| 88685 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
ایچ پی ویکسین کا حکم کیا ہے؟کیا اسے لگوا سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایچ پی وی (HPV[Human Papillomavirus]) کیا ہے؟
ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ایک نہایت عام وائرس ہے جس کی 150 سے زائد اقسام ہیں۔ یہ عموماً جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
HPV کی دو بڑی اقسام ہیں:
ہائی رسک (High-risk HPV)
یہ خطرناک بیماریاں پیدا کر سکتا ہے، جیسے رحمِ مادر (Cervix)، مقعد (Anus) اور دیگر حصوں کا کینسر۔ سب سے خطرناک اقسام HPV 16 اور 18 ہیں۔
لو رسک (Low-risk HPV)
یہ کینسر پیدا نہیں کرتالیکن جنسی مسوں (Genital warts) جیسی نسبتاً کم خطرناک بیماریاں پیدا کرتا ہے۔
پاکستان میں HPV کی صورتحال
Human Papillomavirus and Related Cancers Fact Sheet 2023 کے مطابق:
- پاکستان میں ہر سال تقریباً 5,008 خواتین سروائیکل کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں۔
- ان میں سے تقریباً3,197 خواتین وفات پا جاتی ہیں۔
- سروائیکل کینسر پاکستان میں خواتین میں تیسرا سب سے زیادہ عام کینسرہے، جبکہ 15 سے 44 سال کی عمر کی خواتین میں یہ دوسرا سب سے زیادہ عام کینسر ہے۔
- عام آبادی میں تقریباً 0.5٪ خواتین کسی وقت HPV-16 یا HPV-18 سے متاثر ہوتی ہیں۔
- پاکستان میں سروائیکل کینسر کے 88٪ کیسز کا تعلق HPV 16 یا 18 سے ہے۔
Human Papillomavirus and Related Diseases Report Pakistan 2023)) کے مطابق:
پاکستان میں تاحال سروائیکل کینسر کی اسکریننگ یا HPV ویکسینیشن کے لیے کوئی باضابطہ قومی پالیسی موجود نہیں ہے۔تاہم وزارت صحت، این جی اوز، ڈاکٹروں، خواتین کی تنظیموں اور دیگر شراکت دار اداروں کی جانب سے HPV ویکسین کو قومی (Expanded Programme on Immunization EPI) میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
- یہ تحقیقInternational Vaccine Institute کی فنڈنگ اورآغاخان یونیورسٹی کی اسپانسرشپ سےکی جارہی ہے۔
مطالعہ کی آبادی (Study Population)
تحقیق دو مقامات پر کی گئی۔
1۔کراچی (Urban Site):
- رہڑی گوٹھ، بھینس کالونی، ابراہیم حیدری، اور علی اکبر شاہ۔
- یہ ساحلی علاقے ہیں جہاں تقریباً 3,50,000 افرادبستے ہیں۔
- یہاں مختلف نسلی گروہ آباد ہیں: سندھی، پشتون، پنجابی، بنگالی اور اردو بولنے والے۔
- آغا خان یونیورسٹی گزشتہ دو دہائیوں سے ان علاقوں میں کام کر رہی ہے۔
2۔دادو (Rural Site):
- تعلُقہ 2 کے 15 یونین کونسلز شامل ہیں۔
- یہ سندھ کے دیہی علاقے ہیں جن میں کثیر النسل آبادی رہتی ہے۔
پاکستان میں HPV ویکسین کی دستیابی
پاکستان میں دو عالمی سطح پر منظور شدہ ویکسینز متعارف ہیں: (Approved by SOGP)
1۔گارڈاسل (Gardasil): کواڈریویلنٹ ویکسین (HPV 6، 11، 16، 18):
یہ کینسر اور جنسی مسوں دونوں سے بچاتی ہے۔
2۔سرویرکس (Cervarix): بائیویلنٹ ویکسین (HPV 16 اور 18):
یہ صرف سروائیکل کینسر سے بچاتی ہے۔
آگاہی اور استعمال
پاکستان میں ان ویکسینز کے بارے میں آگاہی اور استعمال کی شرح بہت کم ہے۔ایک تحقیق (آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، کراچی) میں پایا گیا کہ صرف 20٪ خواتین HPV ویکسین کے بارے میں جانتی ہیں، اور اس کا استعمال 10٪ سے بھی کم ہے۔
کون اور کب ویکسین لگوا سکتا ہے؟ (WHO کی ہدایات)
9–14 سال: 1 یا 2 خوراکیں کافی ہیں۔
