03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان کے دو حصے بچوں کے نام کرنے کا حکم
88579ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

عرض یہ ہے کہ میرےچار بچے ہیں، جن میں دوبیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، میں اپنی زندگی میں اپنے مکان میں چاروں بچوں کو حصہ دینا چاہتا ہوں، میرے مکان کی مالیت تقریباً60 سے 70 لاکھ روپے ہے، میں نے یہ مکان 2014ء میں خریدا تھا ، اس وقت میں نے یہ مکان اپنے دو بچوں اور اپنے نام کیا تھا، میرا بڑا بیٹا مرزا شجاع الدین ولد فیروز الدین جو کہ معذور ہے اور چھوٹی بیٹی فریدہ بنت فیروز الدین جو میری خدمت کرتی ہے،اس لئے مکان کے دو حصےان دونوں کے نام کر دیا تھے۔ اور مکان کا ایک حصہ میں نے اپنے نام کیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مکان کے تین مالک ہیں، آپ سے یہ پوچھنا تھاکہ شر عا اور قانوناً میں اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو اس مکان میں سے حصہ دینا چاہتا ہوں، رہنمائی فرمائیں کہ میں مکان  کی کل مالیت میں سے حصہ دوں یا جو  میرا ایک حصہ تھا  اس میں سے چار بچوں کو دوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر یہ مکان ناقابل تقسیم (ناقابلِ تقسیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس مکان کو تین حصوں میں برابر تقسیم کیا جائے تو یہ قابلِ رہائش نہ رہے)تھا اور آپ نے مکان کی خریداری کے وقت قانونی طور پر دو حصے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام کرنےکے ساتھ ساتھ ان کو استعمال کا حق بھی دے دیا تھا اوران کے نام کروانے سے  آپ کا مقصد اتنے حصے کا ان دونوں کو مالک بنانا تھا تو اس صورت میں آپ کا بیٹا اور بیٹی مکان کے دو حصوں کے مالک بن چکے ہیں،اس لیے اب اس مکان کا صرف ایک حصہ آپ کی ملکیت ہے اور وہی ایک حصہ آپ اپنے چاروں بچوں کے درمیان تقسیم کر سکتے ہیں۔البتہ اگر مکان بڑا اور قابل تقسیم (یعنی تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد بھی قابلِ رہائش ہو) ہو تو اس مکان کی تفصیل ذکر کرے دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

التنبيه على مشكلات الهداية (5/ 589) صدر الدين عليّ بن عليّ ابن أبي العز الحنفي (المتوفى 792 هـ) الناشر: مكتبة الرشد ناشرون - المملكة العربية السعودية:

أحدها: في قوله: "إن القبض منصوص عليه في الهبة" فإنه يشير إلى ما رواه أولاً من قوله

عليه الصلاة والسلام: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" وتقدم أن ذلك الحديث لا أصل له.

والثاني: في قوله: "والمشاع لا يقبله إلا بضم غيره إليه"، فإن ذلك لم يمنع من صحة الهبة فيما لا يقسم، فكذا ينبغي أن لا يمنع صحتها فيما يقسم.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (5/ 91) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

قال - رحمه الله - (وتصح بإيجاب ك) قوله (وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام وجعلته لك وأعمرتك هذا الشيء وحملتك على هذه الدابة ناويا به الهبة وكسوتك هذا الثوب وداري لك هبة تسكنها لا هبة سكنى أو سكنى هبة وقبول وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به في محوز مقسوم ومشاع لا يقسم لا فيما يقسم) أي تصح الهبة بإيجاب كقوله وهبت إلخ وبقبول وقبض في المجلس وفيما بعد المجلس يملكه بالإذن صريحا لا غير، كل ذلك في محوز ومشاع لا يقسم.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

28/ ربیع الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب