03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مفقود الخبر نشئی کی بیوی کے لیے دوسرے نکاح کا حکم
89014طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

یکم جنوری 2021ء کو ایک لڑکی کا ایک لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج ہوئی۔ لڑکی کا نام صبا اور لڑکے کا نام شان ہے (یہ کورٹ میرج کراچی کے سٹی کورٹ میں ہوئی)۔ 2021ء کے آخری ماہ یعنی دسمبر میں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔

اسی سال، یعنی 2021ء میں، لڑکا ہیروئن کے نشے میں مبتلا ہو گیا۔ حالت یہ ہوئی کہ وہ گھر کا سامان بیچ کر نشہ کرنے لگا۔ ایک دن معلوم ہوا کہ اس شخص (جو صبا کا شوہر تھا) نے مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے بیٹے کو فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا، جس کا علم بیوی کو ہو گیا تو حالات مزید بگڑ گئے۔ وہ لڑکا کچرے کے ڈھیروں اور ندی نالوں کے کنارے بیٹھ کر نشہ کرنے لگا۔ ایسے گھر میں بیوی اور بچوں کی عزت باقی نہیں رہتی، لہٰذا ان حالات سے تنگ آ کر لڑکی نے سسرال یعنی اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا۔

چونکہ نکاح کورٹ میرج کے ذریعے ہوا تھا، اس لیے لڑکی کے گھر والوں (ماں، باپ) نے اسے قبول نہیں کیا، حتیٰ کہ بھائیوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ آخر کار یہ لڑکی اپنے بیٹے کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہو گئی۔

ابتدائے 2023ء سے اکتوبر 2025ء تک لڑکے کا کوئی پتہ نہیں چل سکا—تقریباً ڈیڑھ سال سے اس کا کوئی سراغ نہیں ہے۔ کسی سے سنا گیا تھا کہ اسے سولجر بازار کے قریب نشے کی حالت میں دیکھا گیا تھا، مگر وہ ملا نہیں۔ اب وہ کہاں ہے اور کس حالت میں ہے، یہ معلوم نہیں۔ لڑکی کی خالہ اس کی دوبارہ شادی کروانا چاہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کہیں اور اس کی دوسری شادی کر سکتی ہیں؟ نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کا نکاح، جو اس نشے میں مبتلا شخص سے ہوا تھا، ابھی قائم ہے یا ختم ہو چکا ہے؟ شریعت کے مطابق کیا اس کا دوسرا نکاح ہو سکتا ہے یا اسے کورٹ سے علیحدگی کروانی پڑے گی؟

نوٹ: لڑکے کے گھر والے کبھی اورنگی اور کبھی لیاقت آباد میں کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے؛ اب یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کانکاح گمشدہ شوہر سےاب تک باقی ہے اورجب تک اس سے آپ کا نکاح برقرار ہے، آپ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتیں۔ گمشدہ شوہر کے نکاح سے نکلنے کا شرعی اور قانونی طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنے شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائیں۔ اگر پولیس مناسب تفتیش کے بعد بھی آپ کے شوہر کو تلاش نہ کرسکے تو آپ عدالتِ شرعیہ یا فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے اپنا مسئلہ پیش کریں۔

عدالت کے سامنے آپ دو دیانت دار گواہوں کے ذریعے اپنے اور گمشدہ شوہر کے نکاح کو ثابت کریں۔ اس کے لیے نکاح کے اصل گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ شہادت بالتسامع (یعنی نکاح کی عام شہرت سن کر) بھی کافی ہے۔ پھر ایسے گواہ بھی پیش کریں جو اس بات پر گواہی دیں کہ شوہر ایک طویل عرصے سے لاپتہ ہے۔

اس کے بعد عدالت متعلقہ اداروں — جیسے پولیس، نادرا، امیگریشن، اسپتالوں اور دیگر ممکنہ ذرائع — سے اس شخص کی تلاش کروائے۔ یاد رہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے پہلے کی ذاتی یا غیر سرکاری تلاش معتبر نہیں، بلکہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد سرکاری و حکومتی اداروں کی تحقیق معتبر شمار ہوگی۔

اگر تمام تر تحقیق و تلاش کے باوجود بھی شوہر کا کوئی سراغ نہ مل سکے تو عورت کو چار سال کی مہلت دے گی۔ اگر ان چار سالوں میں بھی شوہر کا کوئی پتہ نہ چلے تو عورت دوبارہ عدالت سے رجوع کرکے فسخِ نکاح کی ڈگری حاصل کرسکتی ہے۔ فسخ نکاح کے بعد عورت پر عدتِ وفات (چار ماہ دس دن) لازم ہوگی، اس کے بعد وہ کہیں اور نکاح کرسکے گی۔

یہ حکم اس وقت ہے جب عورت عفت و عصمت کے ساتھ چار سال تک انتظار کرسکے اور نان و نفقے کا انتظام ممکن ہو۔

لیکن اگر عورت کے نان و نفقے کا کوئی انتظام نہ ہو — نہ شوہر کے مال سے، نہ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے، اور نہ ہی وہ خود عزت و عصمت کی حفاظت کے ساتھ روزگار حاصل کرسکے — تو ایسی صورت میں وہ عدالت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شرعی گواہی کے ساتھ یہ ثابت کرے کہ:

1. شوہر طویل عرصے سے غائب ہے،

2. نان و نفقے کے لیے اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا،

3. نہ کسی کو نفقے کا ضامن بنایا،

4. اور نہ بیوی نے نفقہ معاف کیا۔

ان حقائق پر عورت عدالت میں حلفیہ بیان دے تو عدالت مناسب تلاش اورعلاج کاحکم دے اگرتلاش کے نتیجے میں شوہرمل جائے اورعلاج سے ٹھیک ہوجائے اوربیوی کے حقوق اداکرنے لگ جائے تو نکاح فسخ نہ کرے ورنہ مزید انتظار کے بغیر نکاح فسخ کردے ۔

اسی طرح اگر عورت کے نان و نفقے کا بندوبست تو ممکن ہو، مگر بغیر شوہر کے رہنے کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ قوی ہو تو عورت کے حلفیہ بیان کے بعد عدالت تلاش اورمناسب علاج کا حکم کرے اورملنے اورصحیح ہونے کی صورت میں نکاح فسخ نہ کرےوگرنہ نکاح فسخ کردے بالخصوص جبکہ طویل عرصہ گزر چکا ہواورعورت فسخ کا مطالبہ کررہی ہو۔

واضح رہے کہ آخری دونوں صورتوں (نان و نفقے یا گناہ کے اندیشے کی بنا پر فسخ) میں عورت پر عدتِ طلاق لازم ہوگی، جس کی ابتداء قاضی کے فیصلے کے وقت سے ہوگی، نہ کہ گمشدگی کے وقت سے۔

حوالہ جات

فی البحر:

( قولہ ولا یفرق بینہ وبینھا : أی بین زوجتہ ، لقولہں فی امرأۃ المفقود : انھا امرأتہ حتی یأتیھا البیان ، و قول علی ص فیھا : ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر حتی یتبین موت أو طلاق اھــ [ج:۵،ص:۱۶۴](۱)۔

فی شرح الجلیل علی مختصر الخلیل :

 فیؤجل أربع سنین ان دامت نفقتھا ۔۔۔فان لم تدم نفقتھا من مالہ فلھا التطلیق لعدم النفقۃ بلا تأجیل ، وکذا ان خشیت علی نفسھا الزنا فیزاد علی دوام نفقتھا عدم خشیتھا الزنا ۔[ج:۲،ص:۳۸۵]۔

فی حاشیۃ الدسوقی :

 فیؤجل أی المفقود الحر أربع سنین ان دامت نفقتھا من مالہ والا طلق علیہ لعدم النفقۃ اھـ [ج:۲،ص:۴۷۹]۔(۲)

وفی الشرح الصغیر :

 والا فلھا التطلیق علیہ لعدم النفقۃ ۔۔۔۔أی ولم تخش العنت والا فتطلق علیہ لضرر فھی أولی من معدومۃ النفقۃ ۔[ج:۲،ص:۶۹۴]۔ (۳)

وفی الفقہ الاسلامیوأدلتہ للشیخ الزحیلی :

ورأی المالکیۃ والحنابلۃ جواز التفریق للغیبۃ اذا طالت تضررت الزوجۃ بھا ، ولو ترک لھا الزوج مالا تنفق منہ اثناء الغیاب ، لأن الزوجۃ تتضرر من الغیبۃ ضرراً بالغاً ، والضرر یدفع بقدر الامکان لقولہ ا :’’لاضرر ولا ضرار‘‘۔۔۔وجعلوا حد الغیبۃ الطویلۃ سنۃ فاکثر علی المعتمد ، وفی قول ثلا ث سنوات اھــ [ج:۷،ص:۵۳۳]۔(۴)

وفی الأحوال الشخصیۃ للشیخ محمد ابو زھرۃ :

 والتفریق للتضرر من الغیاب ھو مذہب مالک وأحمد ، لا مرأۃ قد تقع فی جریمۃ دینیۃ باھما لھا ۔۔۔۔۔ ولا بد للتفریق بالغیاب ان تمضی مدۃ تستو حش فیھا الزوجۃ وتتضرر فعلا ، لأن الفرقۃ بسبب ذٰلک ھی للضر الواقع لا للتضرر المتوقع فقط ، وقد جعل أحمد ادنیٰ مدۃ یجوز أن تطلب التفریق بعدھا ستۃ أشھر ۔۔۔۔۔ أما مذہب مالک رضی اللّٰہ عنہ فقد اختلف فی الحد الأدنی للتضرر ، فقیل : ثلاث سنین ، قیل : سنۃ  وبھذا أخذ القانون اھــ [ص:۳۹۰]

وفی الشرح الصغیر :

وتعتد زوجتۃ المفقود حرۃ أو أمۃ صغیرۃ أو کبیرۃ فی أرض الاسلام متعلق بالمفقود عدۃ وفاۃ علی ماتقدم ، ابتداء ھا بعد الأجل اھــ [ج:۲،ص:۶۹۴]۔(۵)

وفی شرح منح الجلیل :

ثم بعد التلوم و عدم وجدان النفقۃ والکسوۃ طلق وان کان غائبا ۔۔۔۔ یعنی ان الغائب العبید الغیبۃ ولیس لہ مال أو لہ مال لا یمکنھا الوصول الیہ الا بمشقۃ حکمہ حکم العاجز الحاضر اھــ۔وفیہ : ولہ أی الزوج المطلق علیہ لعم النفقۃ الرجعۃ للزوجۃ المطلقۃ لأنہ طلاق رجعی ، ابن عرفۃ۔[ج:۲،ص:۴۴۳]

وفی آخر فتویٰ العلامۃ ھاشم رحمہ اللّٰہ تعالیٰ مفتی المالکیۃ بالمدینۃ المنورۃ زاداھا اللّٰہ شرفا :

 وھذا (التطلیق ) بعد التلوم بنحو شھرا أو باجتھاد عند المالکیۃ (یعنی فی صورۃ عدم النفقۃ ) ۔۔۔۔۔ وان کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطی  والعنانۃ مع وجود النفقۃ والغنا فبعد صبرھا سنۃ فأکثر عند جل الما لکیۃ اھــ۔[احیلۃ الناجزۃ ،ص:۱۲۴]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١٦/۵/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب