03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی بنیاد پر باغبانی میں شریک کرنے کا حکم
88635خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

میرے دو قریبی رشتہ دار ہیں، ان میں ایک شخص کاروباری آدمی ہے، جس کے اپنے باغات ہیں،اس کاروباری بندے نے اپنے دوست سے 12لاکھ روپیہ بطور قرض اپنے کاروبار کے لیے لیا  اور قرض دینے والے شخص نے اپنے دل میں لالچ کیا کہ قرض بھی دے دوں گا اور یہ مجھے اپنے باغبانی کے تیسرے حصے میں شامل بھی کر لےگا   اور  لالچ کرنے کا یہ شخص اقرار بھی کر رہا ہے، بعد ازاں کارور باری شخص نے قرض دینے والے کو اپنے  باغبانی میں ایک تہائی نفع و نقصان اور خرچہ  وغیرہ سب میں شامل کیا، تو اس صورت حال میں قرض دینے والا اس کا حصہ دار شمار ہوگا؟ جبکہ اس نے قرض  شرکت کے لالچ میں دیا۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ قرض کی رقم قابل واپسی تھی، البتہ قرض دیتے وقت یہ شرط لگائی تھی کہ آپ مجھے اپنے باغبانی کے کاروبار میں شریک کرو گے، اس لیے قرض لینےوالےنےباغبانی کے کاروبار میں ایک تہائی نفع ونقصان اورایک تہائی خرچہ میں اس کوشامل کیاہے اورقرض دینے والا ایک تہائی خرچہ کی ادائیگی کا ذمہ دار تھا، اس صورت حال میں قرض دینےوالےکےلئےاس شخص سےمنافع لیناجائزہےیانہیں؟ نیزکام کرنے کے لیے مزدور رکھے ہوئے ہیں، جن کا خرچ بھی مجموعی خرچ سے نکالنا ہے، جس میں ایک تہائی مزدوری کا میں اور دو تہائی کا ذمہ دار میرا شریک ہو گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق قرض دینے والے کا قرض دیتے وقت یہ شرط لگانا درست نہیں تھا کہ اس قرض کی وجہ سے  آپ مجھے اپنے باغبانی کے کاروبار میں شریک کرو گے، کیونکہ قرض ایک تبرع اور احسان کا معاملہ ہے، جس کا مکمل اجر انسان کو آخرت میں ملے گا، اس لیے دنیا میں اس کی بنیاد پر کسی قسم کا نفع حاصل کرنا شرعا جائز نہیں۔اس لیے اصولی طور پر قرض دینے والے کی طرف سے یہ شرط خلافِ شرع ہونے کی وجہ سے فاسد اور ناجائز تھی، جس کی پابندی قرض لینے والے پر شرعاً لازم نہیں تھی، لہذا اس طرح شرط کےساتھ قرض  دینے اور اس کی بنیاد پر باغبانی کے کاروبار میں شرکت کا معاملے کرنے پر فریقین گناہ گار ہوئے ہیں،  کیونکہ حدیثِ پاک میں دو معاملوں کو اس طرح مشروط طور پر کرنے سے منع فرمایا گیاہے، اس لیےفریقین  کے ذمہ  باغبانی کے معاملے کو ختم کرنا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔

نیزاگر فریقین قرض کی شرط سے ہٹ کر علیحدہ مستقل طور پر باغبانی کے کاروبار میں شرکت کا معاملہ کرنا چاہیں تو اس کی بھی کچھ شرائط ہیں،جبکہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل میں ان شرائط کو بھی مدِ نظر نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ معاملہ فقہی اصطلاح میں مساقات (باغ کی دیکھ بھال کرنے پر حاصل شدہ پھلوں میں فیصدی  (Percentage)اعتبار سے شرکت کا معاملہ کرنا) کا ہے، جس کا شرعی حکم مزارعت کی طرح ہے، جس میں خرچہ تو فریقین باہمی رضامندی سے طے کر سکتے ہیں، لیکن  کام کی ذمہ داری اصولی طور پر باغ کے مالک پر نہیں ڈالی جا سکتی، کیونکہ حقیقت میں یہ معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے، جس میں باغ کا مالک مستاجر اور کام کرنے والا اجیر ہوتا ہے، تواگر کام کی ذمہ داری بھی مالک پر ڈال دی جائے تو ایک ہی شخص کا مستاجر اور اجیر بننا لازم آئے گا، جو کہ شرعا جائز نہیں، اس لیےکام کی ذمہ داری دوسرے شریک پرڈالنا ضروری ہے، البتہ معاملہ ہو جانے کے بعداگر باغ کا مالک اپنی مرضی سے بطورِ تبرع کچھ کام کرنا چاہے تو یہ جائز اور اس کی طرف سے احسان شمار ہو گا۔

 لہذا باغبانی کےکاروبار میں یہ طے کرنا جائز نہیں تھا کہ مزدوری کاخرچہ مشترکہ مجموعی اخراجات سے نکالاجائے گا، اس لیےمساقات کا یہ معاملہ قرض کی شرط سے ہٹ کربھی شرعاً فاسد اور ناجائز ہوا ہے۔اس لیے اس کو ختم کرنا ضروری ہے اور اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے خرچہ برداشت کرنے اور نفع  کے استحقاق کی شرح آپ حضرات باہمی رضامندی سے جو بھی طے کرلیں، درست ہے، البتہ  کام کی ذمہ داری آپ خود لیں، پھرخواہ آپ خود کام کریں یا کسی دوسرے شخص سے کروائیں اور دوسرے شخص سے کام کروانے کی صورت میں اس کی مزدوری بھی آپ کے ذمہ لازم ہو گی، البتہ کام کی ذمہ داری لینے کی بناء پر آپ اپنے نفع کی شرح میں باہمی رضامندی سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح معاملہ کرنے کے بعد آپ کے لیے باغ کے پھلوں سے حاصل شدہ نفع حلال اور جائز ہو گا۔

حوالہ جات

مسند أحمد ط الرسالة (6/ 324) الناشر: مؤسسة الرسالة،بيروت:

 عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود،، عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة "

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 133) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

وما لا يبطل بالشرط الفاسد القرض، والهبة، والصدقة، والنكاح، والطلاق، والخلع، والعتق، والرهن،والإيصاء، والوصية. قال الشلبي: (قوله: القرض) بأن قال أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني شهرا مثلا اهـ. عيني (قوله: والهبة) بأن قال وهبتك هذه الجارية بشرط أن يكون حملها لي اهـ.

الدرالمختار مع رد المحتار(كتاب البيوع، 412/7:رشيدية):

القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شئ آخر، فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا كان باطلا.

لسان الحكام لابن الشحنة الحلبي(ص: 408) الناشر: البابي الحلبي – القاهرة:

إن حكم المساقاة حكم المزارعة وإن الفتوى على صحتها وفي أنها باطلة عند أبي حنيفة رحمه الله خلافا لهما وفي أن شروطها كشروطها وفي كل شرط يمكن وجوده في المساقاة كأهلية العاقدين وبيان نصيب العامل والتخلية بين الأشجار والعامل والشركة في الخارج.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 282) الناشر: دار الفكر-بيروت:

 (قوله وصح اشتراط العمل) أي المحتاج إليه بعد الانتهاء، وهذا مقابل ظاهر الرواية الذي قدمه (قوله ونسف) هو تخليص الحب من تبنه ويسمى بالتذرية سائحاني (قوله للتعامل) فصار كالاستصناع در منتقى.

قال في الخانية: لكن إن لم يشترط يكون عليهما، كما لو اشترى حطبا في المصر لا يجب على البائع أن يحمله إلى منزل المشتري، وإذا شرط عليه لزمه للعرف، ولو شرط الجذاذ على العامل في المعاملة فسد عند الكل لعدم العرف.

وعن نصر بن يحيى ومحمد بن سلمة أن هذا كله على العامل شرط عليه أم لا للعرف. قال السرخسي: وهو الصحيح في ديارنا أيضا، وإن شرطا شيئا من ذلك على رب الأرض فسد العقد عند الكل لعدم العرف اهـ.           

البناية شرح الهداية (11/ 511) دار الكتب العلمية – بيروت:

الباب الثاني: في أحكام المساقاة: ويجمعها حكمان: أحدهما: يلزم العامل، والمالك، والثاني في لزومها.

أما الحكم الأول: فكل عمل تحتاج إليه الثمار لزيادتها، أو صلاح ثمرها ويتكرر كل سنة فهو على العامل، ومما يجب عليه السقي وما يتبعه من إصلاح طريق الماء، والأجاجين التي يقف فيها الماء، وتنقية الآبار، والأنهار من الحمأة ونحوها، وإدارة الدولاب، وفتح رأس الساقية وشدها عند السقي، على ما يقتضيه الحال. وفي سقيا النهر وقول ضعيف: إنها على المالك، وتقليب الأرض بالمساعي.

وكذا تقويتها بالزبل. ومنه التلقيح. ثم الطلع الذي يلقح به على المالك. وفي حفظ الثمار وجهان: أصحهما على العامل واحد، والثمرة على العامل على الصحيح، وحفر الأنهار والآبار الجديدة والتي انهارت، وبناء الحيطان ونصب الأبواب والدولاب ونحوها على المالك، وكذا عليه آلات العمل، والمعوّل، والنخل، والمسحاة، والشران،والعزاقة، في الزراعة، والثور الذي يدير الدولاب. وقيل: على من شرطت له.

الحكم الثاني: أن المساقاة عقد لازم كالإجارة، وتملك العامل حصته من الثمرة بالظهور على المذهب.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (3/502)قديمي كتب خانة،آرام باغ، كراتشي:

 توجد ثلاث صور في نفقة الزرع : الصورة الأولى - المنفعة التي تكون قبل الإدراك وفي مدة المزارعة وهذه تجب على العامل . انظر شرح المادة (1431) الصورة الثانية - المنفعة التي تلزم قبل الإدراك وبعد انقضاء مدة المزارعة وهذه النفقة تؤدى بنسبة الاشتراك في الحاصلات . انظر المادة ( 88 ) الصورة الثالثة - النفقة بعد الإدراك وهذه النفقة تؤدى من صاحب الأرض والعامل بنسبة حصة كل واحد منهما من الحاصلات كمصرف الحصاد والدراس.

الدر المختار (6/ 281) الناشر: دار الفكر-بيروت:

 اعلم أن (نفقة الزرع) مطلقا بعد مضي مدة المزارعة ( عليهما بقدر الحصص ) وأما قبل مضيها فكل عمل قبل انتهاء الزرع كنفقة بذر ومؤنة  حفظ وكري نهر على العامل ولو بلا شرط فإذا تناهى بقي مالا مشتركا بينهما فتجب عليهما مؤنته كحصاد ودياس كذا حرره المصنف وحمل عليه أصل صدر الشريعة فليحفظ.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4713) الناشر: دار الفكر – سوريَّة:

1 - كل ما كان من أعمال المساقاة التي يحتاج إليها الشجر وحقل العنب والرطاب وأصول الباذنجان، من السقي وإصلاح النهر، والحفظ والتلقيح، فعلى العامل، لأنها من توابع المعقود عليه. وكل ما يحتاجه الشجر ونحوه من النفقة كالسرقين وتقليب الأرض، والجذاذ والقطاف، فعلى العاقدين على قدر نصيبهما، لأن العقد لم يشمله.

2 - أن يكون الخارج بين الطرفين على الشرط المتفق عليه.

3 - إذا لم يخرج الشجر شيئا، فلا شيء لواحد منهما على الآخر.

4 - العقد لازم للجانبين، فلا يملك أحدهما الامتناع عن التنفيذ، أو الفسخ من غير رضا صاحبه، إلا لعذر، بخلاف المزارعة، فإنها غير لازمة في جانب صاحب البذر عند الحنفية. 5 - لصاحب الأرض إجبار العامل على العمل إلا لعذر.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

12/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب