| 88611 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے نانا صاحب کا انتقال تقریباً 2012ء میں ہوا، ان کے ترکہ میں کافی جائیدادیں (زمینیں، دکانیں، مکانات اور نقدی وغیرہ) شامل تھیں، نانا مرحوم کی کل سات بیٹیاں اور ایک بیٹا (ہمارے ماموں) ہیں۔نانا کی وفات کے بعد وراثت کی تقسیم یوں ہوئی کہ ہمارے ماموں نے تمام بہنوں کو اکٹھا کیا اور ہر بہن سے بغير بتائے ہوئے10 لاکھ روپے پر انگوٹھا لگوایا کہ ہر بہن کا وراثتی حصہ سولہ لاکھ روپیہ بنتا ہے جو اس کو ادا کر دیا جائے گا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر بہن کا شرعی حصہ 10 لاکھ روپے سے کہیں زیادہ بنتا تھا، لیکن سب بہنوں نے یہ انگوٹھا بغیر خوش دلی کےاور بے خبری میں لگایا۔ اس موقع پر کوئی مرد گواہ بھی موجود نہ تھا۔ماموں نے بعض بہنوں کو 10 لاکھ روپے دیے اور بعض کے لیے حج یا عمرہ کے اخراجات برداشت کر کے ان کے بدلے انگوٹھا لگوایا، پھر حج یا عمرہ کی ادائیگی کے بعد بھی ان سے دوبارہ تصدیق کے طور پر انگوٹھا لگوایا کہ ان کو اپنا حصہ مل گیاہے۔
ہمارے معاملے میں یہ ہوا کہ میری والدہ نے ابتدا میں ناواقفیت میں 10 لاکھ روپےپر انگوٹھا لگایا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ انگوٹھا دھوکے اور حیلے سے لگوایا گیا تھا، انہیں علم نہ تھا کہ اس كاغذ ميں كيا لكھا ہواہے؟ بعد میں والدہ نے ماموں سے صرف 10 لاکھ روپے وصول کیے، باقی کے 6 لاکھ روپے لینے سے انکار کیا اور اب وہ اپنا پوراً شرعی حق چاہتی ہیں۔ماموں کا دعویٰ ہے کہ:
"آپ پہلے مقرر شدہ رقم پر راضی تھیں اور دوسرا یہ کہ ترکہ میں آپ کا حق اتنا ہی بنتا تھا، لہذا اب آپ کو اسی پر قائم رہنا ہوگا، ورنہ آپ کو اس بات پر حلف لینا ہوگا کہ آپ مقررہ حصہ پر راضی نہیں تھیں۔"
اس تفصیل کے بعد اب ہمارے سوالات درج ذيل ہیں:
1. کیا میری والدہ اس بات کی پابند ہیں کہ وہ ماموں کے مقرر کردہ 10 لاکھ روپے پر راضی رہیں،یا انہیں اپنا پورا شرعی حق لینے کا اختیار ہے؟
2. اگر انہوں نے دباؤ، بے خبری یا دھوکے میں آ کر انگوٹھا لگایا تھا تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
3. ہر بہن کا حصہ 10 لاکھ سے زیادہ بنتا تھاتو کیا مقررہ رقم پر راضی ہونا ضروری ہے؟
4. ماموں کے اس مطالبے کی شرعی حیثیت کیا ہے کہ "آپ کو حلف دینا ہوگا کہ آپ مقررہ حصہ پر راضی نہیں تھیں"؟
5. شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا صحیح حل کیا ہے؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ میری والدہ حلف اٹھانے پر تیار ہیں کہ وہ دستخط کرتے وقت بقیہ حصہ معاف کر کے صرف دس لاکھ روپے پر راضی نہیں تھیں، نیز انہوں نے جو دس لاکھ روپیہ ماموں سے وصول کیا ہے، وہ بقیہ حصہ معاف کر کے صلح کے طور پر وصول نہیں لیا، بلکہ اپنے وراثتی حصہ کے طور پر لیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2۔ جاننا چاہیے کہ وراثت ایک جبری حق ہے، جو آدمی کی وفات کے بعد خود بخود ا س کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس لیے یہ وراثتی حصہ معاف کرنے اور دستبردار ہونے سے بھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ بدستور وارث کی ملکیت میں باقی رہتا ہے اور اس حصے پر قبضہ کرنے والے شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وارث کا شرعی حصہ اس کے حوالے کرے، ورنہ وہ آخرت میں اس حصہ کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔
نیز فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ایک اصول یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ناواقفیت یا غلطی فہمی کی بناء پر کسی کا حق کسی دوسرے شخص کے پاس رہ گیا تو بھی وہ حق ختم نہیں ہوتا، جیسے کاروباری حساب میں باہمی رضامندی سے تصفیہ ہونے کے بعدعلم ہوا کہ ایک شریک کا حصہ زیادہ بنتا تھا، جبکہ حساب میں غلطی کی وجہ سے اس کو کم دیا گیا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ یہ شریک پہلے کم حصہ لینے پر راضی تھا، لیکن اب زیادہ حصہ کا علم ہونے پر اس کو بقیہ حصے کے مطالبے کا حق حاصل ہو گا۔
اسی طرح مذکورہ صورت میں اگر آپ کے ماموں نے سب بہنوں کا وراثتی حصہ دس لاکھ روپیہ مقرر کرکے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر ان سے دستخط لے لیے تو ایسی صورت میں اگر ہربہن کا وراثتی حصہ شرعاً دس لاکھ سے زیادہ بنتا تھا اور بہنوں نے صراحتاً اپنا بقیہ حصہ اس کو معاف نہیں کیا، جیسا کہ آپ نے اپنی والدہ کے بارے میں لکھا ہے تو ایسی صورت میں ہر بہن کو اپنے بھائی سے مکمل حصے کے مطالبے کا حق حاصل ہے، بھائی کے ان سے دستخط لے کر ان کو دس لاکھ روپیہ دینے یا حج و عمرہ کے اخراجات برداشت کرنے سے ان کا شرعی حق ختم نہیں ہوا، بلکہ بھائی کے قبضہ میں موجود والد کی وراثتی جائیداد میں ہر بہن کا حصہ بدستور باقی ہے اور بھائی کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بہن کے وراثتی حصہ سے دس لاکھ روپیہ کاٹ کر اس کا بقیہ حصہ اس کے حوالے کرے، اگر بھائی ایسا نہیں کرے گا تو سخت گناہ گار ہو گا، جس کا نتیجہ آخرت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے اور آخرت کا وبال بہت سخت ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ دنیا میں اپنے معاملات صاف کر کے جائے، تاکہ آخرت میں سرخرو ہو سکے۔
3،4،5۔ اگر آپ کی والدہ اور دیگر بہنوں نے دس لاکھ روپیہ وصول کر کے بقیہ حصہ ابھی تک زبانی یا تحریری طورپر آپ کے ماموں کو معاف نہیں کیا تو ایسی صورت میں آپ کی والدہ اور دیگر سب بہنوں کا بقیہ وراثتی حصہ بدستور آپ کے ماموں کے پاس باقی ہے، جس کی ادائیگی آپ کے ماموں کے ذمہ لازم ہے اورکسی بھی بہن پر صرف دس لاکھ روپیہ لینے پر راضی رہنا ضروری نہیں،بلکہ وہ اپنا مکمل وراثتی حصہ لینے میں حق بجانب ہے، البتہ اگر کسی بہن نے اپنا بقیہ وراثتی حصہ اپنی خوشی اور رضامندی سے معاف کر دیا ہو یاوہ ابھی معاف کر دے تو ان دونوں صورتوں میں اس بہن کو بقیہ حصہ دینا بھائی یعنی آپ کے ماموں کے ذمہ دینا لازم نہیں ہو گا۔
باقی آپ کے ماموں کے آپ کی والدہ سے قسم کا مطالبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ بالفرض آپ کی والدہ دس لاکھ روپیہ لینے پر راضی بھی ہوں تو بھی جب تک آپ کی والدہ اپنا بقیہ وراثتی حصہ صراحتاً معاف نہیں کرے گی اس وقت تک بقیہ حصہ معاف نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
جامع الفصولين (2/ 116)للشيخ محمود بن إسرائيل الشهير بابن قاضي:
تبرع رجل بأداء الدين بلا رضا من عليه صح وكذا لو قبل الحوالة من غير أمر المحيل برضا المحال له صح ولو تبرع بدين ثم انتقض ذلك بوجه من الوجوه يعود إلى ملك القاضب إذ تبرع بقضاء دينه ولو قضى بأمره يعود إلى ملك من عليه ويضمن للقاضي مثله.
شرح القواعد الفقهية (ص: 305) الناشر: دار القلم - دمشق / سوريا:
إذا انتقض التبرع بعد تمامه بالقبض يعود المال المتبرع به إلى المتبرع، ففي جامع الفصولين: لو تبرع الإنسان بقضاء دين غيره، ثم ظهر أن لا دين عليه، يعود إلى ملك المتبرع.
تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 110) الناشر: دار المعرفة:
( سئل ) فيما إذا كان لكل من زيد وعمرو عقار جار في ملكه بمفرده فتوافقا على أن ما يحصل من ريع العقارين بينهما نصفين واستمرا على ذلك تسع سنوات والحال أن ريع عقار زيد أكثر ويريد زيد مطالبة عمرو بالقدر الزائد الذي دفعه لعمرو بناء على أنه واجب عليه بسبب الشركة المزبورة فهل يسوغ لزيد ذلك ؟ (الجواب) : الشركة المزبورة غير معتبرة فحيث كان ريع عقار زيد أكثر تبين أن ما دفعه لعمرو من ذلك بناء على ظن أنه واجب عليه.
ومن دفع شيئا ليس بواجب عليه فله استرداده، إلا إذا دفعه على وجه الهبة واستهلكه القابض كما في شرح النظم الوهباني وغيره من المعتبرات.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 160) الناشر: دار الفكر-بيروت:
قلت: وبه أفتى الحانوتي وغيره وفي الفتاوى الحامدية سئل فيما إذا كان لزيد بذمة عمرو مبلغ دين معلوم فرابحه عليه إلى سنة، ثم بعد ذلك بعشرين يوما مات عمرو المديون، فحل الدين ودفعه الوارث لزيد، فهل يؤخذ من المرابحة شيء أو لا؟ الجواب جواب المتأخرين: أنه لا يؤخذ من المرابحة التي جرت المبايعة عليها بينهما إلا بقدر ما مضى من الأيام قيل للعلامة نجم الدين: أتفتي به؟ قال: نعم كذا في الأنقروي والتنوير، وأفتى به علامة الروم مولانا أبو السعود وفي هذه الصورة بعد أداء الدين دون المرابحة إذا ظنت الورثة أن المرابحة تلزمهم فرابحوه عليها عدة سنين بناء على أن المرابحة تلزمهم حتى اجتمع عليهم مال، فهل يلزمهم المال أو لا؟ الجواب: لا يلزمهم لما في القنية برمز بكر خواهر زاده كان يطالب الكفيل بالدين بعد أخذه من الأصيل، ويبيعه بالمرابحة، حتى اجتمع عليه سبعون دينارا، ثم تبين أنه قد أخذه فلا شيء له؛ لأن المبايعة بناء على قيام الدين ولم يكن اهـ. هذا ما ظهر لنا والله سبحانه أعلم اهـ.
الأشباہ والنظائر (ج3 صـ53-60 مایقبل الإسقاط من الحقوق وما لایقبلہ ط: ادارۃ القرآن):
لو قال الوارث: ترکت حقی لم یبطل حقہ اذالملک لایبطل بالترک (الی قولہ) وحق الوارث قبل القسمۃ (الی قولہ) بیان الساقط لایعود: فلا یعود الترتیب بعد سقوط بقلۃ الفوائت، بخلاف ما اذا سقط بالنسیان الخ.
الدرالمختار(ج5 ص:642 فصل فی التخارج ط: ايچ ايم سعید):
(أخرجت الورثۃ أحدھم عن) الترکۃ وھی (عرض أو) ھی عقار بمال أعطاہ لہ (أو) أخرجوہ (عن) ترکۃ ھی (ذھب بفضۃ) دفعوھا لہ (أو) علی العکس أو عن نقدین بھما (صح) فی الکل صرفا للجنس بخلاف جنسہ (قل) ما أعطوہ (أو کثر) لکن بشرط التقابض فیما ھو صرف الخ
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
7/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


