| 88623 | نماز کا بیان | مسجدکے احکام و آداب |
سوال
جو مکتب (دینی مدرسہ) کسی مسجد کے ماتحت چل رہا ہو، تو کیا ایسے مکتب کے اخراجات مسجد کے بیت المال سے پورے کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں مسجد کے لیے دیا گیا چندہ صرف مسجد کی ضروریات اور مصالح میں صرف کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ مکتب (دینی مدرسہ) مسجد کے مصالح میں شامل نہیں ہے، اس لیے مسجد کے چندے سے مکتب کے اساتذہ کو تنخواہ دینا یا دیگر اخراجات پورے کرنا شرعاً جائز نہیں۔تاہم اگر چندہ دینے والوں سےپیشگی اجازت لے لی جائے کہ یہ تعاون مسجد اور مکتب دونوں کے لیے ہے، تو پھر اس رقم کو مکتب کی ضروریات، مثلاً اساتذہ کی تنخواہوں وغیرہ میں بھی استعمال کرنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندیة: ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به لأنه قربة وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة كذا في محيط السرخسي. ) الفتاوى الهندیة: 371/5)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع. اهـ )رد المحتار: 4/ 367)
وفی الفتاوى الهندية:وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة.(الفتاوى الهندية: 2/ 463)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع. اهـ )رد المحتار: 4/ 367)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به۔
(رد المحتار: 4/ 366)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/10ربیع الثانی ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


