| 88715 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
(تیرہویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) حضرت عبد الرحمان بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ انہوں حضرت معاویہ کی تجارت کےلیے خریدے گئے گھڑے دیکھے توان کو توڑڈالا اور قسم کھاکر فرمایا کہ میں معاویہ کا پیٹ پھاڑدونگا۔معرفۃ الصحابہ میں یہ حدیث ذکر کی گئی ہے جلد نمبر 4 ہے اورصفحہ 1828 ہے اور یہ حدیث صحیح ہے، اور متعدد سندوں سے یہ واقعہ ثابت ہے۔کیا روایت اوربات صحیح ہے؟
سؤال کیا یہ واقعہ اورروایت صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سےپہلے اصل روایت ملاحظہ ہو۔
معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني - (ج 13 / ص 105):
حدثنا محمد بن أحمد بن حمدان ، ثنا الحسن بن سفيان ، ثنا إسماعيل بن موسى السدي ، ثنا أبو تميلة يحيى بن واضح ، عن محمد بن إسحاق ، عن بردة بن سفيان ، عن محمد بن كعب القرظي ، قال : « غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري في زمان عثمان ، ومعاوية أمير على الشام ، فمرت به روايا خمر تحمل لمعاوية ، وبر فقام إليها عبد الرحمن برمحه ، فنقر كل راوية منها ، فناوشه غلمانه حتى بلغ مثأنة معاوية ، فقال : دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله ، فقال : كذب والله ، ما ذهب عقلي ، ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخل بطوننا ، وأسقيتنا ، وأحلف بالله لئن أنا بقيت حتى أرى في معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، لأبقرن بطنه ولأموتن دونه »
عبد الرحمن بن سهل بن حنيف الأنصاري ذكره ابن أبي داود في الصحابة ، ولا يصح ، والصحبة لأبيه وأخيه أبي أمامة ، وله رؤية
پہلی بات تو یہ ہے کہ عبد الرحمان سہل کی صحابیت میں اختلاف ہے ،جبکہ خود معرفۃ الصحابہ میں ابو نسیم اصفہانی نے لکھا ہے کہ انکی صحابیت کی بات صحیح نہیں،جبکہ اسکالر موصوف انہیں یقینی صحابی ظاہر کیا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے، چنانچہ اس روایت کو ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالی نے الاصابۃ میں سندہ ضعیف کہا ہے اوردیگر محققین نے اس خبر کو پے درپے علتوں کے باعث باطل بھی کہا ہےجو درج ذیل ہیں:
۱۔ محمد ابن اسحاق مدلس روای ہے اورمدلس کی روایت عنعنہ سے غیر مقبول ہوتی ہے۔
۲۔ محمد بن اسحاق بریدہ بن سفیان سے روایت کرتے ہیں ، جبکہ بریدہ نہایت کمزور اور غالی درجہ کا شیعہ راوی تھا۔
۳۔ بریدہ بن سفیان محمد بن کعب سے یہ روایت نقل کرتے ہیں جبکہ خود محمد بن کعب اس واقعہ کو مشاہدہ کرنے والوں میں سے نہیں، لہذاکوئی واسطہ ساقط ہے جو مبہم اورمجہول ہے۔
مسودة كتاب من فضائل وأخبار معاوية دراسة حديثية - (ج 1 / ص 76) :
وهذا خبر باطل، وسنده مسلسل بالعلل: ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وبريدة واه، وكان غاليا في التشيع (تهذيب الكمال وحاشيته 4/56)، ومحمد بن كعب لم يدرك الواقعة، كما يظهر من ترجمته وطبقته (تهذيب الكمال 26/347 وغيره)وضعّفه ابن حجر في الإصابة.
تیسری بات یہ کہ اگر یہ واقعہ اور روایت صحیح اور ثابت ہے تو اس میں خود عبد الرحمان سہل پر اعتراض متوجہ ہوتا ہے کہ جب یہ مٹکے انہوں نے اپنے نیزے سے پھاڑے تو ان کے لڑکوں نے ان کے سامنے فورا اس بہتے مشروب میں سے پینا شرو ع کیا تو اگر یہ واقعۃ شراب تھی تو ان کو اپنے سامنے پیتے ہوئے کیوں منع نہ کیا؟ اور اگر یہ شراب نہیں تھی ، بلکہ ( بفرض ثبوت روایت) یہ نبیذ تھا تو ایسے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیوں اعتراض تھا؟ لہذاحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا فانہ شخ قد ذھب عقلہ کہنا بالکل بجا تھا۔
چوتھی بات یہ ہےکہ اگر یہ شخصیت نہ ذاہب العقل تھے اور نہ ہی مشروب نبیذ تھا اور یہ شخصیت صحابی یا کم از کم تابعی تھے تو ایسے میں انہوں نے اس عظیم جرم کی شکایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کیوں نہ دی ؟ کیا اس طرح کر کے وہ اپنی منصبی ذمہ داری میں کوتاہی کے مرتکب نہ ہوئے؟
پانچویں بات یہ کہ روایا خمر کے بعد لمعاویہ کا اضافہ صرف بعض اہل تشیع کے نقل میں موجود ہے ، کسی بھی مستند تاریخ میں ان مٹکوں کی نسبت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نہیں پائی جاتی۔
لہذا درج بالا وجوہ کی بناء پراس روایت تاریخی غیر معتبر،بلکہ منگھڑت روایت سے بھی عدالت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض درست نہیں، بلکہ ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
جامع الأحاديث لجلال الدين السيوطي - (ج 35 / ص 308):
عن محمد بن كعب القرظى قال : غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصارى فى زمن عثمان ومعاوية أمير على الشام فمرت بهم روايا خمر تحمل فقام إليها عبد الرحمن برمحه فبقر كل رواية فناوشه غلمانه حتى بلغ شأنه معاوية فقال دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فقال كذبت والله ما ذهب عقلى ولكن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نهانا أن ندخله بطوننا واسقيتنا وأحلف بالله لئن أنا بقيت حتى أرى فى معاوية ما سمعت من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لأبقرن بطنه أو لأموتن دونه (الحسن بن سفيان ، وابن منده ، وابن عساكر) [كنز العمال 13716]أخرجه ابن عساكر (34/420) .
الغدير للأميني - (ج 3 / ص 357):
أخرج ابن عساكر في تاريخه، وابن سفيان في مسنده، وابن قانع وابن مندة من طريق محمد بن كعب القرظي قال: غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري في زمن عثمان، ومعاوية أمير على الشام فمرت به روايا خمر - لمعاوية - فقام إليها برمحه فبقر كل راوية منها فناوشه الغلمان حتى بلغ شأنه معاوية فقال: دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله.فقال: كلا والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخل بطوننا وأسقيتنا خمرا، و أحلف بالله لئن بقيت حتى أرى في معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبقرن بطنه أو لأموتن دونه. وذكره ابن حجر في الإصابة 2: 401، ولخصه في تهذيب التهذيب 6: 192، وأخرجه ملخصا أبو عمر في الاستيعاب 2: 401، وذكره ابن الأثير في أسد الغابة 3: 299 باللفظ المذكور إلى (وأسقيتنا) فقال: أخرجه الثلاثة (يعني ابن مندة وأبو نعيم وأبوعمر).
الإصابة في تمييز الصحابة لأحمد العسقلاني - (ج 6 / ص 269):
عبد الرحمن بن سهل الانصاري قال البخاري له صحبة روى عن محمد بن كعب القرظي سمعه في زمن عثمان وقال بن أبي حاتم وابن حبان وابن السكن روى عنه محمد بن كعب وأخرج الحسن بن سفيان في مسنده وابن قانع وابن منده من طريق بن إسحاق عن بريدة بن سفيان عن محمد بن كعب القرظي قال غزا عبد الرحمن بن سهل الانصاري في زمن عثمان ومعاوية أميرا على الشام فمرت به روايا خمر فقام إليها برمحه فنقر كل رواية منها فناوشه الغلمان حتى بلغ شأنه معاوية فقال دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فبلغه فقال كلا والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخل بطوننا وأسقيتنا خمرا وأحلف بالله لئن بقيت حتى أرى في معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا بد من بطنة أو لاموتن دونه وسنده ضعيف من أجل يزيد بن سفيان
مسودة كتاب من فضائل وأخبار معاوية دراسة حديثية - (ج 1 / ص 76):
وهذا خبر باطل، وسنده مسلسل بالعلل: ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وبريدة واه، وكان غاليا في التشيع (تهذيب الكمال وحاشيته 4/56)، ومحمد بن كعب لم يدرك الواقعة، كما يظهر من ترجمته وطبقته (تهذيب الكمال 26/347 وغيره)وضعّفه ابن حجر في الإصابة.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/ ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


