| 88552 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
چند سال قبل عبد الرحمن اور ماریہ کا نکاح ہوا، 10 جولائی 2025 کو عبد الرحمن نے کہا: ماریہ میں تجھے ایک طلاق دیتا ہوں۔ پھر کہا ایک ہوگئی پھر کہا ، اب میں تجھے دوسری طلاق دیتا ہوں، پھر کہا اب دو ہو گئیں، ایک رہ گئی۔ پھر 13 جولائی 2025 كوعبد الرحمن نے اپنے بھائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، میں طلاق دیتا ہوں ، اس وقت ماریہ پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ مذکورہ جملہ کہہ کر ماریہ کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگا۔
بھائی نے اس پر غصہ کیا تو کیا میں تو فلم کا ڈائیلاگ بول رہا تھا۔ میں نے تو مذاق کیاہے،عبد الرحمن سے دو الگ الگ نشستوں میں پوچھا کہ کسی فلم کا ڈائیلاگ تھا؟ اس کا عبد الرحمن نے کوئی جواب نہ دیا، عبد الرحمن کا حلفیہ بیان ہے کہ میر اطلاق دینے کا ارادہ نہ تھا نیزیہ کہ مجھے یہ پتہ ہی نہیں کہ ان الفاظ سےطلاق ہو جاتی ہے، 10 جولائی کے واقعہ کے بعد عبد الرحمن نے کہا کہ میں تمہیں چھ مرتبہ بھی ایسے کہہ دوں توطلاق نہیں ہو گی، عبد الرحمن بار بار کہتا ہے کہ میری نیت چھوڑنے کی نہیں، میں نے تمہیں چھوڑنا نہیں ہے، مذکورہ حالات میں ماریہ کو طلاق ہوئی یا نہیں؟ اب رجوع یا صلح کی گنجائش کسی حد تک ہے؟ شریعت کا حکم ارشاد فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ طلاق کےصریح الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ الفاظ شرعاً طلاق کے لیے وضع کیے گئے ہیں، اس لیے صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور یعنی عبد الرحمن کا یہ کہنا شرعاً معتبر نہیں کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی، نیز شریعت کی نظر میں اس کی یہ بات بھی ناقابلِ اعتبار ہے کہ مجھے ان الفاظ سے طلاق واقع ہونے کا علم نہیں تھا، کیونکہ متکلم کے عدمِ علم سے شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
لہذا شخصِ مذکور کے تین مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، البتہ فی الحال رجوع اور فریقین کے درمیان دوبارہ نکاح بھی شرعاً نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا وہ فوت ہو جائے تو اس صورت میں اس شخص کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ مذکورہ صورت میں جمہور امت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک کسی صورت میں بھی نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
سنن أبي داود (2/ 259) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:
حدثنا أحمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن} [البقرة: 228] الآية، " وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته، فهو أحق برجعتها، وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك، وقال: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229]
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


