| 88625 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ابوبکر(فرضی نام ) نے مسجد کے امام احمد (فرضی نام )کو ڈھائی لاکھ روپے دیے کہ یہ مسجد میں جہاں ضرورت ہو وہاں پر لگایا کریں،اور اگر بچ جائیں تو مجھے واپس کردینا۔احمد کے پاس بعد میں ان پیسوں کے علاوہ چندہ کے پیسے بھی آئے اور مسجد کے پرانے دروازے بیچ کران کی رقم بھی حاصل کی گئی۔اس مجموعی رقم سے مسجد میں جہاں ضرورت پڑتی وہاں پر خرچ کرتے تھے۔اس دوران اہلِ محلہ کے درمیان کچھ امور میں اختلاف پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے مسجد پر تعمیری کام رک گیا اور احمد نے مسجد کی امامت چھوڑ دی۔اب احمد کا سوال یہ ہے کہ ان پیسوں کا کیا جائے؟جبکہ اسے رقم کے خلط ملط ہوجانے کی وجہ سے حساب کتاب صحیح طور پر یاد نہیں ہے۔اب یہ رقم ابوبکر کو واپس کردی جائے؟ اگر ابوبکر کو واپس کریں گے تو کیسے حساب لگائیں گے اور کتنی رقم واپس کریں گے؟ یا اہلِ محلہ کو دی جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب ابو بکر نے احمد کو یہ کہہ کر رقم دے دی کہ مسجد میں جہاں ضرورت ہو وہاں پر لگایا کریں اور اگرکچھ بچ جائے تو مجھے واپس کردینا ،تو اس سےیہ ساری رقم مسجد کے لیے صدقہ ہوگئی،اگرچہ اس میں ابوبکر کا یہ کہنا کہ کچھ رقم بچ جائے تو وہ مجھے واپس کردیناشرطِ فاسد ہےمگر اس سے صدقہ پر کوئی اثرنہیں پڑتا،کیونکہ صدقہ میں خود ایسی لگائی گئی شرط ہی باطل ہوجاتی ہے۔اس لیےابو بکر کی دی ہوئی رقم سے مسجد پر خرچ کرنے کے بعد جتنی رقم باقی ہےاورجو اس کے علاوہ چندے اور مسجدکے پرانے دروازوں کی رقم ہے،یہ ساری رقم مسجدکی ہے،لہٰذا اب اس رقم سے ابو بکر کو کچھ واپس کیے بغیرہی مسجد کی ضروریات میں اسے ٹھیک طریقے سے خرچ کیا جائے گا۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 228):
قال: "فإن وهبها له على أن يردها عليه أو على أن يعتقها أو أن يتخذها أم ولد ،أو وهب دارا أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها أو يعوضه شيئا منها فالهبة جائزة والشرط باطل"؛ لأن هذه الشروط تخالف مقتضى العقد فكانت فاسدة، والهبة لا تبطل بها، ألا ترى أن النبي عليه الصلاة و السلام أجاز العمرى وأبطل شرط المعمر بخلاف البيع؛ لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع و شرط، ولأن الشرط الفاسد في معنى الربا، وهو يعمل في المعاوضات دون التبرعات.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 447):
وذكر الإمام قاضي خان العقود التي يتعلق تمامها بالقبول أقسام ثلاثة: قسم يبطل بالشرط الفاسد و جهالة البدل، وهي مبادلة المال بالمال كالبيع والإجارة والقسمة والصلح عن دعوى المال. وقسم لا يبطل بالشرط الفاسد ولا جهالة البدل ،وهو معاوضة المال بما ليس بمال كالنكاح والخلع و الصلح عن دم عمد. وقسم له شبه بالبيع والنكاح، وهو الكتابة يبطلها جهالة البدل ولا يبطلها الشرط الفاسد.وفي الخلاصة: التي تبطل بالشروط الفاسدة ولا يصح تعليقها بالشرط ثلاثة عشر: البيع، و القسمة... وما لا يبطل بالشروط الفاسدة ستة وعشرون: الطلاق، والخلع، ولو بغير مال، و العتق بمال وبلا مال، والرهن، والقرض، والهبة، والصدقةالخ.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7/ربیع الثانی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


