03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجدکی تولیت کےلیے کون اہل ہوگا؟
88671وقف کے مسائلقبرستان کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

متولی مسجد بننےکا اہل کون ہوگا؟اس میں کونسی شرائط کاپایاجاناضروری ہے؟اوراگرکسی شخص میں متولی بننے کی شرائط نہ پائی جائیں اس کے باوجودوہ زبردستی اس منصب پر قائم رہے تواس کاکیاحکم ہوگا؟

ہمارے ہاں عمومامسجد کا متولی وہ بنتاہے یا بنایاجاتاہے جو مسجد کے لیے جگہ وقف کرے یا مسجدکی تعمیر واخراجات میں زیادہ تعاون کرے ،پھر مسجد کے تمام امورمیں وہ اپنی ہی بات منواتاہے، خواہ درست ہویا غلط۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وقف کرنے والااپنے آپ کوبشرطیکہ اہل ہویا جس کو بھی متولی بنانا چاہے بنا سکتا ہے،بہتر ہے کہ اہل محلہ کی مشاورت سے کسی اہل شخص کو متولی  بنایاجائے ۔اگر  واقف کے خاندان میں ایسے لوگ موجود ہوں جو متولی بننے کے اہل ہوں تو وہی متولی بنیں گے ۔ان کے ہوتےہوئےان کی اجازت کے بغیر دوسروں کو متولی نہیں بنایا جائے گا۔

   علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں:’’أن شرط الواقف معتبر فیراعی‘‘ترجمہ: واقف کی شرط معتبر ہوتی ہے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا۔ )رد المحتار ،جلد6 ،صفحہ582،مطبوعہ کوئٹہ(

مسجد یا کسی بھی وقف کے متولی کے لئے چند شرائط ہیں:١، متولی امانت دار ہو،۲۔ وقف کا کام کرنے پر قادر ہو،خواہ خود کرے یا کسی سے کرائے۔۳۔ عاقل ہو۔۴۔بالغ ہو۔

اگرمتولی کے اندراہلیت نہ رہے تو اہل محلہ کوچاہیے کہ ان کو مٕعزول کرکے اسی کے خاندان میں سے دوسرے اوراگراس کے خاندان میں ایسافرد نہ ہو تو دیگراہل محلہ میں  سےکسی اہل کوجوتولیت کےلیے اس سےافضل ہو مقررکرے،ایسی صورت  میں متولی لیے بھی زبردستی اس منصب پر قائم رہناجائزنہیں ہے، بلکہ اس پر لازم ہےکہ تولیت سے الگ ہوکرکسی اہل کےلیے اس منصب کو خالی کرے۔

حوالہ جات

و فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ:

و لو جعل الواقف ولایۃ الوقف لرجل کانت الولایۃ لہ کما شرط الواقف،و لو اراد الواقف اخراجہ کان لہ ذلک اھ (8/58)۔

رد المحتار :

ولا یولي إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه، .......و يشترط للصحة بلوغه و عقله لا حريته و إسلامه. [ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ٣٨٠/٤]

قال العلامةالحصکفی رحمہ اللہ: (جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد ،فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب .نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان،وإلا فللحاكم.

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:

قوله: (جاز بالإجماع) :كذا ذكره الزيلعي وقال: لأن شرط الواقف معتبر فيراعى ،لكن الذي في القدوري أنه يجوز على قول أبي يوسف، وهو قول هلال أيضا وفي الهداية أنه ظاهر الرواية، وقد رد العلامة قاسم على الزيلعي دعواه الإجماع بأن المنقول أن اشتراطها يفسد الوقف عند محمد كما في الذخيرة ،ونازعه في النهر وأطال وأطاب.(ردالمحتار مع در المختار:6/577)

قال العلامةالحصکفی رحمہ اللہ:

(وينزع) وجوبا ،بزازية (لو) الواقف،درر، فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه .

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:

قوله:( غير مأمون ): قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه ؛لأن الولاية مقيدة بشرط النظر، وليس من النظر تولية الخائن ؛لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز؛ لأن المقصود لا يحصل به، ويستوي فيه الذكر والأنثى ،وكذا الأعمى والبصير، وكذا المحدود في قذف إذا تاب ؛لأنه أمين.

ردالمحتار مع در المختار: (6/580،579،578)

قال العلامةالحصکفی رحمہ اللہ: (وما دام أحد يصلح للتولية من أقارب الواقف لا يجعل المتولي من الأجانب) ؛لأنه أشفق.

قال العلامہ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله :(وما دام أحد ) :المسألة في كافي الحاكم ونصها: ولا يجعل القيم فيه من الأجانب ما وجد في ولد الواقف وأهل بيته من يصلح لذلك، فإن لم يجد فيهم من يصلح لذلك، فجعله إلى أجنبي ،ثم صار فيهم من يصلح له صرفه إليه.

ردالمحتار مع در المختار: ( 6/637)

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: وقالوا: من طلب التولية على الوقف ،لا يعطى له ،وهو كمن طلب القضاء لا يقلد اهـ .والظاهر: أنها شرائط الأولوية لا شرائط الصحة .

ردالمحتار مع در المختار (6/579(:

قال جماعةمن العلماء:رجل طلب التولية فی الأوقاف ،قالوا:لایعطی لہ التولية، وهو كمن طلب القضاء لا يقلد.( فتاوی ھندیة:3/296)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

20/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب