| 88514 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا زبردستی خلع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ جبکہ شوہردینا نہ چاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع میں جانبین(شوہر بیوی) کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی رضامندی کے بغیریکطرفہ خلع شرعا درست نہیں، البتہ اگر میاں بیوی میں ناچاقی بڑھ جائےاور ازدواجی تعلقات قائم نہ رکھ سکتے ہوں اور صلح کی بھی کوئی صورت نہ ہو تو شوہر بیوی کو ایک طلاق دے دے یا پھر بیوی شوہر کی رضامندی سےمہر وغیرہ کے عوض خلع لے لے۔
حوالہ جات
والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.(المبسوط للسرخسي:173/6)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول(بدائع الصنائع:145/3)(قوله:للشقاق)أي:لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم.وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما،فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع.(الدر مع الرد:(441/3
انس رشید ولد ہارون رشید
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08/ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس رشید ولد ہارون رشید | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