15–20 سال: 1 یا 2 خوراکوں کا کورس۔
21 سال یا اس سے زیادہ: 6 ماہ کے وقفے سے 2 خوراکیں۔
26 سال سے زیادہ: CDC کے مطابق تجویز نہیں کی جاتی۔
اہم ہدف
9–14 سال کی بچیاں (Primary target group)۔
15–20 سال کی لڑکیاں اور نوجوان خواتین (Catch-up campaign)۔
سب سے زیادہ خطرے میں نئی شادی شدہ خواتین اور تولیدی عمر کی خواتین ہیں۔
یہ تمام تفصیلات آغا خان یونیورسٹی میڈیکل کالج کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے،تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ ہو۔
https://www.aku.edu/mcpk/paeds/Pages/hpv.aspx
دارالافتاء جامعۃ الرشید کا موقف
چونکہ ویکسین کا بنیادی معاملہ میڈیکل کی فیلڈ سے متعلق ہے لہٰذااس حوالے سے اس کی حقیقت کی وضاحت میڈیکل فیلڈ سے وابستہ ماہرین ہی دے سکتے ہیں،چنانچہ دارالافتاء کی طرف سے مختلف ماہرین سے رابطہ ہوا،(ان میں سےایک ڈاکٹر صاحب ایسے ہیں جو تقریباً تیس سال سے فارماسیوٹیکل فیلڈ سے وابستہ ہیں، پاکستان میں بھی اس فیلڈ سے متعلق سب سے بڑی سرکاری اتھارٹی کا حصہ ہیں،اس کے علاوہ مختلف بین الاقوامی اداروں جیسے WHO وغیرہ کے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں)،انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی طور پرکسی بھی ویکسین کو چیک کرنے کا کوئی مضبوط اور معتمد نظام موجود نہیں ہے، اور یہ بات آغا خان میڈیکل کالج کی درج بالا ریسرچ سے بھی واضح ہے،لہٰذا کوئی حتمی رائے طے کرنا فی الحال مشکل ہے،کہ آیا یہ مضر صحت ہے یا نہیں ؟ اگر مضر صحت نہیں تو کیا اس ویکسینیشن کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے کے پس منظر میں کہیں اخلاقی برائیوں کی نشونما اور ان کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ تو نہیں ہو گی؟ کیوں کہ ان ویکسینز کے جو موجد ہیں ان کے ہاں اخلاقی پاکیزگی اور عفت و عصمت کے تحفظ کی کوئی اہمیت نہیں،لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، ہر طرح کی ویکسین کے مکمل اجزاء ترکیبی اور انسانی صحت و اخلاق پر اس کے اثرات وغیرہ کی مکمل تحقیق مقامی طور پر کرنے کا انتظام کرے،فیلڈ کے ماہر اور دیانتدار میڈیکل ڈاکٹر حضرات سے غیر جانبدارانہ تحقیق کروائے،پھر وہ تحقیق مستند مفتیان کرام کے سامنے رکھ کر فتوی حاصل کرے اور پھر عوام میں اس کی آگاہی اور ترغیب کی مہم چلائی جائے،نیز چونکہ یہ کوئی متعدی بیماری نہیں،لہٰذا عوام کو اس ویکسین کے لگوانے یا نہ لگوانے کا اختیار دیا جائے،جبر اور زبردستی سے بہرحال اجتناب کیا جائے تاکہ عوامی منفی رد عمل سامنے نہ آئے۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ ویکسین سے متعلق ناجائز ہونے کی کوئی دلیل دارالافتاء کے سامنے نہیں ہے،البتہ جواز کے لیے جو بنیادی معلومات ضروری ہیں وہ بھی ناکافی ہیں،کیوں کہ فیلڈ سے وابستہ حضرات کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق پاکستا ن میں ویکسین کو جانچنے پرکھنے کا فی الحال کوئی انتظا م موجود نہیں ہے،جس سے اس کے حقائق و اثرات مستند طور پر معلوم کیے جاسکیں ،اس لیے اس مبہم صورت حال میں اس ویکسین کے لگوانے کی ترغیب دینا شرعی،قانونی اور اخلاقی اصولوں کے بالکل خلاف ہےاور جبر کی تو بالکل بھی گنجائش نہیں۔
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
10.ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


