03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی بینک میں آئی ٹی انجینئر کی ملازمت کا حکم
88510جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا ایک غیر اسلامک بینک میں آئی ٹی انجینئر کی نوکری جائز ہے؟

تنقیح: بحیثیت آئی ٹی انجینئر سائل کی ذمہ داریوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ڈیٹا سینٹر اور آئی ٹی آلات کی برقی دیکھ بھال۔

2۔ڈیٹا سینٹرز، سرور رومز، اور نیٹ ورکنگ آلات کے لئے برقی سپلائی کا تسلسل یقینی بنانا۔

3۔یو پی ایس (UPS) اور جنریٹر سسٹمز کی مانیٹرنگ اور سروسنگ۔

4۔پاور مینجمنٹ اور بیک اپ سسٹمز۔

5۔بجلی کی رکاوٹ یا فالٹ کی صورت میں بیک اپ سسٹمز کی بروقت بحالی۔

6۔بجلی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا۔

7۔سیکیورٹی اور سیفٹی سسٹمز کی نگرانی۔

CCTV، ایکسیس کنٹرول اور دیگر سیکیورٹی سسٹمز کے پاور سسٹمز کی دیکھ بھال۔

9۔برقی حفاظتی معیارات (Safety Standards) پر عمل درآمد۔

10۔آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ کوآرڈینیشن۔

11۔آئی ٹی انفراسٹرکچر (Servers, Routers, Switches) کے پاور سسٹم کی مسلسل سپورٹ۔

12۔نئی ٹیکنالوجی یا سسٹم اپگریڈز کے دوران برقی ضروریات کی جانچ اور تنصیب۔

13۔ٹریبل شوٹنگ اور فالٹ ریک ٹیفیکیشن۔

14۔برقی خرابیوں کی فوری تشخیص اور درستگی۔

15۔بجلی سے متعلق ہنگامی صورتحال میں بروقت ردعمل۔

16۔پراجیکٹ مینجمنٹ اور رپورٹنگ۔

17۔نئے برقی منصوبوں (electrical projects) کی منصوبہ بندی اور تکمیل۔

18۔maintenance  شیڈولز اور کارکردگی رپورٹس تیار کرنا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے تو بطور تمہید آپ یہ بات سمجھ لیں کہ معصیت پر اجارہ ،یعنی گناہ کے ارتکاب کی خدمات فراہم کرنا جائز نہیں،اسی طرح وہ خدمات جو بذات خود جائز ہوں،لیکن ان خدمات کے ناجائز کاموں میں معاون بننے  کا یقین یا غالب گمان ہو،یا کسی ناجائز کام کے لئے قریبی درجہ میں سبب بن رہی ہوں تو پھر یہ خدمات فراہم کرنا بھی ناجائز ہوگا۔

سودی بینک کو جو اشیاء فراہم کی جاتی ہیں ان کی تین قسمیں ہیں:

1۔ وہ اشیاء جن کا استعمال صرف ناجائز ہو،جیسے سودی معاملات کے لئے مخصوص سافٹ ویئرز،ان کی فراہمی جائز نہیں۔

2۔وہ اشیاء جن کا جائز وناجائز دونوں طرح کا استعمال ممکن ہو،لیکن فراہم کرنے والے کو یقین یا غالب گمان ہو کہ بینک ان کا ناجائز استعمال کرے گااور ناجائز کاموں کی انجام دہی ان اشیاء سے براہ راست ممکن ہو،جیسے کمپیوٹر وغیرہ،ان اشیاء کی فراہمی بھی ناجائز ہے۔

3۔وہ اشیاء جن کا سودی معاملات سے براہ راست تعلق نہ ہو،جیسے: گاڑیاں اور فرنیچر وغیرہ،ان اشیاء کی فراہمی جائز ہے۔

آپ نے آئی ٹی انجینئر کی حیثیت سے اپنی جو ذمہ داریاں لکھی ہیں ،ان کا تعلق تیسری قسم سے ہے،یعنی ان کا براہِ راست سودی معاملات سے تعلق نہیں،اس لئے آپ کی ملازمت جائز ہے،بشرطیکہ آپ کی نیت بینک کے سودی معاملات میں معاونت کی نہ ہو،البتہ سودی بینک کی اس قسم کی ملازمت سے بھی اجتناب بہتر ہے،اس لئے آپ کے حق میں بہتر یہ ہے کہ متبادل ایسے ادارے میں ملازمت کی تلاش جاری رکھیں  جو سودی معاملات سے پاک ہو اور جب تک متبادل ملازمت نہ ملے مذکورہ ملازمت کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

"فقہ البیوع "2/ 1064):

"فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل : التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبیالات أو كتابة هذه العقود أو التوقيع عليها، أو تقاضي الفوائد الربوية أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك أو إدارة فرع من فروعه، فإن الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام. و من كان مؤظفا في البنك بهذا الشكل ، فإن راتبه الذي يأخذه من البنك كله من الأكساب المحرمة ....

وأما الوظائف التي تشتمل الخدمات المباحة والمحظورة، فيجرى فيه ما قدمنا في وظائف الفنادق والمطاعم.

أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربوية، مثل وظيفة الحارس أوسائق السيارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظف المسئول عن صيانة البناء، أو المعدات أو الكهرباء أو الموظف الذي يتمحض عمله في الخدمات المصرفية المساحة مثل تحويل المبالغ والصرف العاجل للعملات، وإصدار الشيك المصر في أو حفظ مستندات الشحن أو تحويلها من بلد إلى بلدي فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنية الإعانة على العمليات المحرمة وإن كان الاجتناب عنها أولى ولا يحكم في راتبه بالحرمة، لما ذكرنا من التفصيل فى الإعانة والتسبب، وفي كون مال البنك مختلطاً بالحلال و الحرام ....

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

07/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب