03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نفاق کااعلان کرتے تھے؟
88708ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

(چھٹی  روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) حضرت عمار رضی اللہ عنہ (جن کے بارے میں حضور نے فرمایا تھا کہ سر سے پیر تک ان میں ایمان بھرا ہوا ہے)صراحت سےصفین کی جنگ کے موقع پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نفاق کااعلان کرتے تھے، تاریخ ابن ابی  خیثمہ دیکھ لیجئے :ج 2 ص199 اورمجمع الزوائد ازعلامہ  ہیثمی ج۱،ص۱۱۸

سؤال : کیا یہ روایت اور واقعہ صحیح اور ثابت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تاریخ ابن ابی  خیثمہ  میں تو  تلاش کے باوجود اس بارے میں کوئی روایت نہیں مل سکی ،جبکہ مجمع الزوائد کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں بھی اس قسم کی بات کا کوئی ذکر نہیں، اصل روایت اور  علامہ ہیثمی  رحمہ اللہ تعالی  اس کی سندپر کلام   اورروایت پر حکم ملاحظہ ہو۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 7 / ص 481):

وعن أبي سعيد عقيصاء قال : سمعت عمارا ونحن نريد صفين يقول : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين ۔رواه الطبراني وأبو سعيد متروك .  ورواه أبو يعلى بإسناد ضعيف

اس روایت کے مطابق حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے موقع پر صرف یہ فرماتے تھے کہ اللہ  کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے  عہد شکنوں، ظالموں،  اور دین سے نکل جانے والوں سے لڑنے کا حکم دیا ہے۔لہذا  سؤال میں پیش کردہ روایت کے بارے میں:

 پہلی بات   تویہ ہے کہ  یہ روایت بھی  ثابت  نہ ہونےکے باعث اسکالر کا  اس کی بنیاد پر دعوی بھی محض ایک  کھلا جھوٹ، افتراء  اور غلط نسبت   اور خلاف واقع ہے۔

دوسری بات  یہ کہ صحیح ا،مستنداور مسلمہ تاریخی  حقائق  کے پیش نظر یہ روایت اور واقعہ ممکن بھی نہیں، اس لیے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تو  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دوستوں  میں تھے ،چنانچہ:

(۱) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  انکی عیادت  کو بھی جاتے تھےتوایسے میں  وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی منافقت کااعلان کیسے کرسکتے تھے؟

 (۲) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے  ان کی شہادت پر اظہار رنج وغم کیاتھا اور اس کی ذمہ داری بھی انکے دوسرے رفقاء پر ڈالی تھی یعنی سازش کرنے والوں پر اور خود ان کے قتل اور شہادت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کیا تھا۔لہذا اگر وہ منافق ہی ہوتے تووہ حضرت عماررضی اللہ  عنہ کی شہادت پر اس قدر مغموم اور حزین نہ ہوتے۔

(۳) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے اہل شام یعنی لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحیح روایات درج ذیل ہیں، جن میں انہوں نے اہل شام کے اہل ایمان ہونے کی تصریح فرمائی ہے اور ان کے کفرونفاق کا واضح طور پر انکار فرمایا ہے ،لہذا اگر ان کے نزدیک  یہ لوگ منافق ہوتے تو دیننا واحد وقبلتنا واحدة ودعوتنا واحدة فرماکران پر مؤمن ہونے کا حکم نہ لگاتے،البتہ انہوں نے اہل شام کی اجتہادی غلطی کو  فسق وظلم یعنی اجتہادی بغاوت سے تعبیر کیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ ولكنهم قوم مفتونون الحدیث۔ روایات ملاحظہ ہوں۔

تعظيم قدر الصلاة لمحمد المروزي - (ج 2 / ص 546):

 598 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا محمد بن عبيد ثنا الحسن وهو ابن الحكم النخعي عن رياح بن الحارث قال إنا بوادي الظبي وإن ركبتي لتكاد تمس ركبة عمار بن ياسر فأتى رجل فقال كفر والله أهل الشام فقال عمار لا تقل ذلك قبلتنا واحدة ونبينا واحد ولكنهم قوم مفتونون فحق علينا قتالهم حتى يرجعوا إلى الحق

 599 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا قبيصة ثنا سفيان عن الحسن بن الحكم عن رياح بن الحارث عن عمار بن ياسر قال ديننا واحد وقبلتنا واحدة ودعوتنا واحدة ولكن قوم بغوا علينا فقاتلناهم

 600 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا يعلى ثنا مسعر عن عبدالله بن رياح عن رياح بن الحارث قال قال عمار بن ياسر لا تقولوا كفر أهل الشام قولوا فسقوا قولوا ظلموا قال أبو عبدالله وهذا يدل على أن الخبر الذي روى عن عمار بن ياسر أنه قال لعثمان هو كافر خبر باطل لا يصح لأنه إذا أنكر كفر أصحاب معاوية وهم إنما كانوا يظهرون أنهم يقاتلون عن دم عثمان فهو لتكفير عثمان أشد إنكارا

601 - حدثنا هارون بن عبدالله ثنا محمد بن عبيد ثنا مسعر عن ثابت بن أبي الهذيل قال سألت أبا جعفر عن أصحاب الجمل فقال مؤمنون أو قال ليسوا كفارا

 602 - حدثنا هارون ثنا يعلى ثنا مسعر عن ثابت بن أبي الذيل عن أبي جعفر نحوه

 603 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا يعلى ثنا مسعر عن ثابت بن أبي الهذيل قال سألت أبا جعفر عن أصحاب الجمل فقال مؤمنون وليسوا بكفار

تیسری بات  یہ ہے کہ بالفرض اگر اس اعلان کو تاریخی حوالہ  کی حیثیت سے منقول وموجود مان بھی لیائے توبھی اس کی حیثیت محض غیر مستند تاریخ سے زیادہ نہیں، جیساکہ  تاریخ ابن ابی  خیثمہ  کے حوالے بھی واضح ہوتا ہے اور ایسی صورت میں اس کا روافض  کی وضع کردہ روایات میں سے ہونا بعید نہیں اور اگر  اس اعلان کوفی الواقع  بھی ثابت مان لیا جائے  توبھی اہل سنت  کے نزدیک  دونوں کے درمیان   مسلمہ برادرانہ   اوراسلامی  تعلق  کی وجہ سےیہ ایک اجتہادی رائے کے بناء پر مجتہد فیہ مسئلہ میں عملی  مخالفت   پر محمول ہوگا،جیساکہ مذکورہ بالا روایات میں اسی قسم کی غلطی کو اجتہادی فسق اور ظلم سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔

باقی جواب کے شروع میں مجمع الزوائد سے  منقول روایت سے بھی عدالت معاویہ  کےبارے میں درج ذیل  وجوہ سے اعتراض درست نہیں:

  ۱۔اس روایت میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکورہ اعلان کا کوئی  وجود وثبوت نہیں،

۲۔اس روایت میں صرف اس کا ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  ان ان قسم کے لوگوں سے قتال کا حکم فرمایا ہے، لیکن اس حکم کی تطبیق یہ منصوص نہیں ،بلکہ یہ ایک اجتہادی معاملہ تھا جس میں ہر گروہ دوسرے کو خطاء اور غلطی پر سمجھتا تھا۔

۳۔نیز خود یہ روایت بھی ناقابل اعتبار روایات میں شامل ہے، جیساکہ پہلی روایت کی جوابی تحقیق کے ذیل میں تفصیل سے گزرچکا۔

واضح رہے کہ تاریخ ابن ابی  خیثمہ میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے شان معاویہ رضی اللہ عنہ میں درج ذیل روایت مذکور ہے ،لیکن اسکالر موصوف نے اس سے صرف نظر کر لیا ۔

حوالہ جات

تاريخ ابن أبي خيثمة - (ج 1 / ص 554):

2285- حدثنا موسى بن إسماعيل ، قال : حدثنا أبو هلال ، قال : حدثنا جبلة بن عطية ، عن رجل من الأنصار ، عن مسلمة بن مخلد ؛ أنه قال لعمرو بن العاص - ورأى معاوية يأكل- : إن ابن عمك هذا لمخضد ، أما إني أقول ذلك وقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : اللهم علمه الكتاب ، ومكن له في البلاد ، وقه العذاب".

مجمع الزوائد للهيثمي - (ج 19 / ص 333):

قلنا حدثنا عن عمار بن ياسر قال امرؤ خلط الايمان بلحمه ودمه وشعره وبشره حيث زال زال معه لا ينبغى للنار أن تأكل منه شيئا

مجمع الزوائد للهيثمي - (ج 20 / ص 117):

وعن ابنة هشام بن الوليد بن المغيرة وكانت تمرض عمارا قالت جاء معاوية إلى عمار يعوده فلما خرج من عنده قال اللهم لا تجعل منيته بأيدينا فانى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول تقتل عمارا الفئة الباغية . رواه أبو يعلى والطبراني وابنة هشام والراوي عنها لم أعرفهما ، وبقية رجالهمارجال الصحيح .

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29/ربیع الالول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب