03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وائس میسج میں دی گئیں تین طلاقوں کا حکم
88998طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری بہن ماں کے گھر پر تھی، اس کے شوہر نے وائس میسج پر ایک ساتھ تین بار طلاقیں دیں، اب وہ ضد کر رہا ہے کہ یہ ایک طلاق شمار ہوتی ہے ، نازک مسئلہ ہے، براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔

واضح رہے کہ  اس سے ایک سال پہلے بھی شوہر نے ایک طلاق ان الفاظ میں دی تھی کہ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"،لیکن اس کے بعد رجوع کرلیاتھا۔

وائس میسج میں یہ جملے بولے ہیں :"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صحابہ کرام سے لے کر آج تک ائمہ اربعہ سمیت جمہور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ،خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتاوی بھی اسی کے مطابق ہیں ،اس لئے اس حوالے سے غیر مقلدین کی رائے کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش نہیں ہے، جس کی مدلل تردید پر علماء نے مفصل کتابیں لکھی ہیں ،تفصیل کے لئے دیکھیں:" الطلقات الثلاث" ،مولانا سرفراز خان صفد ر رحمہ اللہ  کی ،مسئلہ طلاق ثلاثہ ،مصنف مولانا شفیع اوکاڑوی صاحب اور"طلاق ثلاثہ صحیح ماخذ کی روشنی میں" جس کے مصنف مولانا حبیب قاسمی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند  ہیں ،نیز" فتاوی محمودیہ:" 12\374اور "خیرالفتاوی": 5\30 پر بھی اس موضوع پر تفصیلی بحث موجود ہے۔

لہذا ایک طلاق دینے کے بعد شوہر کے پاس جن دو طلاقوں کا اختیار تھا ،مذکورہ  وائس میسج کے ذریعے وہ واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد  بیوی شوہر پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اور موجودہ حالت میں اب ان دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہا۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]

"صفوة التفاسير" (1/ 131):

"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .

{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".

"البحر الرائق " (3/ 257):                                                                                                                                                    

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

18/جمادی الاولی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب