03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ڈپریشن مریض کی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
88543طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

میرے شوہر نے تین طلاقیں لکھیں (نہ مجھے بتایا، نہ میرے سامنے ذکر کیا) اور اپنے سگے بھائی کے پاس جا کر کہا کہ میرے سالے سے کہو کہ اپنی بہن کو لے جائے، میں نے یہ کام (تین طلاق) کر دیا ہے۔ اب میں گھر بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا۔ 

جبکہ میرا شوہر ڈپریشن کا مریض ہے، سالوں سے ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہا ہے، لیکن تقریباً 5 ماہ سے دوائی بھی چھوڑ چکا ہے۔ ڈاکٹر کی رپورٹ بھی ہے (جو ساتھ لف ہے) کہ اس کو دماغ کا مسئلہ ہے۔ جو بات دماغ میں بیٹھ جائے، وہ نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ کچھ ماہ لگیں گے، وہ ٹھیک ہو جائے گا، تمہیں بیوی بھی سمجھے گا اور شک و وہم بھی چھوڑ دے گا۔ 

یہ ڈاکٹر کے پاس جاتے بھی نہیں۔ میرے بارے میں بہت وہم و شک کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں انہیں ٹیکے لگاتی ہوں، بچوں کو بھی انجکشن لگاتی ہوں، دوائی گھول کر دیتی ہوں، بدکاری کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ حالانکہ محلے والے سب گواہ ہیں کہ یہ سب غلط کہتے ہیں۔ 

ڈاکٹر نے ہسپتال میں داخلہ تجویز کیا ہے، لیکن یہ کہتے ہیں کہ میں ٹھیک ہوں۔ یہ مجھے کہتے ہیں کہ تم مجھے اغوا کرو گی۔ گھر میں جس کے بارے میں تھوڑا سا بھی شک ہو جائے، اس کے ہاتھ سے کوئی چیز نہیں لیتے۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ کسی طرح ان کو دوائی گھول کر کھلائیں، لیکن یہ کسی کے ہاتھ کی چیز لیتے ہی نہیں۔ 

چھ ماہ قبل مرغی کی دکان پر گئے تو وہاں ایک کبوتر کندھے پر بیٹھ گیا۔ اب کہتے ہیں کہ اس کبوتر کے ساتھ تم نے میری تصویر لی، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ میرا 16 سال کا بیٹا بھی ساتھ تھا، وہ بھی کہتا ہے کہ کوئی تصویر نہیں لی گئی۔  تو کیا ایسی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال درست ہے، اور واقعی مذکورہ شخص ایسی دماغی بیماری میں مبتلا ہے کہ بیماری کے دورے کی حالت میں وہ یہ نہ سمجھ پاتا ہو کہ میں کیا الفاظ کہہ رہا ہوں اور ان کے کیا نتائج ہوں گے، اور مستند ڈاکٹر بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوں، تو ایسی حالت میں دی گئی تینوں طلاقیں شرعاً واقع نہیں ہوں گی۔لیکن اگر طلاق دیتے وقت وہ ہوش و حواس میں تھا، اور اسے بخوبی معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ان الفاظ کے نتیجے میں بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، تو ایسی صورت میں مذکورہ الفاظ سے تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی، الا یہ کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کر کے  ازدواجی تعلقات  قائم   کرے اور پھر وہاں سے طلاق ہو ،تو  دوبارہ نکاح کرنا جائز  ہو گا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین  رحمہ اللہ:والذي يظهر لي أن كلاً من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على مامر،ولاينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش، ويؤيد ما قلنا بعضهم العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا والمجنون ضده . وأيضاً فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأن عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما يقول ويقصده فغيره بالأولى فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولهاعن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

(رد المحتار (244/3:

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟

(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم ﷲ تعالى")العقود الدرية : 1/ 38)

قال العلامۃ ابن عابدین  رحمہ اللہ: (قوله: والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ. ‌وفي ‌البحر ‌عن ‌الخانية: رجل عرف أنه كان مجنونا فقالت له امرأته: طلقتني البارحة فقال: أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله. اهـ) ردالمحتار: 4/437)

 سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/09ربیع الاول ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب