03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حرکۃ انصار المہدی کاعقیدہ امامت بدعت ہے؟
88698ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

قاضی ثناء اللہ پانی پتی( رحمہ اللہ تعالی) تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں :

ان الاولى ان يقال في تأويل الاية : لا أسئلکم أجراا لا ان تو دوا اقر  بائی و اهل بیتی و عترتی وذلك لانه صلی اللہ علیہ وسلم  كان خاتم النبیين لا نبي بعدہ وانما انتصب للد عوة الى الله بعد ہ  صلی اللہ علیہ وسلم علماء أمته من اهل الظاهر والباطن ولذلك امر الله تعالى نبيهم ان يأمر أمته بمودة أهل بيته لان عليا رضی الله عنه والائمة من أولاده كانوا اقطابا لكمالات الولاية ومن أجل ذلك قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم   انامدینۃ العلم و علی بابھا،رواہ البزار والطبراني عن جابر وله شواهد من حديث ابن عمر وابن عباس و علی واخيه وصححه الحاکم (تفسیر مظھری، سورة الشورى، ج ۸ ص ۳۲۰، مکتبة الرشيدية، طبع ۱۴۱۲ھ)

اسی مفہوم کو شیخ حسن التہامی نے یوں لکھا ہے :

والامامة هي ولاية شرعية تشمل التصرف في أمور المؤمنين في الأمور الدنيوية والدينية، وار شاد ھم و توجهيهم لأمور الدنيا والدين (المھدي من عترتي )

تفصیل مذکور کی روشنی  میں سؤال یہ ہےکہکیا ائمہ اہل بیت کے بارے میں  یہ عقید ہ امامت ر کھنا بدعت ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حسن تہامی چونکہ   امام کو اجتہادی خطاء سے معصوم ومحفوظ  اور مامور ومعین من جانب اللہ مانتے ہیں اور امامت کو اہل بیت کے ساتھ مختص مانتے ہیں، اس لیے ان  نظریات کے تناظر میں ان کی یہ عبارت بھی مخدوش ہے،  اس لیےکہ اس عبارت میں  التصرف فی امور المسلمین في الأمور الدنيوية والدينية میں تصرف سے اگر امور دینیہ  کے حق  میں  صرف  خاص تصرف تنفیذ مراد ہو اور امور دنیویہ میں تصرف  سےمطلق تصرف یعنی  تقنین وتنفیذ دونوں قسم کا تصرف(لیکن حدود شرع میں) مراد ہو  تو ایسی صورت میں اس عبارت کا مفہوم  اہل سنت کے نزدیک  مفہوم امامت کے خلاف نہیں ہوگا،لیکن   چونکہ اس عبارت میں لفظ تصرف  امور دین اور دنیا دونوں کے حق میں مطلق  استعمال ہوا ہے، جوبظاہر دونوں(امور دین ودنیا) میں    مطلق تصرف( تصرف تنفیذ وتقنین یعنی اگرچہ  امور دینیہ میں  یہ تصرف تبدیل اور نسخ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔کو شامل ہے، جبکہ حسن تہامی کے امامت کے بارے میں مذکورہ بالا نظریات  اہل سنت کے نظریات کے خلاف اور اہل تشیع کے قریب بھی ہیں،(جیساکہ  اس کی  متعدد عبارات کے حوالے گزربھی چکا۔)   جبکہ امامت کبری کے لیے ولایت تشریعی کے قائل بھی بعض اہل تشیع ہیں۔(ویکی شیعہ،اختلاف امت اور صراط مستقیم:ص۱۸) لہذا  ان جملہ امورکے تناظر میں اس عبارت سے متبادر  الی الفہم یہی دوسرا مفہوم ہے، لہذاحسن تہامی کی مذکورہ   عبارت بھی عقیدہ اہلسنت کی  تعبیر کے موافق نہیں۔

باقی قاضی ثناء اللہ پانی پتی( رحمہ اللہ تعالی) کے حوالے سے تفسیر مظہری کی عبارت سے حسن تہامی کی تعبیر اور تشریح کی تایید نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں تو تصریح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اب کار نبوت  یعنی دعوت وتبلیغ دین، ( نہ کہ  تصرف تشریع وتبدیل)   تمام علماء امت کی ذمہ داری ہے اور اس میں بڑا حصہ اہل بیت کا ہے، لیکن اس سےاس بارے میں حضرت علی  رضی اللہ عنہ سمیت اہل بیت میں سے کسی کی بھی خصوصیت یا خصوصی اختیارات  ثابت نہیں ہوتے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب