03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفرت کی بناء پر بذریعہ عدالت فسخِ نکاح کاحکم
88644طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نکاح والد صاحب کی وکالت میں کرایا گیا۔ رخصتی کے بعد جیسے ہی میں نے شوہر کو دیکھا تو دل میں نفرت بیٹھ گئی۔ اس کے باوجود میں نے تین مہینے روتی رہیں کہ شاید دل لگ جائے، لیکن کسی صورت دل نہیں لگا۔ وہاں رہنا بہت مشکل تھا۔ اب گزشتہ آٹھ ماہ سے میں میکے میں ہوں اور شوہر سے خلع کا مطالبہ کر رہی/ہوں، اور وہ دینے پر راضی نہیں ہے، جبکہ میں وہاں کبھی بھی جانا نہیں چاہتی۔ اس مسئلے میں میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں فسخِ نکاح کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہیں ہے،لہٰذا یہ نکاح شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخ نہیں کرایا جا سکتا۔

نفرت نہ صرف یہ کہ شرعاً سببِ فسخِ نکاح نہیں، بلکہ پاکستان کے ’’قانونِ انفساخِ ازواجِ مسلمانان‘‘ میں بھی جن سات اسبابِ فسخِ نکاح کا ذکر ہے، ان میں بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔ (دیکھیے محمڈن لا، ص: ۵۷۴، ۵۷۵)

لہٰذا اولیٰ تو یہ ہے کہ لڑکی ضد چھوڑ کرشوہرکے ساتھ موافقت پیدا کرنے کی کوشش کرے، اور اگر نفرت کے کچھ اسباب ہیں تو دونوں طرف کے سنجیدہ لوگ درمیان میں پڑ کر ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

تاہم اگر لڑکی کا دل کسی طرح بھی نہ لگے اور اس کو شدید تکلیف ہو تو بہتر ہے کہ شوہر کو مہر معاف کر کے یا کچھ مال دے کر خلع یا طلاق پر آمادہ کرے۔

شوہر کو بھی چاہیے کہ اگر بیوی کے دل میں اس کی نفرت بیٹھ گئی ہے، وہ کسی طرح بھی اس کے ساتھ گزارہ کرنے کے لیے تیار نہیں، کسی طرح مطمئن نہیں، اور شدید تکلیف میں ہے، تو اس پر رحم کھائے اور طلاق دے کر کہیں اور دوسری شادی کرے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق پر رحم کھانے والے  پر رحم فرماتا ہے ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع : (315/4)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

🙁المبسوط» للسرخسي (6/ 173

«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد

جامع الفصولين (1/ 29):

الحكم على الغائب وفيه روايتان عن أصحابنا وكان "ظ" يفتي بأن الحكم على الغائب لا ينفذ كيلا يتطرقوا إلى هدم مذهب أصحابنا كذا "ظ"

وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172):

عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيد زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .

قال اللہ تعالی

فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّن النِّسَاءِ مَثْنَی وثُلَاثَ ورُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً إلخ (نساء)

سنن البيهقي الكبرى - (ج 9 / ص 41)

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: الراحمون يرحمهم الرحمن ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١۴/۴/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب