03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی کمائی سے لیے ہوئے گھر میں بہنوں کی میراث کا حق
88642میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میں ................. ولد ............................. (مرحوم)،  اللہ اور اللہ کی پاک کتاب قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ  ہم دس بہن بھائی ہیں ، جن میں میری آٹھ بہنیں اور ہم دو بھائی ہیں۔ میرا نمبر بہن بھائیوں میں پانچواں ہے۔ میرے والدصاحب سکھر میں اخبار فروش (ہاکر ) تھے، جس سے انتہائی قلیل آمدنی ہوتی تھی، کرایہ کے مکان میں رہائش تھی ، بڑے بھائی نے گھر کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے چھوٹی سی عمر میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ سن 1992ء میں بڑے بھائی نے والد صاحب کو موٹر سائیکل لے کر دی، اس کے علاوہ والدہ کو چار سونے کی چوڑیاں بنا کر دیں ۔ 1993ء میں بڑے بھائی نے کورنگی میں مکان لے کر دیا ، اس کے بعد انہوں نے اپنی پسند سے شادی کر لی اور اس کے بعد میں محمد پرویز ولد نور عالم (مرحوم) نے سن 1993ء میں گھر کی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے محض 17 سال کی عمر میں محنت مزدوری شروع کر دی، اور 1995ء میں ایک گورنمنٹ ادارے میں Contract جاب لگ گئی جو آج تک ہے۔ سن 2001ء میں والد صاحب کی طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ دیا، یہ مکان 61-B مصطفی آباد ملیر 15 کراچی خریدا اور تمام بہن بھائی والدین سمیت اس بات پر متفق تھے کہ یہ مکان پرویز کے نام کیا جائے، مگر پر ویز نے احتراماً کہا کہ والدین کے ہوتے ہوئے مجھے اپنے نام پر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 اللہ تعالی کے حکم سے 2013ء میں والدین رضاء الہی سے انتقال فرما گئے ۔ سن 2000ء کے بعد چار بہنوں کی  اور اپنی شادی کی اور مکان کا تقریبا بارہ لاکھ روپے (-/1,200,000.Rs) سے زائد خرچہ کیا، انتقال سے کچھ دن پہلے تک والدین نے کہا کہ یہ مکان اپنے نام کر لو ، جس کا میرے تمام بہن بھائیوں کو علم ہے ۔ یہ گھر محمد نو شاد ولد نور عالم (مرحوم) اور محمد پرویز ولد نور عالم (مرحوم) کی طویل عرصہ کی خون پسینہ کی کمائی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ تمام بہنوں کی خوشی /غمی میں جانی و مالی ہر طرح کا ساتھ دیا ۔ اب کچھ بہنیں اس جائیدادسے حصہ مانگ رہی ہیں جو کہ میرے معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ کچھ بہنیں اور بڑے بھائی میرے اس فیصلے میں میرے ساتھ ہیں۔برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس مکان میں کوئی حصہ شریعت کےحساب سے بہنوںکابنتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ہر شخص اپنی محنت و کمائی سے حاصل کردہ مال و جائیداد کا تنہا مالک اور اس میں مکمل طور پر خود مختار ہوتا ہے۔  اسے حق حاصل ہے کہ اپنی ملکیت میں شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئےجس طرح چاہے تصرف کرے۔ کسی دوسرے شخص کو اس میں کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں۔نیزآپ نے والدین اور بہن بھائیوں کی جو پرورش اور مالی معاونت اب تک کی ہے، وہ آپ کی طرف سے محض تبرع اور احسان ہے، جس پر آپ عند اللہ اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے۔

اسی طرح  جب آپ اور آپ کے بھائی نے اپنی ذاتی کمائی سے مذکورہ  مکان خریدا ، اور اس میں والد یا دیگر بہن بھائیوں کے پیسے شامل نہیں ہیں، تو یہ مکان صرف آپ دونوں کی ملکیت شمار ہوگا۔ اس میں کسی اور بھائی یا بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔البتہ اگر آپ اپنی خوشی اور رضا مندی سے اس مکان میں کسی بھائی یا بہن کو شریک کرنا چاہیں تو یہ آپ کا ذاتی اختیار ہے، اس پر کوئی جبر یا شرعی تقاضا نہیں ہے۔

حوالہ جات

) بدائع الصنائع: 6/264(

وَأَمَّا بَيَانُ حُكْمِ الْمِلْكِ وَالْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ فَنَقُولُ وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ حُكْمُ الْمِلْكِ وِلَايَةُ التَّصَرُّفِ لِلْمَالِكِ فِي الْمَمْلُوكِ بِاخْتِيَارِهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْجَبْرِ عَلَيْهِ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَلَا لِأَحَدٍ وِلَايَةُ الْمَنْعِ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ يَتَضَرَّرُ بِهِ إلَّا إذَا تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ فَيُمْنَعُ عَنْ التَّصَرُّفِ مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ الْحَقِّ وَغَيْرُ الْمَالِكِ لَا يَكُونُ لَهُ التَّصَرُّفُ فِي مِلْكِهِ مِنْ غَيْرِ إذْنِهِ وَرِضَاهُ إلَّا لِضَرُورَةٍ وَكَذَلِكَ حُكْمُ الْحَقِّ الثَّابِتِ فِي الْمَحِلِّ عَرَفَ هَذَا فَنَقُولُ لِلْمَالِكِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ أَيَّ تَصَرُّفٍ شَاءَ سَوَاءٌ كَانَ تَصَرُّفًا يَتَعَدَّى ضَرَرُهُ إلَى غَيْرِهِ أَوْ لَا يَتَعَدَّى.

الفتاوى الهندية (1 / 566): 

لَا يَقْضِي بِنَفَقَةِ أَحَدٍ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ إذَا كَانَ غَنِيًّا أَمَّا الْكِبَارُ الْأَصِحَّاءُ فَلَا يَقْضِي لَهُمْ بِنَفَقَتِهِمْ عَلَى غَيْرِهِمْ، وَإِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ، وَتَجِبُ نَفَقَةُ الْإِنَاثِ الْكِبَارِ مِنْ ذَوِي الْأَرْحَامِ، وَإِنْ كُنَّ صَحِيحَاتِ الْبَدَنِ إذَا كَانَ بِهِنَّ حَاجَةٌ إلَى النَّفَقَةِ كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ

محمدابراہیم عبدالقادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

13/ربیع الثانی /1447 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب