03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،دو بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
88559میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:ہم پانچ بہن بھائی ہیں جس میں میرا نمبر سب سے آخری ہے ۔میری والدہ نے اپنی حیات میں میرے پاس اپنی سونے کی تین چوڑیاں امانتاً رکھوائی تھیں کہ کبھی عمرے پر جانے یا کسی بھی بیماری کی وجہ سے پیسوں کی ضرورت ہوئی تو کام آجائیں گی ایک چوڑی میری والدہ کی بیماری میں میرے والد نے مجھ سے لے لی، لیکن وہ کسی بھی کام نہیں آسکی اور میری والدہ کا انتقال ہوگیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ میرا والد صاحب ابھی حیات ہیں ،اب وہ ایک چوڑی میرے والد کے پاس ہے اور بقیہ دو چوڑیاں ابھی بھی میری تحویل میں ہیں ۔مفتیانِ کرام سے میرے مندرجہ ذیل سوالات ہیں۔ برائے مہربانی! قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائی جائے۔ 1۔ کیا میرے پاس موجود تمام چوڑیاں صرف میرے والد کو دے دی جائے یا تمام ورثا میں تقسیم ہو ؟ 2۔اگر تمام ورثا میں تقسیم ہو تو تقسیم کا طریقہ کار اور نصاب کیا ہوگا ۔مرحومہ کے ورثا میں شوہر، 3بٹیاں اور 2 بیٹے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انتقال کے وقت کیونکہ ملکیت برقرار تھی لہذایہ  چوڑیاں آپ کی والدہ کے تمام ترکہ کے ساتھ بطور میراث تقسیم ہوں گی۔ ورثہ کے حصص اس طرح ہوں گے کہ کل ترکے کا چوتھا حصہ یعنی 25% مرحومہ کے شوہر یعنی آپ کے والد محترم کو ملے گا ۔باقی ماندہ آپ بہن ، بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بھائیوں کو بہنوں سے دگنا حصہ ملے گا۔آسانی کے لیے حسبِ  ذیل نقشہ ملاحظہ ہو:

نمبر شمار

ورثہ

کل حصے:28

فیصد

1

شوہر

7

25%

2

پہلا بیٹا

6

21.428%

3

دوسرا بیٹا

6

21.428%

4

پہلی بیٹی

3

10.714%

5

دوسری بیٹی

3

10.714%

6

تیسری بیٹی

3

10.714%

حوالہ جات

قال اللہ تعالی :يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ    .[النساء: 11] 

قال اللہ تعالی :فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَد فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَۚ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَودَينٖۚ    . [النساء: 12] 

أخرج الإمام مالک رحمہ اللہ: قَالَ مَالِكٌ: وَمِيرَاثُ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ. إِذَا لَمْ تَتْرُكْ وَلَداً، وَلَا وَلَدَ ابْنٍ النِّصْفُ. فَإِنْ تَرَكَتْ وَلَداً، أَوْ وَلَدَ ابْنٍ، ذَكَراً كَانَ، أَوْ أُنْثَى، فَلِزَوْجِهَا الرُّبُعُ. مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصِي بِهَا، أَوْ دَيْنٍ. (موطأ مالك : 3/ 721) ،(الحدیث رقم: 1852)

قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ :قال رحمه الله: (وللزوج النصف ومع الولد أو ولد الابن وإن سفل الربع) لقوله تعالى: {ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد ‌فإن ‌كان ‌لهن ‌ولد ‌فلكم ‌الربع ‌مما ‌تركن} [النساء: 12] (تبيين الحقائق : 6/ 233)

سخی گل بن گل محمد

دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی

/09 ربیع الاول ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب