| 88636 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص جو غیر ملک میں مقیم ہے، اس نے رشتۂ ازدواج کے لیے اپنے بھائی کو بطورِ وکیل پاکستان میں پیغام رساں مقرر کیا۔ وکیل نے ایک مقامی تبلیغی دوست کے اعتماد کا سہارا لے کر رشتہ کی طلب میں ایک معزز اور مذہبی گھرانے کا رُخ کیا۔
وکیل نے موکل بھائی کی وکالت کرتے ہوئے رشتہ کی بات یوں شروع کی کہ:
“ہمارے بھائی کا پہلے ایک ایسی لڑکی سے عقد ہوا تھا جو نکاح کی قید سے آزاد زندگی گزارنے کی خواہاں تھی، جبکہ ہمارے بھائی اس آزاد مزاجی کے سخت مخالف اور ایک با ضمیر انسان ہیں۔ زوجین کے مابین عدمِ موافقت کی بنا پر بیوی نے عدالت سے تنسیخِ نکاح کرالی۔”
اس کے بعد وکیل نے کہا:
“اب ہمارے بھائی صاحب ایک عالمہ اور شریف خاندان کی خاتون سے رشتہ کے خواہشمند ہیں، اور ہمیں اطلاع ملی ہے کہ آپ کے گھر میں ایسا رشتہ موجود ہے۔”
ہم چونکہ سادہ مزاج لوگ ہیں، اس لیے ایسے فرشتہ صفت، پڑھے لکھے اور با ضمیر انسان کا رشتہ ایک نعمتِ عظمیٰ سمجھتے ہوئے بغیر تحقیق اور تاخیر کے عقدِ نکاح کی تاریخ متعین کر دی۔ ہم ان کے معصوم لہجوں اور خوش بیانی کے پیچھے چھپے مکروہ عزائم اور اصل حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔
متعینہ تاریخ کو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ذریعے شرعی نکاح منعقد ہوا۔ دولہا کے وکیل نے پانچ تولہ سونا حقِ مہر کے عوض موکل کی طرف سے نکاح قبول کیا۔
بوقتِ عقد وکیل نے کہا کہ نکاح فارم پُر کر کے اس عقد کو قانونی حیثیت نہیں دیتے، کیونکہ پہلی بیوی کے ایامِ عدت ابھی باقی ہیں، اس لیے وہ عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ پندرہ دن بعد نکاح فارم پر کر کے نکاح کو قانونی حیثیت دے دی جائے گی۔ مگر چار ماہ گزر جانے کے باوجود تحریری عقد تا حال نہیں ہوا۔
اس اچانک اور عجلت میں کیے گئے نکاح کے بعد جب یہ خبر لوگوں میں پھیلی تو دولہا کے جاننے والوں کی طرف سے یہ خبریں موصول ہوئیں کہ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ یہ شخص پہلی بیوی کے علاوہ بھی ایک عورت کو جھانسہ دینے کی کوشش کر چکا ہے لیکن اُس عورت نے رخصتی سے پہلے ہی خود کو آزاد کر لیا۔
ان خبروں سے حقیقتِ حال کی جستجو کا داعیہ پیدا ہوا تو آہستہ آہستہ اصل کذب بیانی اور دھوکہ دہی واضح ہوئی۔
1. قبل از عقدطے ہوا تھا کہ شوہر لاہور ایئرپورٹ پر آکر بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے گا، مگر بعد میں کہا گیا کہ دولہا دماغی الجھن کا شکار ہے، اس لیے دلہن کا بھائی خود اُسے خاوند کے پاس چھوڑ آئے۔
2. بعد از عقد دلہن کا خاوند سے میسجز کے ذریعے رابطہ ہوا۔ جب دلہن نے پانچ تولہ سونا حق مہر کی بات چھیڑی تو خاوند نے کہا:
“جب میں نے اس کی اجازت ہی نہیں دی تو عقد میں اس بکواس کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے یہ حق مہر بالکل قبول نہیں۔ عقد کے انعقاد میں شک ہے تو کسی مفتی سے پوچھ لو۔”
خاوند کے یہ الفاظ: “جب میں نے اس کی اجازت نہیں دی تو اس بکواس کی کیا ضرورت تھی، مجھے یہ حق مہر بالکل قبول نہیں” نکاح کے انعقاد پر سوالیہ نشان پیدا کرتے ہیں۔
3. جب دلہن نے خاوند سے تحریری نکاح نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اُس نے صاف الفاظ میں کہا کہ تاکہ تم عدالت کا رُخ نہ کر سکو۔ یہ الفاظ خاوند اور وکیل کی بدنیتی پر واضح دلالت کرتے ہیں کہ انہیں کسی شریف عورت کے رشتہ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
4. دلہن کو بھیجے گئے میسجز میں مدارس اور علماء کے خلاف متعصبانہ جملے بھی ملے، جن سے ظاہر ہوا کہ یہ شخص کسی قدر متشدد، شرافت سے عاری اور دماغی بیماری میں مبتلا ہے۔
اب دلہن اس شخص سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، مگر وہ کسی صورت بھی طلاق دینے پر آمادہ نہیں۔ وکیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ کال اٹینڈ نہیں کرتا۔
یہ نکاح جو دھوکہ پر مبنی تھا، منکوحہ اس نکاح میں رخصتی کے بجائے موت کو ترجیح دیتی ہے۔ اس مظلومہ اور پریشان حال بچی، جو ابھی عالمیہ سالِ اوّل کی طالبہ ہے، کے لیے “الدین کلہ یسر” کے تحت نجات کا کوئی آسان راستہ ہونا چاہیے۔
موجودہ عدالتی نظام میں بغیر پیسے اور رشوت کے مسئلہ کا حل ممکن نہیں، اور ہمارے پاس ثبوت بھی نہیں ہیں کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکے۔ ایسی صورت میں کیا تین مقامی جید علماء کا فیصلہ آج کل کے رشوت خور قاضی کے فیصلے کے قائم مقام ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے حیلہ ناجزہ میں تحریر فرمایا کہ محلہ کے دیندار مسلمانوں میں سے تین افراد ایسی صورت میں شریعت کے مطابق فیصلہ کریں تو یہ قضائے قاضی کے قائم مقام ہوگا۔
کیا اس طریقے پرعمل کرکےنکاح کوفسخ کیا جاسکتا ہے؟ اوراگر خاوندکو اس تنسیخ نکاح کی اطلاع ہو جائے اور پنچائیت کے حکم سے پہلے ہی ایک بار پھر تحریری نکاح پر یا پاکستان آنے پر آمادہ ہو جائے، تو کیا اس کے سابقہ کذب و فریب کے باوجود بچی کو جبراً رخصت کر کے اس کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے؟ بَیِّنوا بالبرہان تُؤجروا وعند الرحمٰن تأملوا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر نے فی الواقع نکاح کی اجازت وکیل کو دی تھی اور وکیل نے یہ نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کرایا تھا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو گیا تھا، خواہ نکاح فارم نہ بھرا گیا ہو، خواہ شوہرمہرکامنکرہو ۔
مسئولہ صورت میں بظاہرشوہر نکاح کی اجازت کا انکار نہیں کرتا، یعنی اقرار کرتا ہے، مگر مہر کا انکارکرتاہے۔ لیکن نکاح کی اجازت کے ساتھ مہر کی اجازت خود بخود ہوجاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ" لہٰذا شوہرکا مہر سے انکارکا اعتبارنہیں، مہر بہرحال اس پر واجب ہوگا۔
بظاہرنکاح کی اجازت دیتے وقت شوہر نے مہر کی بات وکیل سے نہیں چھیڑی، اور اس کا معاملہ مطلق چھوڑا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کےنزدیک ایسا وکیل کسی بھی مہر پر نکاح کرسکتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک اس کو عرف کی طرف پھیر دیا جائے گا، اور ہمارے عرف میں پانچ تولہ سونا مقرر کرنا رائج ہے۔ لہٰذا شوہرپرمذکورہ مہر ادا کرنا واجب ہوگا،اوراس کے انکارکاکوئی فائدہ نہیں۔
باقی شوہر کا ذکر کردہ رویہ میں دھوکہ دہی اور گناہ ضرور ہے، مگر اس سے نکاح کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ اگر شوہر بیوی کے ساتھ بعد میں ظلم کرے، نان و نفقہ نہ دے یا اس کے علاوہ اس میں فسخِ نکاح کی کوئی اور شرعی وجہ پائی جائے تو پھر فقہِ حنفی میں عورت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ عدالت یا دیندار لوگوں کی پنچائیت، جس میں کم از کم ایک عالم ہو، کے ذریعے نکاح فسخ کرا لے۔ تاہم فی الوقت ہماری نظر میں مسئولہ صورت میں فسخِ نکاح کی کوئی ٹھوس شرعی وجہ موجود نہیں ہے، لہٰذا فی الوقت بغیر کسی شرعی وجہ کے نکاح فسخ کرانے کا قول نہیں کیا جا سکتا۔ اعتماد نہیں تھا، تو شروع میں تحقیق کر لیتے تاکہ بعد میں اس طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
لہٰذا فی الوقت اگر شوہر طلاق نہ دے تو مہر معاف کرکے یا مال دے کر اس سے خلع/طلاق لینے کی کوشش جائے، اگر وہ پھر بھی راضی نہ ہو تو پھر حفاظت کے پیش نظرعورت اوراس کے اولیاء کویہ حق حاصل ہےکہ جب تک شوہرنکاح نامہ پر نہ کرے،مہرکا اقرارنہ کرے، مہرمعجل کی پیشگی ادائیگی نہ کرے اس وقت وہ رخصتی نہ ہونے دیں۔
اگر وہ یہ کرلیتاہے توپھر بچی کو بہرحال اس کے ہاں رخصت ہوکر جانا پڑے گا۔ ہاں جب بعد میں واقعۃً شرعی وجہ فسخ کی پائی جائے گی تو پھر اس وقت لڑکی کو نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہوگا۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ احادیثِ شریفہ میں بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے لئے جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، تو اگر سوال میں مذکور حالات حقیقت پر مبنی نہ ہوں تو پھر لوگوں کی باتوں میں آکر ہرگز طلاق کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ آج کل کے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، اس کو آگے شادی میں بھی مشکلات ہوتی ہیں، عزت کے حوالے سے بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ لڑکی کسی طرح مذکور شوہر کے ساتھ گزارہ کرسکتی ہو تو سنجیدہ لوگوں کو درمیان میں ڈال کر معاملہ کو رفع دفع کیا جائے اور بچی کا گھر نہ اجاڑا جائے، ورنہ پھر پچھتاوا ہوگا۔
حوالہ جات
الاختیارلتعلیل المختار (1/156)
وکل عقد جاز ان یعقدہ بنفسہ جاز ان یؤکل بہ ......وکل عقد یضیفہ الی مؤکلہ فحقوقہ تتعلق بمؤکلہ کالنکاح والخلع الخ وفی التعلیل فلایطالب وکیل الزوج بالمھر.
وفیہ ایضا (۲/١١۵)
واذاکان باحد الزوجین عیب فلاخیار للاخرالافی الجب والعنة والخصی( وفی التعلیل) واماعیوب الرجل وھی الجنون والجذام والبرض فکذالک .
حد ثنا عبداللہ… قال سمعت صہیب بن سنان یحدث قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم ایمارجل اصدق امراء ۃ صداقاً واللہ یعلم انہ لا یرید اداء ھا الیہ فعرھا بااللہ واستحل فرجھا بالباطل لقی اللہ یوم یلقاء وھو زان ۔ (مسند احمد، ۴/۳۳۲، دار صادر بیروت)
وفی الھدایة (۲/۳۴۵)
ویصح النکاح وان لم یسم فيه مھرا........ومن تزوج امراة ثم اختلفافی المھرفالقول قول المراة الی تمام مہر مثلھاوالقول قول الزوج فیمازاد علی مھر المثل ......ولوکان الاختلاف فی اصل المسمی یجب مھر المثل الاجماع.
عن ثوبان رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیما امرأۃ سألت زوجہا طلاقاً في غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶، سنن الترمذي رقم: ۱۱۸۷)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 366)
الوكيل بالنكاح عند أبي حنيفة رحمه الله يملك النكاح بأي مهر شاء، وعندهما تنفيذ التوكيل بمهر المثل.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 366)
عند أبي حنيفة رحمه الله تصرف المأمور بغبن فاحش إنما ينفذ على الأمر إذا انتفت التهمة، أما إذا لم تنتفِ فلا، ألا ترى أن الوكيل بالشراء لا يتحمل منه الغبن الفاحش لما كان متهماً.
إذا ثبت هذا فقبول التهمة في حق الوكيل بالنكاح منتفية؛ لأنه لا يرجع إليه بشيء من منافع العقد ليتحمل العين لتحصيل منفعة تعود إليه
المبسوط للسرخسي (19/ 117)
[باب الوكالة في النكاح] (قال: - رحمه الله -) رجل، وكل رجلا بأن يزوجه امرأة بعينها فزوجها إياه بأكثر من مهر مثلها؛ جاز في قول أبي حنيفة - رحمه الله -؛ بناء على أصله أن المطلق يجري على إطلاقه حتى يقوم دليل التقييد، وعندهما لا يلزمه النكاح إذا زاد أكثر مما يتغابن الناس فيه؛ لأن التقييد عندهما يثبت بدليل العرف، وفرق أبو حنيفة - رحمه الله - بين هذا وبين الوكيل بالشراء، فإن هناك إذا زاد يصير مشتريا لنفسه؛ لأنه لم يضف أصل العقد إلى الموكل، وإنما أضافه إلى نفسه فتتمكن التهمة في تصرفه من حيث إنه قصد الشراء لنفسه، ولما علم بغلاء الثمن حوله إلى الآمر، وفي النكاح يضيف العقد إلى الموكل فلا تتمكن فيه التهمة، ولو أضاف العقد إلى نفسه بأن تزوجها كانت امرأته دون الموكل بخلاف الشراء؛ فإن هناك يجوز أن يثبت حكم العقد لغير من يضاف إليه العقد، ولا يجوز مثله في النكاح بل يثبت الملك لمن يضاف إليه العقد.......ووجوب المال على الزوج من ضرورة ما أمر به الوكيل وهو النكاح قال الله تعالى {: أن تبتغوا بأموالكم} [النساء: 24] ؛ ، ثم هذا عند أبي حنيفة - رحمه الله - لا يشكل وعندهما كذلك فإن التوكيل عندهما يتقيد بالنقد بدليل العرف والعرف في الصداق مشترك فيصح تسمية النقد وغير النقد حتى إذا زوجه على بيت وخادم أو على عشرة أكرار حنطة موصوفة أو غير موصوفة فذلك جائز، كما لو باشره الموكل بنفسه وكذلك لو زوجه على جراحة جرحها الزوج ولها أرش جاز؛ لأن الواجب من الأرش دراهم أو دنانير، فتسمية ذلك كتسمية الدراهم، ثم يصير قصاصا بأرش الجراحة.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 370)
(قوله وللمرأة أن تمنع نفسها من الدخول بها ومن أن يسافر بها حتى يوفيها معجل مهرها ليتعين حقها في البدل كما تعين حقه في المبدل) يعني ولا يتعين حقها إلا بالتسليم... (أي المعجل منه) يتناول المعجل عرفا وشرطا، فإن كان قد شرط تعجيل كله فلها الامتناع حتى تستوفيه كله أو بعضه فبعضه، وإن لم يشترط تعجيل شيء بل سكتوا عن تعجيله وتأجيله، فإن كان عرف في تعجيل بعضه وتأخير باقيه إلى الموت أو الميسرة أو الطلاق فليس لها أن تحتبس إلا إلى تسليم ذلك القدر. قال في فتاوى قاضي خان: فإن لم يبينوا قدر المعجل ينظر إلى المرأة وإلى المهر أنه كم يكون المعجل لمثل هذه المرأة من مثل هذا المهر فيعجل ذلك ولا يتقدر بالربع والخمس بل يعتبر المتعارف فإن الثابت عرفا كالثابت شرطا، بخلاف ما إذا شرط تعجيل الكل إذ لا عبرة بالعرف إذا جاء الصريح بخلافه، ومثل هذا في غير نسخة من كتب الفقه، فما وقع في غاية البيان من إطلاق قوله فإن كان يعني المهر بشرط التعجيل أو مسكوتا عنه يجب حالا، ولها أن تمنع نفسها حتى يعطيها المهر ليس بواقع، بل المعتبر في المسكوت العرف.
سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)
عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .
قال اللّٰہ تعالیٰ:
{فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} (البقرۃ: ۲۲۹)قد صرح في الخانیۃ: بأنہا لو أبرأتہ عمالہا علیہ علی أن یطلقہا، فإن طلقہا جازت البراء ۃ وإلا فلا۔ (شامي ۵؍۱۰۷ زکریا، ۳؍۴۵۴)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 254)
وإذا عجز الزوج عما وجب عليه من النفقة على التفصيل السابق، وطلبت الزوجة التفريق بينها وبين زوجها بسبب ذلك، فعند المالكية والشافعية والحنابلة يفرق بينهما.وذهب الحنفية إلى أنه لا يفرق بينهما بذلك، بل تستدين عليه، ويؤمر بالأداء من تجب عليه نفقتها لولا الزوج.
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 67)
للمرأة حق طلب التفريق بينها وبين زوجها لعجزه عن الإنفاق، فإن امتنع فرق الحاكم بينهما.وإليه ذهب المالكية وهو الأظهر عند الشافعية والصحيح عند الحنابلة .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١۳/۴/۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


