| 88553 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک عورت کے نام 100 ایکڑ زرعی زمین تھی۔ اس کے دو بیٹے اور ایک شوہر تھا ۔عورت کا انتقال ہوگیا اور کچھ عرصے بعد اس کے بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا، جس کی عمر 8 سال تھی، شادی بھی نہیں ہوئی تھی ۔اب اس 100 ایکڑ زرعی زمیں کی وراثت عورت کے شوہر اور ایک بیٹے میں کیسے تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ بیوی نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور کسی بھی قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحومہ کا وہ قرض جو انہوں نے کسی سے وصول کرنا تھا، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض اور مالی واجبات وغیرہ ہوں تو انہیں ادا کیا جائے،پھراگر مرحومہ نے کسی غیر وارث یا کسی نیک کام کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس میں سے مرحومہ کے شوہر کا% 25 اور مرحومہ کی وفات کے وقت حیات دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کا 37.50% حصہ بنا تھا ۔
اس کے بعد جب مرحومہ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو اس مرحوم بیٹےنے اپنی مرحومہ والدہ کی وراثت میں سے ملنے والے 37.50% فیصد حصے سمیت بوقت انتقال جو ترکہ چھوڑا ہو ،اس میں سے مذکورہ بالا تفصیلات کے مطابق ،کفن دفن کے اخراجات ،قرضوں کی ادائیگی اور ایک تہائی ترکے تک وصیت کی تکمیل کے بعد جو کچھ باقی بچا ، وہ سب والد کو ملے گا ۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (6/ 4509(
وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن .
الدر المختار مع رد المحتار (6/ 770(
(وللأب والجد) ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن) والتعصيب المطلق عند عدمهما
الدر المختار مع رد المحتار (6/ 781)
(ويسقط بنو الأعيان) وهم الإخوة والأخوات لأب وأم بثلاثة (بالابن) وابنه وإن سفل (وبالأب) اتفاقا
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


