| 88554 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ
میری بہن پروین کوثر کا نکاح مقبول احمد علی سے 1996ء میں ہوا، لیکن اس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ اب اس بہن کا تقریباً سات آٹھ ماہ پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ میرے والدین نے جہیز میں سونا وغیرہ اور دوسری کافی اشیاء دی تھیں، مگر شوہر نے زندگی میں ان کو کچھ نہیں دیا تھا۔ اور اب شوہر کا بھی جولائی 2025ء میں انتقال ہوگیا ہے۔ بہن کی وفات کے بعد شوہر نے ایک اور شادی کی تھی، لیکن اس سے بھی اس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ اب سوالات یہ ہیں:
1. پہلی بیوی کو جو زیور والدین کی طرف سے ملا، اس کے بارے میں کیا فتویٰ ہوگا؟
2. اسی طرح دوسری قیمتی اشیاء جو والدین کی طرف سے جہیز میں پہلی بیوی کو ملی تھیں، اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہوگا؟
3. جب شوہر مرحوم کی وراثت فروخت ہو اور دوسری بیوی کو اس میں وراثت کا حصہ نہ دیا جائے تو کیا اس میں گناہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(١،۲،۳) زیوراورسامان جو والدین نے اپنی بیٹی یعنی آپ کی بہن کو جہیز میں دیا تھا، وہ اسی کی ملکیت تھا اور اس کی زندگی میں اس زیور اور سامان پر شوہر کا کوئی حق نہیں تھا، لیکن جب آپ کی اس بہن کا انتقال ہوا اور اس وقت اس کا شوہر زندہ تھا تو دیگر ورثاء جیسے والدین اور بھائیوں کے ساتھ شوہر بھی ورثاء میں شامل تھا، اور چونکہ کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے شوہر کا حصہ نصف بنتا تھا، پھر جب شوہر کا بھی انتقال ہوا تو اس کی میراث میں وہ نصف زیور اور سامان بھی شامل تھا جو اسے پہلی بیوی یعنی آپ کی بہن سے وراثت میں ملا تھا، اورشوہرکے ورثہ میں چونکہ دوسری بیوی بھی شامل ہے اوراولاد نہ ہونے کی وجہ سے شوہرکےترکے میں اس کا حصہ چوتھابنتا ہے،لہذا مذکورہ سامان اورزیورمیں دوسری بیوی کاچوتھا حصہ بنتاہے جواسےدینا لازم ہے اورمحروم رکھنا ناجائز اور گناہ ہے۔
باقی ہروارث کا متعین حصہ معلوم کرنے کے لیے ہرمیت کے موت کے وقت موجود ورثہ کی فہرست بمع ناموں کی تصریح کےلکھ کر دوبارہ معلوم کیاجاسکتاہے۔
حوالہ جات
وفی الدر المختار للحصفكي - (ج 3 / ص 170)
(جهز ابنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت هو تمليك أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه وقال الاب) أو ورثته بعد موته (عارية ف) - المعتمد أن (القول للزوج، ولها إذا كان لعرف مستمرا أن الاب يدفع مثله جهازا لا عارية، و) أما (إن مشتركا) كمصر والشام (فالقول للاب)
وفي الہندیۃ:
لو جہز ابنتہ وسلمہ إلیہا لیس لہ في الاستحسان استردادہ منہا وعلیہ الفتویٰ۔ (۱؍۳۲۷ زکریا)
وفی عقود رسم المفتی: الثابت بالعرف کالثابت بالنص۔ (رسم المفتي: ۲۵)
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 6 / ص 100)
عن أبى حرة الرقاشى عن عمه أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال :« لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ».
وفی السنن الكبرى للبيهقي (۳/ ۵١٦):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت عنده مظلمة لأخيه من عرضه، أو ماله؛ فليؤدها إليه قبل أن يأتي يوم القيامة، لا يقبل فيه دينار ولا درهم؛ إن كان له عمل صالح أخذ منه، وأعطي صاحبه، وإن لم يكن له عمل صالح أخذ من سيئات صاحبه؛ فحملت عليه ". رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس، عن ابن أبي ذئب بمعناه إلا أنه قال: " فليتحلله منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم ".
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ . [النساء/12]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/11/1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


