| 88506 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
تین ماہ قبل میرے شوہر محمد بلال کا انتقال ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی میں انشورنس کروا رکھی تھی اور اپنی زندگی ہی میں کمپنی کو یہ لکھوا دیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد انشورنس کے پیسے میری زوجہ کو ملیں۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کمپنی کہہ رہی ہے کہ ان پیسوں میں بچوں کا بھی حق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کسی مستند دارالافتاء سے فتویٰ لے آئیں کہ ان پیسوں میں صرف آپ کا حق ہے یا بچوں کا بھی حق ہے؟
براہِ کرم جلد از جلد شریعت کی روشنی میں آگاہ فرمائیں کہ یہ پیسے صرف مجھے ملیں گے یا میرے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی تقسیم ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم محمد بلال نے انشورنس کمپنی میں جتنی رقم پریمیم کی صورت میں جمع کرائی تھی، وہ مرحوم کا ترکہ ہے، جو اس کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ لہٰذا اس میں آپ کے ساتھ بچوں کا بھی حق ہے۔ البتہ اصل رقم کے علاوہ انشورنس کمپنی کی طرف سے جو اضافی رقم دی جاتی ہے، اسے بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دینا چاہئے۔ اگر کسی مدرسے میں دینا چاہیں تو بھی دے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (7/ 57):
الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (الکتاب العاشر الشرکات ،3/ 55،ط:دار الجلیل:
المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين - وارثيه، على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض أو بين الموصى لهم بموجب أحكام المسائل المتعلقة بالوصية كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين ورثته على حسب حصصهم الإرثية أو بين الموصى لهم بموجب الوصية لأن هذا الدين ناشئ عن سبب واحد الذي هو الإرثأو الوصية. وإن يكن أی سبب الدين حقيقة لم يكن الإرث والوصية بل سببه إقراض المورث أو الموصي لآخر أو بيعه أو إيجاره مالا لأن الدين كما عرف في المادة (581).
فی الشامیۃ(۵، ص۹۹):
تحت (قولہ الا فی حق الوارث الخ) أي فإنّہ (إلی قولہ) والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیہم وإلا فإن علم عین الحرام لا یحلّ لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ.
وفیہ أیضًا(ج۵، ص۹۹):
مات وکسبہ حرام فالمیراث حلال ثم رمز وقال لا نأخذ بہذہ الروایۃ وہو حرام مطلقا علی الورثۃ فتنبہ۔
وفیہ ایضًا (ج۲، ص۲۹۲):
رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذلک فدعا لہ وأمن المعطی کفرا جمیعًا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
08/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


