03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“یہ میر ی طرف سے فارغ ہے” سے طلاق کا حکم
88647طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

اسلام علیکم! میرا ایک بیٹا ہے جسکی عمر بیس ماہ ہے، جب وہ 3 ماہ کا تھا تو میرا اپنے شوہر سے جھگڑا ہوا تھا جسکی وجہ سے میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ نہیں رہنا مجھے آپکے ساتھ، آزاد کر دیں مجھے ۔ تو انھوں نے جواب میں بول دیا تھا کہ "ہاں جاؤ تم آزاد ہو" ۔ میں بولی ٹھیک ہے اب تو آپ نے مجھے چھوڑ دیا ہے تو اس پر وہ ہنسنے لگے اور بولے اس طرح طلاق نہیں ہوتی، دوبارہ بولے" ہاں جاؤ جاؤ آزاد ہو تم" ۔۔۔ جب میں نے اس خبر کی اطلاع اپنے گھر والوں کو دی تو وہ مجھے لے آئے ، مگر شوہر مانتے نہیں تھے کہ یہ طلاق ہوئی ہے، وہ یہی بولتے رہے کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ طلاق مانگ رہی ہے، بہر حال ایک ماہ بعد ہمارا تجدید نکاح ہوا کیونکہ اسے طلاق بائن ،consider کیا گیا تھا، اب دوبارہ کچھ ایسا ہی جھگڑا ہوا ہمارا ، اور میں حمل میں ہوں۔۔ میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکلنے کا کہا میں نہیں نکلنا چاہتی تھی میں نے کہا کہ میں آپکے نکاح میں ہوں اگر آپ مجھے نکالنا ہی چاہتے ہیں تو یا تو ہاتھ سے پکڑ کر نکال دیں یا پھر پہلے طلاق دیں ، انھوں نے مجھے تو ایسا کوئی لفظ نہیں بولا مگر مجھے محض گھر سے نکالنے کے لئے شدید غصے میں میرے بہن بھائیوں کو فون کر کے بلایا اور بولا" یہ میری طرف سے فارغ ہے اسکو لے جاؤ اور گاڑی لے کر آنا اسکا سامان بھی لے جاؤ" ۔۔ انھوں نے اسی وقت میری بہن کو بھی فون پر بولا کہ " باجی میری طرف سے بات ختم ہے میری طرف سے یہ فارغ ہے آپ آئیں اور اسکو لے کر جائیں میں بس چھ مہینے انتظار کرونگا پھر میں اسکا فیصلہ کر دونگا کیونکہ ابھی یہ حمل سے ہے اور اس وقت طلاق نہیں ہو سکتی مگر چھ ماہ بعد بات ختم ہو جائے گی ابھی آئیں اور اسکو لے جائیں " جب مجھے میرے بھائی لینے آئے تو تب بھی انھوں نے 3 مرتبہ انکو بولا کہ " یہ میری طرف سے فارغ ہے اسکو لے جائیں " مگر میں نے انکی ایسی کوئی بھی گفتگو نہیں سنی، اب تقریباً دو ماہ گزر گئے ہیں میں اپنے میکے میں ہوں مگر میرے شوہر کا یہی کہنا ہے کہ" میری نیت تو طلاق کی نہیں تھی محض اسکو گھر سے نکالنا تھا" آپ سے گزارش ہے میری اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں ، کیا یہ طلاق مغلظہ ہو چکی؟ یا پھر کوئی گنجائش موجود ہے؟ کیونکہ شوہر اب اپنا موقف بھی بدل چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرا مطلب یہ تھا کہ یہ دماغ سے فارغ ہے، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"یہ میری طرف سے فارغ ہے" یہ الفاظ  کنایاتِ طلاق کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جن سے قرینہ کے پائے جانے کے وقت بلانیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ،لہذا مسئولہ صورت میں " یہ میری طرف سے فارغ ہے اس کو لے جاؤ اور گاڑی لے کر آنا اس کا سامان بھی لے جاؤ" سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے اور اس کے بعد بہن کو فون پر کہے جانے والے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

اب اگر  دونوں اپنی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں، تو عدت کے اندر یا  عدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ آپس میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کو صرف ایک طلاق  کا حق باقی ہوگا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہو گی۔

حوالہ جات

الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 217):

والكنايات ثلاثة أقسام قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح ردا ولا شتما وهي ثلاثة ألفاظ أمرك بيدك اختاري واعتدي ومرادفها وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح ردا وهي خمسة ألفاظ خلية برية بتة بائن حرام ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وردا ولا يصلح سبا وشتيمة وهي خمسة ألفاظ اخرجي واذهبي اغربي قومي تقنعي ومرادفها ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية للاحتمال والقول قوله مع يمينه في عدم النية وفي حال مذاكرةالطلاق وهي أن تسأله المرأة طلاقها أو يسأله أجنبي يقع في القضاء بكل لفظ لا يصلح للرد وهي القسم الأول والثاني ولا يصدق قوله في عدم النية؛ لأن الظاهر أنه أراد به الجواب؛ لأن القسمين لا يصلحان للرد والقسم الثالث وإن كان يصلح للشتم لكن الظاهر يخالفه؛ لأن السب غير مناسب في هذه الحالة فتعين الجواب.

الدر المختار مع رد المحتار (3/ 308)

(لا) يلحق البائن (البائن)

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

11ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب