03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بہیمانہ اجتماعی قتل اوراس میں دیت سےزیادہ پرصلح کرنے کاحکم
88637قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کچھ عرصہ قبل میرے بھائی اپنے ایک دوست کرے ہمراہ گاڑی میں سفر کررہے تھے ۔ ان کے دوست کی کے دو کسی سے پرانی دشمنی تھی۔ راستے میں دشمنوں نے گھات لگا کر آنے والی گاڑی کو گھیر لیا اور انتہائی بے دردی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے بھائی سمیت 7 افراد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ظالموں نے اپنی درندگی دکھاتے ہوئے مرنے کے بعد بھی ان کی میتوں پر خاص طور پر چہروں اور سینوں پر گولیاں برسائیں۔

اب قاتلین کی طرف سے اُن کے جرگے والے ہم پر صلح کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور وہ اس بات کا اقرار بھی کر چکے ہیں کہ میرا بھائی اس معاملے میں بے گناہ مارا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم آپ سے شرعی رہنمائی کے طالب ہیں اور چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1. شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس طرح کے اجتماعی، بہیمانہ اور کھلے عام قتل کا کیا حکم ہے؟

2. ہماری اصل پریشانی یہ ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر قصاص لینا تقریباً ناممکن ہے۔ اگر ہم صلح کی طرف جاتے ہیں تو حکومت کی طرف سے جو دیت کی رقم مقرر ہے وہ تقریباً ایک کروڑ روپے ہے۔ کیا ہمیں اس پر راضی ہو جانا چاہیے؟ یا چونکہ یہ قتل صرف کسی فرد کا نہیں بلکہ فساد فی الارض اور دہشت پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے، جس سے قاتلوں کے حوصلے مزید بلند ہو سکتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں دیت میں تغلیظ سے کام لینا چاہیے؟

3. ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اگر ہم صلح کر لیتے ہیں تو میرے بھائی کے دوست کے ورثاء، جو اس دشمنی کے اصل فریق ہیں، وہ ہم سے سخت ناراض ہوں گے اور ہمیں اُن کی طرف سے بھی خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس نازک صورتحال میں ہمارے لیے کیا طرزِ عمل اپنانا بہتر ہوگا؟

اور شرعی سوالات کے ساتھ ساتھ، آپ سے خصوصی درخواست ہے کہ اپنی بصیرت اور تجربے کی روشنی میں ہمیں اپنا قیمتی مشورہ بھی عنایت فرمائیں کہ ہمیں ان صبر آزما حالات میں کیا فیصلہ کرنا چاہیے جو ہمارے دین، دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہو۔ان سوالات کے جوابات دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِي الأَرضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا" (المائدہ: 32) — یعنی جو کسی بے گناہ کو قتل کرے تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔

بلاشبہ آپ کے بھائی سمیت سات افراد کا کھلے عام قتل انتہائی ظلم و بربریت ہے اور یہ شرعًا قتلِ عمد کے زمرے میں آتا ہے نہ کہ فسادِ فی الارض (حرابہ)کے زمرے میں جوکہ فقہ کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ اس کی سزا شرعًاان سب کو قتل کرنا ہے؛ اگر حکومت سزا دیتی ہے تو یہی سزا ان کے لیے کافی ہوگی؛ اس صورت میں اولیاءِ مقتولین بطورِ صلح مزیدکچھ نہیں لے سکتے، کیونکہ ان کا دنیاوی حق بھی اس میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر حالات ایسے ہیں کہ قصاص کے طور پر حکومت سے سزا دلوانا ممکن نہ ہو، اور ورثاء معاف کرکے، مفت میں صلح کرنے کے لیےبھی تیار نہ ہوں تو شرعًا ورثاء کےلیے اپنے حق کے طور پر قتل پر مال لے کر صلح کرنا جائز ہے۔ لہٰذا ورثاء بطورِ صلح جتنا مال چاہیں لے سکتے ہیں، خواہ وہ دیت سے زیادہ ہو یا کم یا اس کے برابر، کیونکہ شریعت میں قتلِ عمد میں بطورِ صلح لئے جانے والے مال میں کوئی تحدید نہیں ہے — بس جس پر دونوں فریق راضی ہوں اتنا مال لیا جا سکتا ہے۔

دیت کی مقدار شرعًا چاندی کے حساب سے دس ہزار دراہم ہے، یعنی 30,618 گرام چاندی۔ مالی سال 2025–26 کے لیے حکومتی ادارہ (Finance Division) نے اس کی مقدار برائے دیت 9,828,670 روپے مقرر کی ہے، جو کہ 30,630 گرام چاندی کی موجودہ قیمت کے مطابق ہے۔ تاہم مدارچاندی کی مذکورہ مقدار (30,618گرام چاندی) پر ہے؛ نہ کہ حکومت کے مقرر کردہ ریٹ پر،نیز قتل عمد میں شریعت نے مال کی کوئی تحدیدبھی نہیں کی،لہٰذا مقدارِ دیت سے کم یا زیادہ پر صلح ہو سکتی ہے — جتنے پر فریقین راضی ہوں۔

اگر آپ کے بھائی کے دوست کے ورثاء صلح سے ناراض ہوتے ہوں کیونکہ ان کا خون بھی اسی واقعہ میں بہایا گیا، تو بہتر یہ ہے کہ آپ فیصلہ کرنے سے پہلے تمام مقتولین کے ورثاء کو ساتھ ملا کر اجتماعی مشاورت کریں اور صلح کی ترتیب بنائیں۔ ان کواعتمادمیں لئے بغیرآئندہ مزید فتنے اور دشمنی کے امکانات بن سکتے ہیں۔

عملی و دینی مشورہ:

یہ واقعہ واقعی بہت تکلیف دہ اور صبر آزما ہے؛ اللہ تعالیٰ آپ کے بھائی سمیت تمام شہداء کو اعلیٰ

درجات عطا فرمائے۔ آپ ثابت قدم رہیں، صبر سے کام لیں اور یکجہتی قائم رکھیں۔ اپنے بھائی کے دوست کے ورثاء کو ساتھ ملا کر اجتماعی فیصلہ کریں تاکہ آپ اکیلے نشانہ نہ بنیں۔ اگر حکومت سے سزا دلوانا ممکن نہ ہو تو مزید خونِ خرابہ روکنے کے لیے مال پر صلح کرنا بہتر ہے؛ بطورِ صلح مال لینا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ اس پر راضی ہو جاتے ہیں تو یہ کمزوری نہیں، بلکہ امن قائم کرنے اور خون کے بدلے خون کو روکنے کا عمل ہے، اور اللہ کے نزدیک بھی یہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ آپ کو اختیار ہے کہ آپ بغیر دباؤ کے شرعی و دینی اصولوں کے مطابق فیصلہ کریں اور جرگے کے دباؤ میں نہ آئیں۔

اب آپ کے سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:

١. اس طرح کا اجتماعی، بہیمانہ طریقے سے کھلے عام قتل بلاشبہ انتہائی ظلم و زیادتی ہے جو قتلِ عمد کے زمرے میں آتا ہے اور شریعت میں اس کی سخت سزا ہےاوروہ ان سب کوبطورقصاص قتل کرناہے۔

٢. اصل دیت چاندی سے دس ہزار دراہم ہے؛ حکومت ہرسال اس کی قیمت مقرر کرتی ہے تاکہ ادائیگی آسان ہو، تاہم اصل مدار دس ہزار دراہم یعنی 30,618 گرام چاندی پر ہے، نہ کہ حکومت کے مقرر کردہ ریٹ پر۔ تاہم بطورِ صلح لئے جانے والے مال کے لیے شریعت نے کوئی تحدید نہیں کی؛ لہٰذا جتنے پر بھی فریقین راضی ہوں وہ مقدار لی جا سکتی ہے — چاہے دیت یا حکومتی قیمت سے کم یا زیادہ ہو۔

٣. تغلیظ سے مراد اگر آپ کی مقدارِدیت/حکومتی ریٹ سے زیادہ رقم لینا ہو تو فریقین کی رضامندی سے شرعاً ایساکرناجائز ہے، کیونکہ قتلِ عمد میں شریعت نے بطورِ صلح لئے جانے والے مال کی کوئی تحدید نہیں کی۔

حوالہ جات

وفی الحدیث :

" عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لايحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك للجماعة . " (صحيح البخاري 9 / 5، كتاب الديات، ط: دار طوق النجاة)

 عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من أعان على قتل مؤمن و لو بشطر كلمة، لقي الله عز وجل مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة الله."(سنن ابن ماجه 2 / 874،باب التغليظ في قتل مسلم ظلما،

ط: دار إحياء الكتب العربية)

"عن نافع، عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو أن الثقلين اجتمعوا على قتل مؤمن لأكبهم الله يوم القيامة على وجوههم في النار، وما من أحد يشترك بشطر كلمة في قتل مؤمن إلا كتب بين عينيه آيس من رحمة الله، إن الله تعالى حرم الجنة على القاتل والآمر»."(حديث أبي الفضل الزهري (1 / 479)،ط: أضواء السلف، الرياض)

الفتاوى الهندية - (6 / 24)

وكل دية وجبت بنفس القتل يقضى من ثلاثة أشياء في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - من الإبل والذهب والفضة كذا في شرح الطحاوي.قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى -: من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، ومن الورق عشرة آلاف، وللقاتل الخيار يؤدي أي نوع شاء كذا في محيط السرخسي

قال الله تعالٰى:

فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (178) [البقرة : 178] 

 الهداية- (4 /566)

قال وإذا اصطلح القاتل وأولياء القتيل على مال سقط القصاص ووجب المال قليلا كان أو كثيرا لقوله تعالى { فمن عفي له من أخيه شيء } الآية على ما قيل نزلت الآية في الصلح وقوله عليه الصلاة والسلام من قتل له قتيل الحديث والمراد والله أعلم الأخذ بالرضا على ما بيناه وهو الصلح بعينه ولأنه حق ثابت للورثة يجري فيه الإسقاط عفوا فكذا تعويضا لاشتماله على إحسان الأولياء وإحياء القاتل فيجوز بالتراضي والقليل والكثير فيه سواء لأنه ليس فيه نص مقدر فيفوض إلى اصطلاحهما كالخلع وغيره

وفی الشامیة :

"(القتل) الذي يتعلق به الأحكام الآتية ... (خمسة) ... الأول (عمد، وهو أن يتعمد ضربه) ... (و) موجبه (القود عينا) فلا يصير مالاً إلا بالتراضي فيصح صلحاً ولو بمثل الدية أو أكثر، ابن كمال عن الحقائق.

قال عليه في الرد: (قوله وموجبه القود) بفتح الواو أي القصاص، وسمي قودا؛ لأنهم يقودون الجاني بحبل وغيره قاله الأزهري اهـ سعدي. ثم إنما يجب القود بشرط في القاتل والمقتول يذكر في الفصل الآتي. (قوله فلا يصير مالا إلخ) تفريع على قوله عينا: أي ليس لولي الجناية العدول إلى أخذ الدية إلا برضا القاتل، وهو أحد قولي الشافعي، وفي قوله الآخر الواجب أحدهما لا بعينه ويتعين باختياره والأدلة في المطولات. (قوله فيصح صلحا) أي إذا كان القود عندنا هو الواجب في العمد فلا ينقلب مالا إلا من جهة الصلح (قوله ولو بمثل الدية أو أكثر) أطلقه فشمل ما لو كان من جنسها أو من غيره حالا أو مؤجلا كما في الجوهرة."(کتاب الجنایات، ٦/ ٥٢٧ - ٥٢٩، ط:سعید)

تبیین الحقائق:

"(ولا يجتمع قطع وضمان وترد العين لو قائما) (كتاب السرقة، فصل في كيفية القطع وإثباته، ٣/ ٢٣١، ط: دار الكتاب الإسلامي)

وفيه أيضاً

"(و) ‌صح (‌في) ‌الجناية (‌العمد) ‌مطلقا ‌ولو ‌في ‌نفس ‌مع ‌إقرار (بأكثر من الدية والأرش) أو بأقل لعدم الربا، وفي الخطأ كذلك لا تصح الزيادة لأن الدية في الخطأ مقدرة حتى لو صالح بغير مقاديرها صح.

قال عليه في الرد: قوله (وصح في الجناية العمد) شمل ما إذا تعدد القاتل أو انفرد حتى لو كانوا جماعة فصالح أحدهم على أكثر من قدر الدية جاز وله قتل البقية والصلح معهم لأن حق القصاص ثابت على كل واحد منهم على سبيل الانفراد ، تأمل ، رملي. قوله (لعدم الربا) لأن الواجب فيه القصاص وهو ليس بمال، قوله ( كذلك) أي ولو في نفس مع إقرار، ح. قوله (الزيادة) أفاد صحة النقص."(کتاب الصلح، ٥/ ٦٣٤، ط:سعید)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١۴/۴/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب