| 88570 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمیں درج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی درکارہے،آپ ہماری رہنمائی کرکے عنداللہ ماجورہوں:
١۔کیا کسی قیدی کو جیل سے جرمانہ ادا کر کے رہا کرنا جائز ہے؟
۲۔اگر کوئی شخص بے قصورہو اور وہ محض اس وجہ سے قید میں ہو کہ جرمانہ یا تاوان ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو ایسے قیدی کی رہائی کے لیے تعاون فراہم کرنا کیا شرعاً درست ہے؟
۳۔کیا ایک فلاحی و تعلیمی ادارہ شرعی طور پر اس بات کا مجاز ہے کہ وہ ایسے بے گناہ قیدیوں کی رہائی میں مدد کرے جو صرف جرمانہ یا مالی ادائیگی نہ کرسکنے کی وجہ سے قید میں ہوں؟
ہم چاہتے ہیں کہ ان امور کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کر کے تحریری فتویٰ جاری فرمایا جائے تاکہ ہم اپنی خدمات کو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دے سکیں اور مظلوم قیدیوں کی قانونی رہائی کے سلسلے میں کام کرسکیں۔آپ کی رہنمائی ہمارے لیے باعثِ شرف اور اطمینان ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بےگناہ قیدیوں کو آزاد کرانے کی بڑی فضیلت اور اجروثواب قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے، یہ نہایت عظمت والاکام ہے۔ قرآن مجید نے اسے نیکی کے اعلیٰ اعمال میں شمار کرتے ہوئے "فَكُّ رَقَبَةٍ" یعنی گردن چھڑانے کا حکم دیا ہے (سورۃ البلد: 13)، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی قیدی کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اسے جہنم سے آزاد فرما دے گا (صحیح بخاری و مسلم)۔ایک اورحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیدی کو چھڑایا کرو ‘ بھوکے کو کھلایا کرو ‘ بیمار کی عیادت کرو۔(صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3046) اس کے ساتھ یہ عمل معاشرے میں عدل، رحم اور بھائی چارے کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔ الغرض، قیدی کو آزاد کرانا جنت میں بخشش، جہنم سے نجات اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے، جو دینی و انسانی دونوں پہلوؤں سے نہایت فضیلت والا عمل ہے۔
البتہ یہ خیال رکھاجائے کہ اس کام کےلیے یا تو الگ چندہ کیاجائے یا نفلی صدقات سے قیدی چھڑاجائے زکوة کے پیسوں سےمالک بنائے بغیر قیدی چھڑانے سے زکوة ادا نہ ہوگی،ہاں اگرقیدی مستحق زکوة ہواورزکوة کی رقم اس کے قبضہ میں مالک بناکر دیدی جائے اورپھروہ اپنی طورپراس کو اپنی رہائی میں استعمال کرے تو یہ بھی جائزہوگا۔
اسی طرح کسی ایسے مجرم کو جولوگوں کےحقوق ضائع کرنےکےجرم میں گرفتارہواورواقعة مجرم ہوتواسےصاحب حق کی معافی کے بغیر رہانہ نہ کیا جائے،ورنہ یہ انصاف کے خلاف ہوگا اوراس سےصاحب حق کی حق تلفی بھی ہوگی۔
اب آپ کے سوالوں کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں:
١۔جی جائزہے،بلکہ باعث اجروثواب ہے۔
۲۔بالکل جائزہے۔
۳۔جی مجازہے، تاہم زکوة فنڈسے کراناہوتو قیدی کامستحق زکوة ہونا اورزکوة اس کے قبضہ دینا ضروری ہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی : فَكُّ رَقَبَةٍ (البلد: 13)
وقال: قال رسول الله ﷺ:
"مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ"(رواہ البخاري 2517، ومسلم 1509)
صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3046]
عن ابي موسى رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" فكوا العاني يعني الاسير واطعموا الجائع، وعودوا المريض".
الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی:
"(ولا تشترى بها رقبة تعتق ) خلافا لمالك، ولنا أن الإعتاق إسقاط الملك وليس بتمليك."(کتاب الزکوٰۃ،باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز،ج1،ص111،ط؛دار احیاء التراث العربی)
وفی بدائع الصنائع(۴۵۷/۲):
ولو قضی دین حی فقیر، ان قضی بغیر أمرہ، لم یجز، لانہ لم یوجد التملیک من الفقیر) لعدم قبضہ وان کان بأمرہ یجوز عن الزکاۃ لوجود التملیک من الفقیر لأنہ لما امرہ بہ صاروکیلاً عنہ فی القبض فصار کأن الفقیر قبض الصدقۃ بنفسہ وملکہ من الغریم.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


