| 88695 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
حسن تہامی اور اس کی جماعت والےشیعوں کے نظریہ امامت کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں، یعنی نہ تو حضرت علی کو حضرت ابو بکر پر فضیلت دیتے ہیں اور نہ ہی دیگر خلفاء ثلاثہ پر فوقیت کے قائل ہیں۔ نہ ہی انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح ان کو معصوم سمجھتے ہیں، بلکہ جس طرح ائمہ اربعہ اور ائمہ اکابرکو اللہ تعالی نے اپنی خاص توفیق کے ساتھ گناہوں سے بچنے کی فضیلت دی تھی ایسے ہی ائمہ اہل بیت بھی تھے۔ ائمہ اہل بیت اور امام مہدی اولیا ءکی طرح ہوں گے ۔ اہل سنت نے جس طرح ولی کو محفوظ کہا ہے ایسے ہی حرکۃ انصار المہدی کا بھی عقید ہ ہے۔ الرسالہ القشیریہ میں ہے :و من صفات الولي أن يكون محفو ظا كما ان من صفات النبي أن يكون معصوما: اى محفوظا و معصوما من مخالفة الشرع ، ۳۱۶/۲،
فان قیل فھل يكون الولي معصوما؟ قيل : أما وجوبا کمايقال في الأنبياء فلا، و أما أن يكون محفو ظا حتى لا يصر على الذنوب ان حصلت ھنات او آفات اوزلات فلا يمتنع ذلك في وصفهم (الرسالة التقشيرية ، ۵۲۳/۲، تصنیف، عبدالکریم بن هوازن، تحقیق: عبد العليم محمود، محمود بن الشريف، دار المعارف، القاهرة)
یہی بات المہدی من عترتی میں محمد بن عبد اللہ المعروف شیخ حسن التہامی نے لکھی ہے :
الأئمة ليسوا معصومين وأمافي الكبائر فالعقل والمنطق يقول أن الائمة معصومين( معصومون )منها .....
تفصیل مذکور کی روشنی میں سؤال یہ ہےکہکیا ائمہ اربعہ کی طرح ائمہ اہل بیت کو عقل و منطق کے تناظر میں گناہوں سے (جوازا) معصوم سمجھناشر عانا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عصمت کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کا صدور نہیں ہوسکتا اور اجتہادی خطا پر من جانب اللہ باقی نہیں رکھا جاتا اور حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کا صدور تو ممکن ہے، لیکن ان پر اصرار نہیں ہوتا اور اجتہادی خطا پر باقی تو رہ سکتے ہیں، لیکن اس پر گناہ نہیں ہوتا۔
اہلسنت صرف انبیاء کی عصمت کے قائل ہیں ، انبیاء کے علاوہ کسی بھی ولی (خواہ صحابی یا امام مجتہد ہی کیوں نہ ہو) کی عصمت کےقائل نہیں،بلکہ وہ غیر انبیاء (اولیاء )کی صرف حفاظت کے قائل ہیں،عصمت کے نہیں،لہذا انہیں وہ اجتہادی خطاءکااہل سمجھتے ہیں، عقل کے تناظر میں عصمت کا جوازوامکان چونکہ ائمہ اہلبیت کی خصوصیت نہیں،ایسا امکان ہر فرد مسلمان میں موجود ہےاور کبائر سے اجتناب کی توفیق بھی ان کاخاصہ نہیں۔ لہذا خصوصیت سے ائمہ اہل بیت کو جوازامعصوم کہنے کی کوئی وجہ نہیں،لہذا غیر انبیاء (ائمہ اہل بیت)کےلیے عصمت کا نظریہ شیعہ اور روافض کاعقیدہ ہے،(النبراس شرح العقائد)لہذا اس سب کے باوجود انکے ساتھ عصمت کی تخصیص پر اصرار کم ازکم ایسے قائلین کے اہلسنت کےمنہج سے انحراف کی عکاسی ضرورکرتا ہے۔رسالہ قشیریہ میں خاص ائمہ نہیں ،بلکہ مطلقا جملہ اولیاء کی محفوظیت کا ذکر ہے،جس کا عصمت ائمہ سے کوئی تعلق نہیں۔سؤال میں رسالہ قشیریہ کی پہلی عبارت میں موجود معصوما کی تفسیر محفوظاسےکی گئی ہے،لیکن یہ تشریح اصل عبارت میں نہیں اور نہ ہی محفوظ یا معصوم میں سے ایک کو دوسرے کی تفسیر بنانا درست ہے۔لہذا یہ تبدیلی از قبیل تحریف شمار ہوگی۔
حوالہ جات
الرسالة القشيرية - (ج 1 / ص 117):
ومن شرط الولي: أن يكون محفوظاً، كما أن من شرط النبي أن يكون معصوماً، فكل من كان للشرع عليه اعتراض فهو مغرور مخدوع.
الرسالة القشيرية - (ج 1 / ص 159):
فصل فإن قيل: هل يكون الولي معصوماً قيل: أما وجوباً، كما يقال في الأنبياء فلا. وأما أن يكون محفوظاً حتى لا يصر على الذنوب إن حصلت هنات أو آفات أو زلات، فلا يمتنع ذلك في وصفهم.
آية التطهير وعلاقتها بعصمة الائمة - (ج 1 / ص 4):
إن ((عصمة الأئمة )) من ضروريات الاعتقاد عند الإمامية لأنها الأساس الذى يقوم عليه أصل عقيدة ((الإمامة )) فإذا انها ر الأساس ((العصمة)) انهدم ما بني عليه((الإمامة)) ولذلك شددوا في الإيمان بها والنكير على من جحدها حتى كفروه وأخرجوه من الملة !!.
الصحابة والمنافقون - (ج 1 / ص 65):
وأما من جهة الواقع: فإن الشيعة يعتقدون عصمة الأئمة الاثني عشر، وأنه يجب تنصيبهم للخلافة، وأن خلافة من سواهم باطلة؛ لأن غير المعصوم لا يؤمن عليه الغلط في تبليغ هذا الدين فكيف يصلح لخلافة المسلمين؟! فكان وجود المعصومين إلى يوم القيامة أمراً لازماً لحفظ الدين.. إلخ.
فأقول:
هذه القضية لو سلمنا بها فإنها قضية خيالية، وموجودة في الذهن فقط ولا وجود لها في الخارج -أي لا وجود لها في الواقع-.فإننا نشاهد أن الإسلام باقٍ -بحمد الله- إلى يومنا هذا، ولا معصوم بيننا يمكن مشاهدته والرجوع إليه، وإنما اعتماد الأمة -أمة الدعوة وأمة الإجابة- على علمائها، سواء عند السنة أو الشيعة.فإذا صح اعتماد الأمة على اجتهاد العلماء وعلى نقلهم ما يزيد على ألف سنة، فمن باب أولى أن يصح اعتمادها عليهم قبل ذلك، أي: من وفاة الرسول صلى الله عليه وآله وسلم إلى يومنا هذا، وهذا هو الواقع الذي عليه الجميع وإن كابر البعض.فكما يصح الاعتماد على اجتهاد العلماء على وفق الدليل، فكذلك يصح الاعتماد على اجتهاد الصحابة رضي الله عنهم على وفق الدين، بل هو أولى؛ فهم نقلة الكتاب والسنة بلا واسطة، وأعرف بلغة العرب ولهجاتها، وعايشوا التنزيل وشهدوا الوقائع، فإدراكهم أقوى من إدراك من جاء بعدهم بلا نزاع.
وكما يصح عند الشيعة الاعتماد على نقل الرواة عن الأئمة، فإن صحة الاعتماد على نقل الصحابة ومن بعدهم من الرواة عن الرسول صلى الله عليه وآله وسلم من باب أولى، فكلهم غير معصوم؛ فضلاً عن كون الصحابة مقطوعاً بعدالتهم في عدم تعمد الكذب كما سبق بيانه، وأما غيرهم فلا؛ ففيهم العدل وغيره، بل فيهم كذابون وزنادقة.. وإذا صححنا حكم بعض الحكومات المعاصرة وهم غير معصومين، فتصحيح خلافة الصحابة وهم غير معصومين من باب أولى.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


