03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ خاتون کی کفالت
88634نان نفقہ کے مسائلدیگر رشتہ داروں کے نفقحہ کے احکام

سوال

میرا نام شگفتہ کفیل ہے اور میری عمر ۵۷ سال ہے۔ میں گردوں کی مریضہ ہوں اور ہفتے میں دو مرتبہ ڈائیلاسس کروانا پڑتا ہے۔ میں آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ ترکہ کی تقسیم کے بعد شریعت کے مطابق میری کفالت کا کیا انتظام ہوگا؟

میری حالت یہ ہے کہ میرے دونوں بھائی میری ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہیں، والدین بھی حیات نہیں ہیں، جبکہ میری بڑی بہن بیوہ ہے اور وہ بھی اس حیثیت میں نہیں کہ میری مدد کرسکے۔ میری دو اور بہنیں ہیں جو ممکنہ طور پر کچھ مدد کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈائیلاسس کے لیے آنے جانے کا کرایہ بھی میرے اخراجات میں شامل ہے، جب کہ ضروریاتِ زندگی علیحدہ ہیں۔

لہٰذا براہِ کرم اس حوالے سے شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والدین کا نفقہ (اخراجات) اپنی اولاد پر واجب ہوتا ہے، اسی طرح  جبکہ آپ بیمارہیں ہفتے میں  دو مرتبہ ڈائیلاسس بھی کروانا پڑتاہے اور اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے قابل نہیں  تو آپ  کا نفقہ آپ  کے قریبی رشتہ داروں پر واجب ہوتا ہے، بالخصوص ان پر جو شرعی طور پر وارث بھی بنتے ہیں۔

آپ کے بیان کے مطابق والدین کا انتقال ہوچکا ہے اور بھائی آپ کی کفالت کی استطاعت نہیں رکھتےتو ایسی صورت میں اگر آپ کی اولاد (بیٹا یا بیٹی) ہوتی تو سب سے پہلے انہی پر آپ کے نفقہ کی ذمہ داری لازم آتی ہے،مگر  یہ اس وقت ہے جب کہ  آپ کے اپنے حصہ  میراث میں علاج معالجہ کےاخراجات اور نفقہ  کی گنجائش نہ ہو۔اسی طرح اگر اولاد نہ ہویا وہ بھی یہ ضروری اخراجات برداشت نہ کرسکیں تو پھر آپ کے قریبی محرم رشتہ دار (بھائی، بہن) اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں گے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 614)::

 (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقًا وزمن.(قوله: كأنثى مطلقًا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة."

الفتاوى الهندية (1 / 566)::

لَا يَقْضِي بِنَفَقَةِ أَحَدٍ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ إذَا كَانَ غَنِيًّا أَمَّا الْكِبَارُ الْأَصِحَّاءُ فَلَا يَقْضِي لَهُمْ بِنَفَقَتِهِمْ عَلَى

غَيْرِهِمْ، وَإِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ، وَتَجِبُ نَفَقَةُ الْإِنَاثِ الْكِبَارِ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ، وَإِنْ كُنَّ صَحِيحَاتِ الْبَدَنِ إذَا كَانَ بِهِنَّ حَاجَةٌ إلَى النَّفَقَةِ كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ.

محمدابراہیم عبدالقادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   13/ربیع الثانی /1447 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب