| 88709 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
(ساتویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ )حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ(جن کو حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتائے تھے ،اور یہ بالکل صحیح روایت سے ثابت ہے) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نفاق کو جانتے تھے اور ان کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے تھے اوراپنے بیٹوں کوحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑنے کی وصیت کی تھی(بخاری:ج14،ص217)اس میں چار مناقفین کا ذکر ہے۔ حاظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نےفتح الباری ج ۱۳،ص ۹۱ پر حضرت مجاہد کی روایت نقل کی ہے۔جس میں ابو سفیان کا نام ہے۔
سؤال: کیا یہ روایت اور استدلال درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے اصل روایت نقل کی جاتی ہے، تاکہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔
صحيح البخاري ـ م م - (ج 6 / ص 65):
حدثنا محمد بن المثنى حدثنا يحيى حدثنا إسماعيل حدثنا زيد بن وهب قال كنا عند حذيفة فقال ما بقي من أصحاب هذه الآية إلا ثلاثة ولا من المنافقين إلا أربعة فقال أعرابي إنكم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم تخبرونا فلا ندري فما بال هؤلاء الذين يبقرون بيوتنا ويسرقون أعلاقنا قال أولئك الفساق أجل لم يبق منهم إلا أربعة أحدهم شيخ كبير لو شرب الماء البارد لما وجد برده
پہلی بات تو یہ کہ بخاری میں اس قسم کی کوئی روایت نہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نفاق کو جانتے تھے۔
دوسری بات کہ یہ بھی ثابت نہیں کہ اپنے بیٹوں کو انکے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے تھے۔
تیسری بات یہ کہ محدثین کی تشریح کے مطابق اس روایت میں ابو سفیان کا نام چار منافقین کی تفسیر کے طور پر نہیں ،بلکہ (قبل ازااسلام) ائمہ کفر کی تشریح کے طور پر حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالی سے منقول ہے۔لہذا موصوف اسکالرکا مذکورہ بیان بالکل خلاف حقیقت وتحقیق اور بہتان ہے۔
حوالہ جات
فتح الباري شرح صحيح البخاري - (ج 17 / ص 457):
روى الطبري من طريق السدي قال المراد بأئمة الكفر كفار قريش ومن طريق الضحاك قال أئمة الكفر رؤوس المشركين من أهل مكة قوله الا ثلاثة سمي منهم في رواية أبي بشر عن مجاهد أبو سفيان بن حرب وفي رواية معمر عن قتادة أبو جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وأبو سفيان وسهيل بن عمرو وتعقب بأن أبا جهل وعتبة قتلا ببدر وإنما ينطبق التفسير على من نزلت الآية المذكورة وهو حي فيصح في أبي سفيان وسهيل بن عمرو وقد أسلما جميعا قوله إلا أربعة لم يوقف على أسمائهم( وکذا فی عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (ج 27 / ص 289)
فيض البارى شرح صحيح البخارى - (ج 6 / ص 308):
قوله: (ما بقي من أصحاب هذه الآية إلا ثلاثة ولا من المنافقين إلا أربعة) وهذا يدلك ثانيا على أن المنافقين كانوا معروفين بين الصحابة رضي الله تعالى عنهم بأعيانهم. إلا أنهم لم يكونوا يتعرضون لهم، لئلا يشتهر في الناس أن النبي صلى الله عليه وسلم يقتل أصحابه.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29 ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


