| 88742 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب امید کرتا ہوں آپ بخیریت ہونگے سوال یہ کہ ایک غیر محرم لڑکی کی غیر محرم لڑکے (یاسین بن الیاس خان )کے ساتھ تعلقات تھے بعد میں لڑکے نے لڑکی سے تعلق ختم کرنے کا ارادہ کیا وہ لڑکی اس لڑکے سے پیار کرتی تھی لڑکی نے لڑکے کو کہا کہ تو تو میرے لئے اللہ ہے مفتی صاحب اب لڑکی کے لئے کیا حکم ہے کیا اس بات پر لڑکی صرف گناہگار ہوئی یا دائرہ اسلام سے بھی خارج ہوئی برائے کرم رہنمائی فرمایئے المستفتی سید صدام بن عبدالسید
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی انسان کو "اللہ" کہنا کفرہے، کیونکہ "اللہ" خالصتاً رب کریم کا ذاتی نام ہے۔ یہ ایسا علمِ ذات ہے جو صرف ربِ کریم کے لیے مخصوص ہے ۔پھرکسی انسان کے لیےلفظ"اللہ" استعمال کرنا درحقیقت اس کے لیے الوہیت کا دعوی کرنا ہے،جوکہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد کے سراسر منافی ہے ۔اور ایسا کہنا واضح کفر کے زمرے میں آتا ہےخاص طور موجودہ صورتحال میں بظاہروہ سوچ سمجھ کر لڑکے کو اعتماد دلانے کے لیے یہ کہ رہی ہےکہ نعوذباللہ اللہ تعالی کے مقابلے میں بھی تمہاری بات مانوں گی۔
لہذا اس لڑکی کا لڑکے کو ایسا صریح کلمہ کہنا ایمان کے منافی ہے۔ اس لڑکی پر لازم ہے کہ فوراً توبہ و استغفار کرتے ہوئے تجدیدِ ایمان کرے۔
یادرہےکہ کسی غیر محرم مرد و عورت کا ناجائز تعلق رکھنا شرعاً حرام ہے۔ اسلام نے اس کے حل کے طور پر نکاح کا پاکیزہ راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے، جو انسانی فطرت اور معاشرتی نظام کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔تجدید ایمان کے بعد آیندہ کے لیے یا تو نکاح کا پاکیزہ راستہ اختیار کرے یا کم از کم حرام تعلق ختم کریں۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 688):
من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 230):
أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط.
شرح كتاب الفقه الأکبر(ص(316:
ثم قال لواحد من الجبابرة: "يا إله" أو "يا إلهي" — كفر. أقول: وإنما قيد بكونه من الجبابرة لأنه يكفر، مع أنه من أرباب الإكراه، فغيره بالأولى.ومَن قال لمخلوق : يا قدوس أو القيوم أو الرحمن، أو قال اسما من أسماء الخالق كفر.
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
24/ربیع الثانی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


