03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین کی اطاعت اور قرآن حفظ کرنے کی خواہش: شرعی رہنمائی
88610جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نام سعدیہ ہے اور میں قرآن کی تعلیم لے رہی ہوں۔ میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو اس راستے پر چل رہی ہوں اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں قرآن حفظ کرلوں۔ لیکن میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں بیرونِ ملک جا کر پڑھائی کروں۔ میں جانا نہیں چاہتی، مگر میرے والدین مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ میں جاؤں۔

میں بہت پریشان ہوں، یہاں تک کہ وہ مجھے اب مدرسے بھی نہیں جانے دے رہےہیں۔ میں انہیں سمجھا کر تھک گئی ہوں لیکن وہ کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب میں آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں کہ میں کیا کروں؟ اپنی حفظِ قرآن کی خواہش پوری کروں یا ان کی رضامندی کے آگے سر جھکا دوں؟ کیونکہ پورا گھر میرے خلاف کھڑا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں قرآن کریم کو یاد کرنے کی خواہش ڈالی ہے، یہ بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی ہے۔ قرآن حفظ کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں میں بلند مقام پاتا ہے۔

تاہم ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ والدین کی اطاعت دین میں بہت اہم ہے۔ ہر وہ بات جو جائز ہو اور جس میں دین و ایمان کو نقصان نہ ہو، اس میں والدین کی اطاعت ضروری ہے۔ ہاں اگر والدین ایسی چیز کا حکم دیں جس میں دین یا اخلاق کو بگاڑ کا خطرہ ہو، مثلاً بیرونِ ملک جا کر اعتقادی کمزوری یا برے ماحول میں پڑنے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں والدین کا حکم ماننا واجب نہیں رہتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائزنہیں"۔

لہٰذا آپ کے لیے دو راستے ہیں:

* اگر بیرونِ ملک تعلیم آپ کے ایمان و اخلاق کے لیے محفوظ ہے تو والدین کی رضا کے ساتھ وہاں جاکر بھی قرآن یاد کرنے کی کوشش کریں۔ آج کے دور میں آن لائن کلاسز، ذاتی استاذہ اور مختلف دینی مراکز کے ذریعے بھی حفظ مکمل کیا جاسکتا ہے۔

* اوراگر وہاں دین و ایمان کو نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے، تو والدین کے حکم پر عمل کرنا ضروری نہیں۔ لیکن انکار سختی یا بغاوت سے نہیں، بلکہ نرمی، ادب اور عاجزی سے کریں۔ بار بار والدین کو یہ سمجھائیں کہ آپ ان کی نافرمان نہیں بننا چاہتیں، صرف اپنے دین اور قرآن کی حفاظت چاہتی ہیں۔

والدین کے لیے نصیحت

والدین کوبھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کے دل میں جو قرآن حفظ کرنے کی خواہش ودیعت رکھی ہےاس کو دبانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ دنیاوی تعلیم بھی اہم ہے، لیکن قرآن مجید کو یاد کرنے کا شرف سب سے بڑی سعادت ہے۔ بیٹی اگر قرآن یاد کرے گی تو والدین کو بھی قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کے اس جذبے کو سمجھیں، اس کے ساتھ تعاون کریں اور دعا دیں تاکہ وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہو۔

حوالہ جات

وفی القران الکریم:

وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً) الاسراء:23)

وفی سنن الترمذی(ج:۲، ص:۱۱۹):

’’یَجِیْئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ حَلِّہٖ فَیُلْبَسُ تَاجَ الْکَرَامَۃِ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ زِدْہُ، فَیُلْبَسُ حُلَّۃَ الْکَرَامَۃِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَا رَبِّ زِدْہُ، فَیُحَلّٰی حُلَّۃَ الْکَرَامَۃِ ، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَا رَبِّ ارْضَ عَنْہُ فَیَرْضَی عَنْہُ، ثُمَّ یُقَالُ لَہٗ: اقْرَأْہُ وَارْقَہْ وَیُزَادُ بِکُلِّ آیَۃٍ حَسَنَۃً۔‘‘      

وفی صحیح البخاری:

-’’إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ مِنْ قَتْلٰی أُحُدٍ فِيْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ ، ثُمَّ یَقُوْلُ: أَیُّہُمَا أَکْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، فَإِذَا أُشِیْرَ إِلَی أَحَدِہِمَا قَدَّمَہٗ فِي اللَّحْدِ۔‘‘ (فضائل القرآن الکریم وحملتہ فی السنۃ المطہرۃ لمحمد موسی نصر، ص:۳۳)

’’اَلْقُرْآنُ أَفْضَلُ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ فَمَنْ وَقَّرَ الْقُرْأٰنَ فَقَدْ وَقَّرَ اللّٰہَ وَمَنِ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللّٰہِ تَعَالٰی ، حَمَلَۃُ الْقُرْآنِ ہُمُ الْمَحْفُوْفُوْنَ بِرَحْمَۃِ اللّٰہِ الْمُعَظِّمُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ الْمُلْبَسُوْنَ نُوْرَ اللّٰہِ فَمَنْ وَالَاہُمْ فَقَدْ وَالَی اللّٰہَ وَمَنْ عَادَاہُمْ فَقَدِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللّٰہِ تَعَالٰی۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن للقرطبیؒ، ج:۱،ص:۲۶)

وفی سنن ابی داؤد:

"عن سهل بن معاذ الجهني، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ‌قرأ ‌القرآن ‌وعمل ‌بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة ضوءه أحسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم." 

 (‌‌باب في ثواب قراءة القرآن، ج:١، ص:٥٤٣، ط:المطبعة الأنصارية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

07/4/1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب