03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دخول اورخلوتِ صحیحہ سے پہلےدی جانے والی تین متفرق طلاقوں کا حکم
88730طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

زید کا نکاح ایک لڑکی سے جولائی 2025ء میں ہوا ہے۔ اس کے بعد زید اس لڑکی سے دس سے پندرہ مرتبہ چُھپ کر ملا ہے، جن ملاقاتوں کا دورانیہ کبھی دس یا پندرہ منٹ، اور کبھی کبھار آدھا گھنٹہ بھی ہوتا۔یہ ملاقاتیں لڑکی کے گھر کے نچلے حصے (پورشن) میں ہوتی تھیں، جو عموماً خالی رہتا تھا۔ اس حصے میں مہمان آتے تھے، لڑکی کا والد کبھی کبھار وہاں آرام کرتا تھا، لڑکی کے بھائی وہاں غسل کرتے تھے، اور پانی کی موٹر بھی وہیں نصب تھی، جسے چلانے کے لیے کبھی بھی کسی کے آنے کا اندیشہ رہتا تھا۔اسی جگہ گھر کی صفائی کا سامان اور لڑکی کے بھائیوں کی موٹر سائیکلیں بھی رکھی ہوتی تھیں۔ اوپر والے رہائشی حصے سے نچلے حصے کی طرف ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ تھا، جس کا لاک کمزور تھا اور دھکا دے کر توڑا بھی جا سکتا تھا۔لڑکا ہر وقت کسی کے اچانک آجانے کے خوف میں رہتا تھا، اسی وجہ سے اب تک میاں بیوی میں صحبت نہیں ہوئی۔ اگر کبھی لڑکے نے اس کی خواہش ظاہر کی تو لڑکی نے درد یا دیگر عذر کا بہانہ بنا کر، اور اوپر سے کسی کے آنے کا اندیشہ ظاہر کر کے، انکار کر دیا۔اسی دوران لڑکی والوں نے لڑکے سے عرف و سماج کے مطابق کپڑوں وغیرہ کے تحائف کا تقاضا کیا، جو عام طور پر لڑکے لڑکیوں کو سال میں ایک دو مرتبہ دیتے ہیں۔لڑکا چونکہ تعلیم میں مصروف تھا، اس لیے وہ یہ مطالبہ پورا نہ کر سکا۔ اس پر لڑکی نے بھی بار بار تقاضا کیا، جس پر لڑکے نے غصے میں آ کر لڑکی کو میسج بھیجا:“په ما طلاقه یی، طلاقه یی، طلاقه یی” (یعنی: تمہیں طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔

واضح رہے کہ لڑکا ڈپریشن کا مریض ہے، اس نے انتہائی مجبوری اور ذہنی دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ اب میاں بیوی دونوں سخت پریشان ہیں۔آپ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اوپر والے رہائشی حصے سے نچلے حصے کی طرف کھلنے والے لکڑی کے دروازے کا تالا اگر حقیقتاً اتنا کمزور تھا کہ کوئی بھی معمولی دھکا دے کر اسے کھول کر نیچے آسکتا تھا، اور میاں بیوی ہر وقت کسی کے اچانک اندر آنے کے خوف میں مبتلا تھے، اور انہیں ایسی خلوت نصیب نہیں ہوئی جیسے وہ چاہتے تھے، تو ایسی صورت میں ان دونوں کے درمیان شرعاً خلوتِ صحیحہ متحقق نہیں ہوئی۔

لہٰذا عورت غیر مدخول بہا شمار ہوگی۔ چنانچہ جب شوہر نے اسے تین الگ الگ الفاظ کے ساتھ تین طلاقیں دیں، تو ان میں سے پہلی طلاق واقع ہوگئی۔

چونکہ عورت غیر مدخول بہا تھی اور اس پر عدت لازم نہیں تھی، لہٰذا یہ طلاق بائن ہوگئی، اور اس کے بعد محلِ طلاق ختم ہوگیا۔ اس لیے بعد میں دی جانے والی دوسری اور تیسری طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔

لہٰذا مسئولہ صورت میں صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے۔ اب میاں بیوی باہمی رضامندی سے،نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرسکتے ہیں، البتہ اس کے بعد شوہر کوصرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

حوالہ جات

فی ردالمحتار تحت : ( قولہ و بیت بابہ مفتوح ):

أی بحیث لو نظر إنسان رآھما ، وفیہ خلاف ، ففی مجموع النوازل : إن کان لایدخل علیھما إلا بإذن فھی خلوۃ ، و اختار فی الذخیرۃ أنہ مانع و ھو الظاھر بحر ، و وجھہ أن إمکان النظر مانع بلاتوقف علی الدخول ، فلافائدۃ فی الإذن و عدمہ إلخ ( ج 3 ، ص 116 )

و فی الفتاوی الخانیۃ :

لاتصح الخلوۃ إذا خافا اطلاع الغیر علیھما فإن امنا عن ذلک صحت الخلوۃ إلخ ( ج 1 ، ص 397 ، ط : ماجدیۃ )

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 162):

وقد شرط المصنف في إقامتها مقام الوطء شروطا ترجع إلى أربعة أشياء الخلوة الحقيقية وعدم مانع حسي وعدم مانع طبعي وعدم مانع شرعي من الوطءفالأول للاحتراز عما إذا كان هناثالث ... واختلف في البيت إذا كان بابه مفتوحا أو طوابقه بحيث لو نظر إنسان رآهما ففي مجموع النوازل إن كان لا يدخل عليهما أحد إلا بإذن فهي خلوة واختار في الذخيرة أنه مانع وهو الظاهر.

الفتاوى الهندية (1/ 305):

والمكان الذي تصح فيه الخلوة أن يكونا آمنين من اطلاع الغير عليهما بغير إذنهما كالدار والبيت كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان ولا تصح الخلوة في الصحراء ليس بقربهما أحد إذا لم يأمنا مرور إنسان وكذا لو خلا على سطح ليس على جوانبه ستر أو كان الستر رقيقا أو قصيرا بحيث لو قام إنسان يقع بصره عليهما لا تصح الخلوة إذا خافا هجوم الغير فإن أمنا صحت الخلوة، كذا في الظهيرية ولو خلا بها في الطريق إن كانت جادة لا تصح، وإن لم تكن صحت هكذا في السراج الوهاج ولا تصح الخلوة في المسجد والحمام فإن حملها إلى الرستاق إلى فرسخ أو فرسخين وعدل بها عن الطريق كان خلوة في الظاهر.وفي البيوتات الثلاثة أو الأربعة واحد بعد واحد إذا خلا بامرأته في البيت القصوى إن كانت الأبواب مفتوحة من أراد أن يدخل عليهما من غير استئذان لا تصح الخلوة وكذا لو خلا بها في بيت من دار وللبيت باب مفتوح في الدار إذا أراد أن يدخل عليهما غيرهما من المحارم أو الأجانب يدخل؛ لا تصح الخلوة، كذا في فتاوى قاضي خان.

وفی الشامیة:

"(وَإِنْ فَرَّقَ)  بِوَصْفٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ)". (3/286، با ب طلاق غیر المدخول بھا، ط: سعید)  

وفی الدرالمختار ( ۱۱۴/۳۔۱۱۸):

ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا.

وفی الاشباہ والنظائر :

"ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي." (قاعدة: من شك هل فعل أم لا؟ص: 52،ط:العلمية)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١٦/۴/١۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب