03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکارکسی بھی تاویل یا تعریف سے درست ہے؟
88702ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

   جمہور اصولیین کے نزدیک صحابی کی تعریف یہ ہے کہ جس نے نبی کے ساتھ طویل صحبت پائی ہو ، چونکہ ان کے نزدیک اجتہادی ملکہ اور مسائل کا استنباط میں طویل صحبت کے بغیر  ممکن نہیں، اس لیے ان کے ہاں یہ تعریف ہے اور حضرات محد ثین کے نزد یک جس نے ایمان کی حالت میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو، اور ایمان کی حالت میں وفات ہوئی ہو، تو وہ صحابی ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد روایت کو نقل کرنا ہے اور اس کے لیے طویل صحبت لازمی نہیں۔

عن الامام الباقلانی ا جماع اھل اللغۃ على أن الصحابي مشتق من الصحبة، وهو جار في كل صحبة قليلاكان أم كثيرا، وذكر أن فی الاستعمال العرفي لا يطلق هذه التسمیۃ  الا فیمن کثرت صحبتہ واتصل لقاؤہ

ثم قال : ومع ھذا فان خبر  الثقۃ الامین عنہ مقبول  ومعمول بہ ، وإن لم تطل صحبته ولا سمع منه الا حديثاً واحدا، (الکفاية للخطيب :ص۵۱)

و قال الباقلاني ان الصحابي هو من طالت صحبته للنبي، وكثرت مجالسته به علی طریق التتبع به، والاخذ عنه، وهذا قول ابن فورك وابن السمعانی و قال :هذ ہ طريقة الأصوليين، و به جزم ابن الصباغ في (العد ۃ).

انظر: المعتمد لابي الحسين البصرى (٢/٦٦٦) تحقیق: محمد حمید الله القواطع لابي المظفر ابن السمعانی (۱/۳۹۲) دار الكتب العلمية ،المستصفى للامام الغزالي (١/١٦٥) الطبعة الأميرية، الإحكام للآمدى (۲/۸۳) الارشاد للنوى (٢/٥٨٧ - ٥٨٩) البحر المحيط (٣٠٢٠٤/٣٠١) الشذا الفیاح للابناسي (٤٩٣٠٢/٤٩٢)، فتح المغيث للحافظ العراقي (ص ٣٤٤ - ٣٤٥) تحقيق محمودربيع دار الفكرة ،فتح المغيث للسخاوى ( ٤/٨٤ - ٨٦) ، تدريب الراوي للامام السيوطي ( ۲/۲۱۰ - ۲۱۱)

حرکۃ انصار المہدی نے بھی پہلی تعریف اپنی کتاب میں نقل کی ہے، یعنی ان کے نزدیک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  پہلی تعریف میں شامل نہیں، لیکن دوسری تعریف میں شامل ہیں۔ چنانچہ شیخ حسن التہامی لکھتے ہیں :

تعريف الصحابي : هو من أدرك الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ورآؤہ  و آمن به ، وصدقه ، ومات الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم  وهو عنه راض، ولم يغير بعد ہ أو یحدث  حتی مات (المهدى من عترتی ، ص ، طبع دوم)

شیخ ابو د اوود الحسامی کہتے ہیں :

الحديث في صحيح البخاري " قل لخالد : لا تسبوا أصحابي ، فوالذی نفسی بیده ، لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهباً ، ما  بلغ مد أحدكم ولا نصفه ، مع أن كون الصحابي يعني بالصحبة العامة ، فكذلك معاوية في الصحبة العامة يعتبر صحابياً ، لكن  لیس لہ منزلة الصحابة الأولين المهاجرين والأنصار، ولذلك كان على معاوية و غيره ( يعني أن يتبع عليا بإحسان ، لا أن  یقاتلہ ظالما لہ) وهذا اشكالنا مع معاوية. الحديث في صحيح البخاري " ویح عمار تقتلہ الفئة الباغية" وكان على رأس الفئة الباغية معاوية. والله اعلم.

مفرغۃ  من فتوى صوتيةللشیخ المفتي / أبو داود عبدالرحمن الحسامي

https://t.me/mifatelmahdi/619

 مذکورہ تفصیل کی روشنی  میں سؤال یہ ہے کہکیا جمہور محققین حنفیہ کی اس تحقیق کی بناء پر حضرت معاویہ( رضی اللہ عنہ) کو صحابی کی پہلی تعریف کی بناءپر صحابی نہ کہنا اور دوسری تعریف کی بناء صحابی کہنا درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  یہاں  دوباتیں الگ الگ ہیں:

۱۔ پہلی بات   یہ ہے کہ صحابی کی تعریف کی حیثیت اور راجح   کی تعیین کہ وہ کیا ہے؟ 

۲۔ دوسری بات یہ کہ آیا  اصولیین کی تعریف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر صادق آتی ہے یا نہیں؟

 صحابی کی تعریف    کی حیثیت اور اس میں اختلاف  کا  پس منظراور حقیقت:

 ہمارے خیال میں صحابی کی تعریف کی دو الگ الگ حیثیتیں ہیں : ۱۔شرعی حیثیت اور ۲۔فنی اصطلاحی حیثیت

شرعی لحاظ سےصحابی کی تعریف  میں اصولیین  ومحدثین کا کوئی اختلاف نہیں،(جیساکہ سؤال میں ایسے ہونے کا خیال  ظاہر کیا گیا ہے،)بلکہ  ہمارے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ صحابی کی تعریف میں مختلف اہل علم کے درمیان اصطلاحی لحاظ سے فرق اور اختلاف واقع ہوا ہے، ولا مشاحۃ فی الاصطلاح ، لہذا جب  مختلف  فنی اصطلاحات کا فرق ہے تو اس میں راجح اور مرجوح کا قول کرنا صحیح نہیں،بلکہ ہر علم اور فن  میں اس کے مطابق اصطلاح  ہی معتبر ہوگی۔(کما ذھب الیہ ابن الصلاح فی مقدمتہ)

 شرعی لحاظ سے صحابی کی تعریف  صرف اس قدر  ہے کہ  جس کوایمان کی حالت میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہو اور اسی حالت ایمان میں وفات ہوئی ہو،اگرچہ  یہ زیارت مختصر  وقت اور لمحہ  کے لیے ہوئی ہو۔

صحابیت کی تعریف میں طول مدت  کی قید  شرعی لحاظ سے اس لیے نہیں کہ اول تو صحبت کا لفظ لغۃ عام اور مطلق  ہےجس میں طول مدت کی قید نہیں، لہذا کسی دلیل شرعی کے بغیر حقیقت لغویہ کو چھوڑنا درست نہیں،دوسرے یہ قیدخلاف واقع اور خلاف اصول بھی ہے ،اس لیے کہ کسی  محدود کی تعریف  متعین  اور طے کرنےکےلیےپہلے اس محدود  کی حالت کو دیکھناضروری ہے،اس لیے کہ  محدود حد سے مقدم ہوتا ہے ،جبکہ متعدد صحابہ کرام  جن کی صحابیت مسلم تھی،لیکن ان کو طول صحبت نصیب نہیں تھی،جبکہ اس قید کے بڑھانے سے  متعدد مسلم صحابہ کرام  کی صحابیت   کی نفی لازم آئے گی،لہذا شرعی لحاظ  سےیہ قید خلاف واقع ہونے کی بناء پر غیر معتبر ہے اور ایسی تعریف شرعی لحاظ سے جامع نہیں۔

البتہ  جمہور اصولیین نے صحابی کی تعریف میں طول مدت کی قید اس لیے لگائی ہے کہ اصولیین چونکہ اقوال وافعال صحابہ کی حجیت سے بحث کرتے ہیں،لہذا اس قید کے لگانے سے مقصدنفس صحابیت کا  دائرہ محدود کرنا نہیں،بلکہ صحابی کے قول وفعل کی حجیت کی حد بندی مقصود ہے،جیساکہ بعض کتب اصول فقہ  میں  اس کی تاییدوتصریح بھی  موجود ہے، یعنی محدثین  کا تعلق چونکہ  نفس روایت حدیث سے تھا ،اس لیے انکے نزدیک  صحابیت   کی تعریف اور اس کے تحقق کے لیے ابتداء وبقاء حالت ایمان کے ساتھ نفس  رؤیت کافی تھی،  جو اس کا شرعی مفہوم بھی ہے،جبکہ اصولیین کی گفتگو کا تعلق چونکہ صحابہ کرام کے اقوال وافعال کی تشریعی وتشریحی حیثیت سے تھا، اس لیے انہوں نے ہر صحابی کے قول کو حجت نہیں کہا ،بلکہ اس کے لیے طول صحبت کی قید لگائی تاکہ  یہ بات ممکنہ حدتک یقینی بنائی جاسکے کہ صحابی نے مزاج نبوت اور تعلیم نبوت کو حاصل کرلیا تھا، کیونکہ اصل منبع شریعت تو  رسول صلی اللہ علیہ  وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔

 اس تفصیل اور وضاحت سے یہ بات سامنے آئی کہ اس اختلاف( قید طول صحبت کے اعتبار وعدم اعتبار) کا تعلق شرعی لحاظ سے صحابیت کے تحقق کے لیے نہیں ،بلکہ  محدثین کے برخلاف  بعض اصولیین کے نزدیک آثار صحابہ کی حجیت کے لیے ہےیعنی اصولیین کے نزدیک جس صحابی کے آثار کی حجیت زیر بحث   ہوتی ہے اس سے وہ صحابی مراد ہے جس کو طول صحبت  ملی ہو، لہذا جس کو طول صحبت نہیں ملی وہ اگرچہ شرعا صحابی ہے، لیکن س کے آثار حجیت  کے اعتبار سے محل بحث ونزاع نہیں،چنانچہ علامہ ڈاکٹر  مصطفی سعید الخن     کی مایہ ناز  لاجواب   کتاب اثر الاختلاف  فی القواعد الاصولیۃ  فی اختلاف الفقھاء  وغیرہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔

بحث في حجية قول الصحابي وأثرها في المسائل الفقهية (ص: 4):

بل حكى أبو الحسن الأشعري إجماع السلف على ذلك حيث قال في كتابه ( رسالةٌ إلى أهل الثغر بباب الأبواب ) ( الإجماع السابع والأربعون : وأجمعوا على أن الخيار بعد العشرة في أهل بدر من المهاجرين والأنصار على قدر الهجرة والسابقة ، وعلى أن كل من صحب النبي صلى الله عليه وسلم ولو ساعة ، أو رآه ولو مرةً مع إيمانه به وبما دعا إليه أفضل من التابعين بذلك ) .

وذهب جمهور الأصوليين من المعتزلة والمتكلمين والفقهاء إلى اشتراط طول الصحبة ، وكثرة اللقاء بالنبي صلى الله عليه وسلم ، على سبيل التبع له ، والأخذ عنه . ولهذا قالوا : إن الرجل لا يوصف ولو أطال مجالسة العالم بأنه من أصحابه إذا لم يكن على طريق التبع له والأخذ عنه ومما لا شك فيه أن المعول عليه في تعريف الصحابي إنما هم أئمة الحديث والسنة ؛ لأنهم هم أهل الشأن والاختصاص ، فعلماء الحديث مثلاً يقومون بتعريف الصحابي ، وعلماء الأصول يبحثون ما يتعلق بحجية قوله  و عدمه  الخ

 لیکن واضح رہے کہ  چونکہ  خودمحدثین کے نزدیک بھی صحابی کی تعریف میں تقریبا چھ اقوال منقول ہیں جو کہ امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے تدریب الراوی میں نقل فرمائے ہیں، اور ان میں بنیادی طور پر یہ  (قیدطول صحبت والا) قول بھی شامل ہے ، لہذابعض  اہل علم ومحدثین نے اس اختلاف کو راجح مرجوح  کا اختلاف قرار دیا ہے ،لیکن اہل علم اور محققین محدثین نے روایت حدیث  کے سلسلہ میں بھی ترجیح عدم اعتبار طول صحبت کے قول کوہی  دی ہے۔(مزیدتفصیل کے لیے تدریب الراوی کی الفصل التاسع والثلاثون ملاحظہ ہو۔)لہذا اس تفصیل سے یہ بات مبرہن اور واضح ہوگئی کہ صحابی کی تعریف میں شرعی لحاظ سے کوئی اختلاف رائے نہیں اور جو اختلاف آراء ہے اس کا تعلق  محض  فن اصول حدیث کی اصطلاحات سے ہے اور اس میں بھی محدثین  محققین کے نزدیک  راجح عدم اعتبار طول صحبت کا قول ہے۔کیا اصولیین کی تعریف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر صادق نہیں آتی ہے ؟

دوسری بات یہ  ہےکہ اصولیین کی اس تعریف کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں یا نہیں؟تو اس بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ اصولی لحاظ سے تعریف سے مقصد محض محدود کی بطور مصداق توضیح وتبیین     ہوتی ہے، نہ کہ  بطور مصداق   تحقیق تعیین ، لہذا علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی  صحابی کی صحابیت کا مدار نقل متواتر  ،نقل مستفیض،( مشہور) کسی دوسرے  معروف  ومسلم صحابی کا اس کی صحابیت کا اعتراف کرنا یا صحابہ کے ممکنہ  حد تک کے زمانے کی کسی عادل شخصیت کا   اپنی صحابیت کا دعوی کرنا(تدریب الراوی مع تقریب النووی) جبکہ  تواترواستفاضہ کے علاوہ بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سےبھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی تصریح  موجود ہے۔

لہذا کسی خاص   فنی واصطلاحی  تعریف سے   کسی مسلمہ صحابی کی صحابیت کو جانچنے کا کوئی جواز نہیں ،اور نہ ہی یہ بات   اصولی طور پر درست ہے ،بلکہ معاملہ بر عکس ہے  یعنی یہ بات تمام اہل علم کے نزدیک مسلمات بدیہیہ میں سے ہے کہ جو تعریف  اپنے محدود کے تمام افراد کو شامل نہ ہو وہ تعریف ناقص غیر جامع  اور غیر معتبر ہوتی ہے۔چنانچہ محدثین نے  اصول روایت کے لحاظ سے بھی طول صحبت کی قید پر مشتمل تعریف اسی بنیاد پر رد کی ہے۔(تدریب)دوسری بات یہ کہ بالفرض اگر یہ تعریف  یعنی  اصولیین کی تعریف کو ہی مطلقا راجح مان لیا جائے تو بھی اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکارکسی بھی  طرح  لازم نہیں آتا، اس لیے کہ  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا شبہہ طول صحبت بھی حاصل رہی ہے،اگرچہ فی نفسہ  صحبت کے امر اضافی  ہونے سے فرق مراتب کا انکاربھی نہیں۔

 حاصل  کلام یہ کہ اولا تو طول صحبت کی قید شرعا نہیں، بلکہ اصطلاحا ہے۔ ثانیا اس  اصطلاحی تعریف  سےاصولیین کے نزدیک   محض حجیت آثار صحابہ کی تحدید مقصود تھی ، نہ کہ صحابیت کا دائرہ محدود کرنا ۔ثالثا محققین محدثین کے مطابق  جامع نہ ہو نے کی وجہ سے یہ تعریف صحیح بھی نہیں ۔ رابعااگر اصولیین کی تعریف کو مطلقا راجح مان لیا جائے تو بھی    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو طول صحبت  حاصل ہونے کی بناء پر شامل ہوگی۔لہذا صحابی  کی کسی بھی تعریف کی بناء پر کسی بھی مسلمہ صحابی  کی صحابیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا، نہ  ہی اس  قسم کےانکار کا امت مسلمہ میں کوئی قائل رہا ہے،لہذا ایسا اقدام   گمراہی اور بدعت  قرار پائے گا۔

حوالہ جات

الإبهاج في شرح المنهاج (1/ 23):

 والصحب جمع صاحب وهو كل من رأى النبي صلى الله عليه وسلم مسلما وقيل من طالت مجالسته والصحيح الأول

الإحكام في أصول الأحكام للآمدي (1/ 346):

اختلفوا في مسمى الصحابي: فذهب أكثر أصحابنا وأحمد بن حنبل إلى أن الصحابي من رأى النبي صلى الله عليه وسلم وإن لم يختص به اختصاص المصحوب ولا روى عنه ولا طالت مدة صحبته وذهب آخرون إلى أن الصحابي إنما يطلق على من رأى النبي صلى الله عليه وسلم واختص به اختصاص المصحوب وطالت مدة صحبته وإن لم يرو عنه وذهب عمر بن يحيى إلى أن هذا الاسم إنما يسمى به من طالت صحبته للنبي صلى الله عليه وسلم وأخذ عنه العلموالخلاف في هذه المسألة وإن كان آيلاً إلى النزاع في الإطلاق اللفظي فالأشبه إنما هو الأول

ويدل على ذلك ثلاثة أمور:

الأول أن الصاحب اسم مشتق من الصحبة والصحبة تعم القليل والكثير ومنه يقال صحبته ساعة وصحبته يوماً وشهراً وأكثر من ذلك كما يقال: فلان كلمني وحدثني وزارني وإن كان لم يكلمه ولم يحدثه ولم يزره سوى مرة واحدة.

الثاني أنه لو حلف أنه لا يصحب فلاناً في السفر أو ليصحبنه فإنه يبر ويحنث بصحبته ساعة.

الثالث أنه لو قال قائل: صحبت فلاناً فيصح أن يقال: صحبته ساعة أو يوماً أو أكثر من ذلك وهل أخذت عنه العلم ورويت عنه أو لا ولولا أن الصحبة شاملة لجميع هذه الصور ولم تكن مختصة بحالة منها لما احتيج إلى الاستفهام.

تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي لامام جلال الدين السيوطي (1/ 198):

 اختلف في حد الصحابي ، فالمعروف عند المحدثين أنه كل مسلم رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم .وعن أصحاب الأصول أو بعضهم أنه من طالت مجالسته على طريق التبع ،وعن سعيد بن المسيب أنه لا يعد صحابيا إلا من أقام مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة أو سنتين أو غزا معه غزوة أو غزوتين ، فإن صح عنه فضعيف ، فإن مقتضاه أن لا يعد جرير البجلي وشبهه صحابيا ، ولا خلاف أنهم صحابة . ثم تعرف صحبته بالتواتر والاستفاضة ، أو قول صحابي أو قوله إذا كان عدلا .

)اختلف في حد الصحابي ، فالمعروف عند المحدثين أنه كل مسلم رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ) كذا قال ابن الصلاح ، ونقله عن البخاري وغيره ۔۔۔۔۔۔( وعن أصحاب الأصول أو بعضهم أنه من طالت مجالسته ) له ( على طريق التبع ) له والأخذ عنه ، بخلاف من وفد عليه وانصرف بلا مصاحبة ولا متابعة ،

قالوا وذلك معنى الصحابي لغة ، ورد بإجماع أهل اللغة على أنه مشتق من الصحبة ، لا من قدر منها مخصوص ، وذلك يطلق على كل من صحب غيره قليلا كان أو كثيرا ، يقال : صحبت فلانا حولا وشهرا ويوما وساعة ، وقول المصنف أو بعضهم من زيادته ، لان كثيرا منهم موافقون لما تقدم نقله عن أهل الحديث ، وصححه الآمدي وابن الحاجب ، وعن بعض أهل الحديث موافقة ما ذكر عن أهل الأصول : لما رواه ابن سعد بسند جيد في الطبقات عن علي بن محمد عن شعبة عن موسى السيلاني قال : أتيت أنس بن مالك فقلت له : أنت آخر من بقي من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قد بقي قوم من الأعراب فأما من أصحابه فأنا آخر من بقي ، قال العراقي : والجواب : أنه أراد إثبات صحبة خاصة ليست لأولئك ( وعن سعيد بن المسيب أنه كان لا يعد صحابيا إلا من أقام مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة أو سنتين أو غزا معه غزوة أو غزوتين ) ووجهه : أن لصحبته صلى الله عليه وسلم شرفا عظيما ، فلا تنال إلا باجتماع طويل يظهر فيه الخلق المطبوع عليه الشخص ، كالغزو المشتمل على السفر الذي هو قطعة من العذاب ، والسنة المشتملة على الفصول الأربعة التي يختلف بها المزاج ( فإن صح ) هذا القول ( عنه فضعيف فإن مقتضاه أن لا يعد جرير ) بن عبد الله ( البجلي وشبهه ) ممن فقدا ما اشترطه كوائل بن حجر ( صحابيا ولا خلاف أنهم صحابة ) ، قال العراقي : ولا يصح هذا عن ابن المسيب ، في الإسناد إليه محمد بن عمر الواقدي ضعيف في الحديث.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب