03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسرائیلی مصنوعات اور ایپلی کیشنز استعمال کرنا اور دراز پر خریدوفروخت
88743خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 اسرائیلی پروڈکٹس اور جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، ان کی پروڈکٹس کو ضرورت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟اور میں نے داراز ایپ پر آرٹیفیشل جیولری بیچنی ہے، لیکن داراز ایپ پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے اور پلے اسٹور بائیکاٹ لسٹ میں شامل ہے۔تو داراز ایپ کو پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کرنا جائز ہے یا نہیں؟اور داراز ایپ پر سامان بیچنا جائز ہے یا نہیں؟نیز واٹس ایپ اور گوگل کو ضرورت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟جبکہ یہ امریکا نے بنایا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسی اشیاء جو غیر ملکی یا اسرائیلی کمپنیاں بناتی ہیں اور جن کے ہمارے ہاں متبادل وافر مقدار میں موجود نہیں، ضرورت و حاجت کی بنا پر ان کا استعمال جائز ہے۔ البتہ بلا وجہ اپنی مقامی مصنوعات چھوڑ کر غیر مسلموں کی مصنوعات خریدنا اسلامی غیرت کے خلاف ہے۔

اسی طرح جدید ٹیکنالوجی کے متعلق بھی یہی حکم ہےکہ  جب تک ہم خود وہ اشیاء یا ایپس، کمپیوٹر، موبائل یا جدید جنگی سازوسامان تیار نہیں کر سکتے، ضرورت کے وقت اُن کا استعمال جائز ہے۔مگر ساتھ ہی کوشش ہونی چاہیے کہ اُن کا مقامی متبادل خود بنالیا جائے۔

     یہ یاد رہے کہ بسا اوقات خاص حالات کی وجہ سے علماء کفار کی اشیاء کی خرید وفروخت کو نا جائز قرار دیتے ہیں،جو  ان حالات کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ لہذا اگر حالات ایسے ہوں اور علماء کفار کی اشیاءخریدنے کو نا جائز قرار دیں تو پھر اس پر عمل کیا جائےگا۔

حوالہ جات

سورة التوبة،( 120) الآية

قال الله تعالی:"ولا ينالون من عدو نيلا إلا كتب لهم به عمل صالح..."الآية

صحيح البخاري (3/ 64) حدیث  (2114)

قال حكيم بن حزام رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فإن صدقا و بينا بورك لهما في بيعهما وإن كذبا و كتما محقت بركة بيعهما"

الأشباه والنظائر للسيوطي (ص: 60)
قاعدة: الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم.

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 73)
 قاعدة: الضرورات تبيح المحظورات .

جواہر الفقہ (362/355/5)

"بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں.. روایاتِ حدیث و فقہ کے دیکھنے اور حالاتِ موجودہ پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوا کہ اس وقت باوجود اباحت فی نفسہا کے مسلمانوں کے لیے اپنی دکانیں چھوڑ کر غیر مسلموں سے سامان خریدنا ہرگز جائز نہیں"۔

محمد شاہ جلال

دارالافتاء،جامعۃ الرشید،کراچی

24/ربیع الآخر/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب