| 88737 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
جماعت کی نمازمیں مقتدی کابلندآوازسے تکبیرتحریمہ کہناکہ ساتھ والے کوصاف طورپرسنائی دے کیساہے؟کیایہ عمل درست ہے؟نمازکے مسائل پرکوئی کتاب بھی بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مقتدی اورانفرادی نمازپڑھنے والے کوتکبیرتحریمہ آہستہ آوازمیں کہنی چاہیے،اتنی بلندآوازسے تکبیرتحریمہ کہناجس سے دوسروں کوتکلیف ہومکروہ ہے،البتہ اس سے نمازمیں کوئی فسادنہیں آتا،نمازہوجاتی ہے۔
مسائل کے لئے تسہیل بہشی زیور(تالیف حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی وتسہیل اساتذہ جامعۃ الرشید )کامطالعہ بہت مفیدہے۔
حوالہ جات
وفی رد المحتار:(475/1)
وجهر الإمام بالتكبير بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال. وكذا بالتسميع والسلام. وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه.
(قوله: بقدر حاجته للإعلام إلخ) وإن زاد كره ... وأشار بقوله: والانتقال إلى أن المراد بالتكبير هنا ما يشمل تكبير الإحرام وغيره، وبه صرح في الضياء. ... والزائد على قدر الحاجة كما هو مكروه للإمام يكره للمبلغ۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۸/ربیع الثانی۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


