثر، فلا يُلحق به ما دونه.
كذا في المغني لابن قدامة (4/133).
وفي المدونة في فقه المالكي (فصل: ما جاء في بيع الطعام يشتريه جزافًا قبل أن يستوفيه):
قلتُ: صِفْ لي أصحاب العِينة في قول مالك؟
قال: أصحاب العِينة عند الناس قد عَرَفوهم: يأتي الرجل إلى أحدهم فيقول له: أسلِفني مالًا. فيقول: ما أفعل، ولكن أشتري لك سلعةً من السوق فأبيعها منك بكذا وكذا، ثم أبتاعها منك بكذا وكذا. أو يشتري من الرجل سلعةً ثم يبيعها إياه بأكثر مما ابتاعها منه.
شرح فتح القدير (7/213):
الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه.
وفي أبحاث هيئة كبار العلماء:
فإن قيل: فما تقولون فيمن باع سلعةً بنقد، ثم اشتراها بأكثر منه نسيئة؟
قلنا: قد جاء عن أحمد في رواية حرب أنه لا يجوز إلا أن تتغير السلعة، لأن هذا يتَّخَذ وسيلةً إلى الربا، فهو كمسألة العِينة سواء، وهي مثلها صورةً، وفي الصورتين قد ترتب في الذمة دراهم مؤجلة بأكثر منها نقدًا، لكن في إحدى الصورتين: البائع هو الذي اشتملت ذمته، وفي الصورة الأخرى: المشتري هو الذي اشتملت ذمته، فلا فرق بينهما.
وفي فقه المعاملات:
وجد من العلماء رحمهم الله تعالى أن عكس العِينة كالعِينة في التحريم ، للأحاديث الواردة في ذلك.
فقه البيوع - الفراج - (1 / 27)
عكس مسألة العينة وهي داخلة في العينة على الصحيح .
وفی المعاییر الشرعیۃ(رقم12:)
:1المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر.
وفیہ ایضا:
لایجوزان یتضمن عقد الشرکة اأو نص یعطی أیا من طرفی المشارکةالحق فی استرداد حصتہ من ر أس مال الشرکة ........وتعتمد حصص الملکیة الخاصہ لکل طرف لتحمیل الخسارة إن وقعت وذلک فی کل طرف فترة بحسب تناقص حصة أحدالشریکین وتزایدحصة الشریک الأخرِ.....یجوزالاتفاق(فی الارباح) علی النسب بصورة مختلفة عن حصص الملکیة ،ویجوز استبقاء نسب الارباح ولوتغیرت حصص الملکیة .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
8/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


