| 88747 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال 1997ء میں ہوا۔انہوں نے ترکے میں نہ کوئی جائیداد چھوڑی اور نہ ہی نقدی۔والد صاحب ایک سرکاری ریٹائرڈ ملازم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد پینشن کے پیسے والدہ اور بڑے بھائی ظفر اللہ لیتے رہے۔
میں نے اس کے بعد خود کام کرنا شروع کیا، روزانہ مزدوری کی، اور اپنی کمائی سے رقم جمع کی۔ جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو میں نے اپنا کاروبار شروع کیا۔ پھر 2004ء میں میں نے اپنی والدہ اور بڑے بھائی ظفر اللہ کے ساتھ حج ادا کیا، اور اسی سال خود بھی عمرہ کیا۔ان دونوں کے حج کے اخراجات بھی میں نے ہی اٹھائے۔
اس کے بعد جب میرا بھائی عنایت اللہ ہمارے ساتھ شامل ہوا (یعنی ہمارے ساتھ رہنے لگا) تو اس نے کمروں کی چھت کے سامان کی قیمت میرے ذمے لگائی، اور وہ میں نے1,50,000 روپے میں خرید کر دی۔ میں، حاجی اقبال، نے اسے مزید 4,00,000 روپےبھی دیے۔ بعد میں عنایت اللہ ہمارے گھر سے چلا گیا۔
میرا اور عنایت اللہ کا کوئی کاروبار بھی مشترک نہیں تھا۔ پھر 2020ء میں عنایت اللہ نے دعویٰ کیا کہ اسے میراث کا حق دیا جائے، حالانکہ وہ یہ دعویٰ صرف مجھ پر کرتا ہے، دوسرے بھائیوں پر اس کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ جبکہ وہ خود اقرار کرتا ہے کہ ہمارے والد کی طرف سے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ والد صاحب کی صرف ایک نوکری تھی۔لہٰذا والد صاحب کی طرف سے نہ کوئی زمین، نہ جائیداد، نہ نقدی باقی تھی۔
اب سوال یہ ہےکہ:
کیا عنایت اللہ کا شرعاً مجھ پر کوئی حق ہے؟براہِ کرم شرعی فتویٰ دے کر رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ وراثت کا تعلق صرف اس مال سے ہوتا ہے جومورث (مرحوم) کی ملکیت میں وفات کے وقت موجود ہو۔
چونکہ بقول آپ کے آپ کے والد صاحب کی ملکیت میں وفات کے وقت کوئی مال یا جائیداد نہیں تھی، لہٰذا ان کی وفات کے بعد جو کچھ آپ (محمد اقبال) نے اپنی ذاتی محنت و کمائی سے حاصل کیاہے، وہ آپ کی اپنی ذاتی ملکیت ہے، اس میں کسی بھائی یا بہن کا شرعاً کوئی حصہ نہیں۔لہٰذاعنایت اللہ کا آپ پر شرعاً کوئی حق یا حصہ نہیں بنتا۔اس کا وراثت کا دعویٰ بے بنیاد اور ناجائز ہے، کیونکہ والد کی طرف سے کوئی ترکہ باقی نہیں تھا۔
ہاں اگردعوی کرنےوالا بھائی عنایت اللہ گواہوں سے یہ بات ثابت کردے کہ والد صاحب نے ترکہ چھوڑاتھا اوریہ کاروبا آپ نے اس ترکہ سے بنایاہے تو پھربلاشبہ اس میں اس کا بھی حصہ ہوگا ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 370)
لأن ميراث الميت ما تركه الميت، والدين الوصية لا ينافي كونه متروك الميت؛ لأنهما إنما يقضيان من متروك الميت.
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350)
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 229)
المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه.
وفی السنن الکبری للبیھقي
عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)
عن علی بن زید عن أبي حرۃ الرقاشيؓ عن عمہ: أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: ألا ! لایحل مال إمرئ مسلم إلا بطیب نفس منہ۔ (شعب الإیمان للبیہقي، باب في قبض الید عن الأموال المحرمۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/۳۸۷، رقم:۵۴۹۲)
وفی ردالمحتار:
وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ: رجل تصرف زمانا فی أرض و رجل آخر یریٰ الأرض والتصرف ولم یدع ومات علی ذٰلک لم تسمع بعد ذٰلک دعویٰ ولدہ فتترک علی ید المتصرف الخ، ثم اعلم أنہ نقل العلامۃ ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ عن المبسوط: إذا ترک الدعویٰ ثلاثا و ثلاثین سنۃ ولم یکن مانع من الدعویٰ ثم ادعیٰ لاتسمع دعواہ لأن ترک الدعویٰ مع التمکن یدل علی عدم الحق ظاہرا ومثلہ فی البحر، وفی جامع الفتاویٰ: وقال المتأخرون من أہل الفتاویٰ: لا تسمع الدعویٰ بعد ست و ثلاثین سنۃ۔ (شامی، کتاب الخنثی، کراچی ۶/۷۴۲، زکریا ۱۰/۴۶۸)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲۵/۴/١۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


